وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند کی زیر صدارت کھیلوں کے سالانہ ایونٹس، باصلاحیت کھلاڑیوں کی سرپرستی، مختلف مدات کے اخراجات اور آئندہ مالی سال 2026-27 کے پی سی ونز سے متعلق اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری کھیل و امورِ نوجوانان محمد آصف، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر، ڈائریکٹر اکاؤنٹس فیصل، چیف پلاننگ آفیسر (سی پی او) اور محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں سال 2026-27 کے مجوزہ کھیلوں کے پروگرام، مختلف سپورٹس ایونٹس اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ مشیر کھیل تاج محمد خان ترند نے ہدایت کی کہ جہاں بھی حکومتی وسائل کی بچت ممکن ہو وہاں ہر ممکن کفایت شعاری اختیار کی جائے تاکہ عوامی وسائل غیر ضروری اخراجات پر صرف نہ ہوں۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سکولوں میں کھیلوں کے فروغ کے لیے ڈائریکٹر ایجوکیشن (سپورٹس) کے ساتھ مشترکہ اجلاس منعقد کیا جائے تاکہ سکول سطح پر کھیلوں کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے، جبکہ کالجوں میں باسکٹ بال، والی بال اور فٹبال سمیت دیگر کھیلوں کے باقاعدہ مقابلوں کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔مشیر کھیل نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں ہر کھیل کے لیے اوپن میرٹ پر ٹرائلز منعقد کیے جائیں، سفارشی کلچر کا خاتمہ کرکے میرٹ اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں کھلاڑیوں کی آن لائن ڈیٹا انٹری اور رجسٹریشن کے نظام کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر نے بتایا کہ کھلاڑیوں کی رجسٹریشن کو نئی “دستک” ایپلیکیشن کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے کھلاڑی اپنی رجسٹریشن خود کریں گے جبکہ ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسرز صرف اس کی منظوری دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ چند روز میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اس ایپلیکیشن کا باقاعدہ افتتاح کریں گے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس سال انٹر مدارس گیمز ریجنل سطح پر منعقد کیے جائیں تاکہ صوبے بھر کے مدارس کے کھلاڑیوں کو مساوی مواقع میسر آئیں۔ اس کے علاوہ ٹرانسجینڈر گیمز کے انعقاد، صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایڈونچر آؤٹ ڈور سپورٹس کے مقابلے ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں کرانے، جبکہ بروغل فیسٹیول کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا گیا۔مشیر کھیل تاج محمد خان ترند نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو بروقت، شفاف اور مؤثر انداز میں مکمل کیا جائے تاکہ صوبے میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوان ٹیلنٹ کو آگے لانے کے حکومتی وژن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
