خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین احمد کنڈی کی زیر صدارت منگل کے روز پشاورمیں منعقد ہوا۔اجلاس میں وفاق کے ذمہ نیٹ ہائیڈل منافع (NHP)، بجلی کی مد میں صوبے کے بقایاجات، مشترکہ مفادات کونسل کے کردار، چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبے سے متعلق صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کی جانب سے صوبے میں موبائل نیٹ ورکس کی کارکردگی، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ادائیگیوں اور گندھارا تہذیب سے متعلق وفاق اور صوبے کے درمیان امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین قائمہ کمیٹی احمد کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے آئینی اور مالی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام صوبائی سیاسی جماعتیں متحد ہیں اور وفاق سے صوبے کے جائز حقوق کے حصول کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور وفاق خیبر پختونخوا کے بجلی بقایاجات کی ادائیگی میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔انہوں نے ہدایت کی کہ صوبائی محکمہ خزانہ اس معاملے پر اپنی سفارشات صوبائی اسمبلی کو ارسال کرے تاکہ آئینی حقوق کے حصول کے لیے مؤثر پیش رفت کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کو اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔احمد کنڈی نے کہا کہ 2014 سے مشترکہ مفادات کونسل کا باقاعدہ اجلاس نہ ہونا افسوسناک ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے سیکرٹری خزانہ سے استفسار کیا کہ اے جی این قاضی فارمولے کے تحت اب تک صوبے کو بجلی کے مد میں کتنی رقم موصول ہوئی ہے۔انہوں نے محکمہ بین الصوبائی رابطہ کو ہدایت کی کہ قائمہ کمیٹی کے توسط سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو خط ارسال کیا جائے تاکہ وہ وزیراعظم پاکستان سے صوبائی حقوق، بالخصوص بجلی بقایاجات کے معاملے پر اجلاس کے لیے وقت حاصل کریں۔اجلاس میں صوبہ بھر میں موبائل نیٹ ورکس کی غیر تسلی بخش کارکردگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے پی ٹی اے اور متعلقہ ٹیلی کام کمپنیوں کے حکام کو ہدایت کی کہ عوام کو درپیش مسائل کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور منتخب اراکین اسمبلی کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جائے۔اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی اکرام اللہ غازی نے اپنے حلقے میں موبائل نیٹ ورک کی ناقص کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ پی ٹی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ریجنل طارق خان نے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور صوبے کے دیگر علاقوں میں نیٹ ورک مسائل جلد از جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔احمد کنڈی نے عوام کو خوشخبری دیتے ہوئے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت انگوٹھے کی تصدیق سے متعلق مسائل حل ہو چکے ہیں اور تمام اضلاع میں مستحقین کو رقوم کی ادائیگی کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ گندھارا تہذیب کے تحفظ اور فروغ کے حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت صوبائی اسمبلی میں ایک قرارداد بھی پیش کرے گی۔اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی اکرام اللہ غازی، ریحانہ اسماعیل، ناہیدہ نور اور احسان اللہ نے شرکت کی، جبکہ سیکرٹری خزانہ مشرف رسول، سیکرٹری توانائی و برقیات نثار خان، ڈی جی کلچر اینڈ ٹورازم حبیب عارف، سیکرٹری قانون جاوید اورکزئی، ایڈیشنل سیکرٹری آئی پی سی نعیم درانی، ایڈیشنل سیکرٹری اسمبلی، پی ٹی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ریجنل طارق خان اور مختلف موبائل کمپنیوں کے نمائندے بھی اجلاس میں موجود تھے۔
