لائیوسٹاک کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوام کو معیاری وٹرنری سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، محمد خورشید خٹک

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے لائیو سٹاک محمد خورشید خٹک کی زیر صدارت محکمہ لائیو سٹاک، فیشریز و امداد باہمی کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک توسیع ڈاکٹر اصل خان، ڈائریکٹر جنرل لائیوسٹاک ریسرچ ڈاکٹر اعجاز علی، ڈائریکٹر لائیو سٹاک ضم اضلاع ڈاکٹر میر احمد، وائس چانسلر ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز یونیورسٹی سوات ڈاکٹر شکیب اللہ سمیت محکمہ لائیو سٹاک کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کو سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ محکمہ لائیوسٹاک کے تحت مجموعی طور پر 41 ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے، جن میں 24 جاری جبکہ 17 نئے منصوبے شامل ہیں۔معاون خصوصی خورشید خٹک نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صوبے بھر میں ایسے تمام وٹرنری ہسپتالوں کی جامع رپورٹ پیش کی جائے جن کی عمارتیں خستہ حال یا ناقابلِ استعمال ہیں، تاکہ ان کی بحالی اور بہتری کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کی جا سکے۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی محمد خورشید خٹک نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں حکومت لائیوسٹاک کے شعبے کی ترقی اور مویشی پال کسانوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ محمد خورشید خٹک نے اجلاس میں ہدایت کی کہ ملک ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کی استعداد کار میں اضافے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ دودھ کے معیار اور خوراک کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں پر کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ ان کے ثمرات بروقت عوام تک پہنچ سکیں۔معاون خصوصی لائیو سٹاک نے مزید کہا کہ مویشی پال زمینداروں کی سہولت کے لیے صوبے بھر میں باقاعدگی سے وٹرنری کیمپ منعقد کیے جائیں، جہاں جانوروں کی تشخیص، علاج اور حفاظتی ٹیکہ جات کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی خصوصی ہدایات پر وہ خود صوبے کے مختلف اضلاع کا دورہ کریں گے اور وٹرنری ہسپتالوں، ڈسپنسریوں اور دیگر سروسز کا تفصیلی جائزہ لیں گے تاکہ عوام کو معیاری اور بروقت وٹرنری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔بریفنگ میں اجلاس کو بتایا کیا گیا کہ نئے منصوبوں میں ڈی وی ایم گریجویٹس کو بلاسود قرضوں کی فراہمی، گوشت کی پیداوار میں اضافے، بائیو گیس کے فروغ، جبکہ بھیڑ اور بکریوں کی نسلوں کی بہتری اور ان پر تحقیق سے متعلق منصوبے شامل ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد لائیوسٹاک کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا، پیداواری صلاحیت میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور مویشی پال حضرات کی معاشی حالت کو بہتر بنانا ہے۔

مزید پڑھیں