تعلیمی بورڈ مردان نے ایس ایس سی سالانہ اول امتحان 2026 کے پوزیشن ہولڈرز کا اعلان کر دیا

بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن، مردان نے ایس ایس سی(میٹرک) سالانہ اول امتحان 2026 کے پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات کے ناموں کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ اس سلسلے میں بورڈ کے آڈیٹوریم میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں صوبائی سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خالد خان، ڈپٹی کمشنر مردان واصف رحمان اور ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن خیبر پختونخوا ڈاکٹر فریداللہ شاہ نے بطور مہمانانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں تعلیمی اداروں کے سربراہان، اساتذہ، والدین، طلبہ و طالبات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بورڈ، پروفیسر جہانزیب نے کہا کہ آج کا دن محنت، لگن اور عزم کی فتح کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات نے دن رات محنت کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور آج انہیں اپنی کاوشوں کا بہترین صلہ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی بورڈ مردان نے امتحانی نظام میں شفافیت، میرٹ اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں، جس کے نتیجے میں ہر طالب علم کو اس کی محنت کے مطابق حق ملا۔
چیئرمین بورڈ نے اس امر پر خصوصی خوشی کا اظہار کیا کہ نوشہرہ اور صوابی کے دور دراز علاقوں کے سرکاری تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والی طالبات نے نمایاں پوزیشنیں حاصل کرکے یہ ثابت کر دیا کہ کامیابی کا دار و مدار صرف محنت، عزم اور لگن پر ہوتا ہے، نہ کہ وسائل پر۔ انہوں نے کامیاب طلبہ و طالبات، ان کے والدین اور اساتذہ کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہی نوجوان مستقبل میں ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔انہوں نے مہمانانِ خصوصی کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر تقریب میں شرکت کی اور کامیاب طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کی۔اس موقع پر کنٹرولر امتحانات، حافظ محمد فیاض نے پوزیشن ہولڈرز کے ناموں کا اعلان کیا۔
مہمانِ خصوصی صوبائی سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خالد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم ہی ترقی، خوشحالی اور قومی استحکام کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معیاری تعلیم کے ذریعے نئی نسل کو اس قابل بنانا ہوگا کہ وہ ترقی یافتہ ممالک کے نوجوانوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو سکے۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر مردان واصف الرحمن اور ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن ڈاکٹر فریداللہ شاہ نے بھی خطاب کیا اور کامیاب طلبہ و طالبات کو شاندار کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔کنٹرولر امتحانات حافظ فیاض محمد نے اعلان کیا کہ سائنس گروپ میں ماہین ایوب نے 1171 نمبر حاصل کرکے مجموعی طور پر پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ان کا تعلق گرلز کیڈٹ کالج مردان سے ہے۔سمیرا عمران نے 1166 نمبر حاصل کرکے دوسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ ان کا تعلق بھی گرلز کیڈٹ کالج مردان سے ہے۔ضازمان نے 1165 نمبر حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ان کا تعلق بھی گرلز کیڈٹ کالج مردان سے ہے۔آرٹس گروپ میں عائشہ سجاد نے 1091 نمبر حاصل کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ان کا تعلق گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول اکبرپورہ، نوشہرہ سے ہے۔ہاجرہ قاسم نے 1072 نمبر حاصل کرکے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ ان کا تعلق گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول ڈاک اسماعیل خیل سے ہے۔میمونہ نے 1069 نمبر حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ان کا تعلق گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول جہانگیرہ، صوابی سے ہے۔کنٹرولر امتحانات کے مطابق دہم جماعت کے سائنس گروپ میں 56,788 امیدواروں نے امتحان میں شرکت کی، جن میں سے 48,453 امیدوار کامیاب قرار پائے۔ اس طرح کامیابی کا تناسب 85.32 فیصد رہا۔آرٹس گروپ میں 20,754 امیدواروں نے امتحان دیا، جن میں سے 13,596 کامیاب قرار پائے، جبکہ کامیابی کا تناسب 65.50 فیصد رہا۔مجموعی طور پر دہم جماعت میں 77,544 امیدوار امتحان میں شریک ہوئے، جن میں سے 62,049 کامیاب قرار پائے۔ اس طرح مجموعی نتیجہ 80.02 فیصد رہا۔کنٹرولر امتحانات کے مطابق نہم جماعت کے سائنس گروپ میں 61,293 امیدواروں نے امتحان میں شرکت کی، جن میں سے 60,911 کامیاب قرار پائے اور کامیابی کا تناسب 99.38 فیصد رہا۔آرٹس گروپ میں 21,172 امیدوار امتحان میں شریک ہوئے، جن میں سے 20,858 کامیاب قرار پائے، جبکہ کامیابی کا تناسب 98.52 فیصد رہا۔مجموعی طور پر نہم جماعت میں 82,465 امیدواروں نے امتحان دیا، جن میں سے 81,769 کامیاب قرار پائے اور مجموعی کامیابی کا تناسب 99.16 فیصد رہا۔تقریب کے اختتام پر مہمانانِ خصوصی نے پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات میں شیلڈز، تعریفی اسناد اور نقد انعامات تقسیم کیے۔ اس موقع پر ان کی غیر معمولی تعلیمی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے انہیں مستقبل میں مزید محنت، اعلیٰ کارکردگی اور قومی خدمت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنے کی تلقین کی گئی۔

مزید پڑھیں