وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان سے ان کے دفتر میں پارلیمانی سیکرٹری برائے سماجی بہبود و رکنِ صوبائی اسمبلی محمد اعظم خان اور پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹرانسپورٹ و رکنِ صوبائی اسمبلی شفیع اللہ خان نے جمعرات کے روزملاقات کی۔ملاقات کے دوران صوبے میں سماجی بہبود، خصوصی تعلیم، ویمن ایمپاورمنٹ، عوامی فلاح و بہبود، ترقیاتی منصوبوں اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر مستحق، نادار، یتیم، خصوصی افراد، خواتین اور دیگر کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے جاری حکومتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ ان منصوبوں کو مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔مشیرِ وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت وزیراعلیٰ کی قیادت میں معاشرے کے محروم اور مستحق طبقات کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی بہبود کے شعبے میں جاری اصلاحات، خصوصی تعلیم کے فروغ، خواتین کو بااختیار بنانے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، جن کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے بھرپور انداز میں کام کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور باہمی تعاون ہی عوامی مسائل کے بروقت حل کی ضمانت ہے۔ حکومت اس امر کے لیے پُرعزم ہے کہ ہر شہری، بالخصوص خصوصی افراد، یتیم بچوں، بزرگ شہریوں، خواتین اور دیگر مستحق طبقات کو ریاست کی جانب سے بہتر سہولیات اور مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔پارلیمانی سیکرٹری برائے سماجی بہبود و رکنِ صوبائی اسمبلی محمد اعظم خان اور پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹرانسپورٹ و رکنِ صوبائی اسمبلی شفیع اللہ خان نے اپنے اپنے حلقوں میں عوام کو درپیش مسائل، سماجی بہبود سے متعلق ضروریات اور ترقیاتی امور سے مشیرِ وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے سماجی بہبود کے شعبے میں کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی فلاح و بہبود، خصوصی افراد کی خدمت، خواتین کے تحفظ اور ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر تکمیل کے لیے وہ حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھیں گے۔ملاقات کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ عوامی رابطوں کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، فلاحی منصوبوں کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا اور صوبے میں سماجی بہبود کے شعبے کو مزید فعال اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
