وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات پیر مصور خان نے پیر کے روز پشاور میں کارخانوں مارکیٹ کے قریب قائم کچہ گھڑی فارسٹ چیک پوسٹ کا اچانک دورہ کیا اور چیک پوسٹ پر تعینات عملے کی حاضری، کارکردگی اور سرکاری فرائض کی انجام دہی کا تفصیلی جائزہ لیا۔اچانک دورے کے دوران مشیر جنگلات نے چیک پوسٹ پر موجود ایک اہلکار کو رشوت لیتے ہوئے پایا جس پر مشیر جنگلات نے نے سخت نوٹس لیتے ہوئے مذکورہ اہلکار کو فوری طور پر معطل کرنے جبکہ دو اہکاروں کو محکمہ کے ہیڈکوارٹر رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کئے،مشیر جنگلات نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ واقعے کی مکمل انکوائری کی جائے اور قانون و محکمانہ قواعد کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری اختیارات کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے اور عوام سے رشوت لینے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔پیر مصور خان نے کہا کہ محکمہ جنگلات کے فیلڈ اسٹاف پر عوام اور حکومت کا اعتماد قائم رکھنا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔ سرکاری اہلکار عوام کی خدمت، قانون پر عملدرآمد اور محکمہ کی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دینے کے لیے تعینات ہیں، انہیں کسی بھی صورت اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے ویژن اور وزیراعلی سہیل آفریدی کے واضح احکامات کی روشنی میں محکمہ جنگلات میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ کسی بھی اہلکار یا افسر کی جانب سے بدعنوانی یا اختیارات کے غلط استعمال کی شکایت موصول ہونے پر بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔مشیر جنگلات نے کہا کہ اچانک دوروں کا مقصد فیلڈ میں موجود عملے کی کارکردگی کو جانچنا اور محکمانہ امور میں شفافیت یقینی بنانا ہے۔ ایسے اچانک معائنے آئندہ بھی جاری رکھے جائیں گے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صوبے بھر میں جنگلات کے چیک پوسٹس، ناکوں اور فیلڈ دفاتر کی نگرانی مزید مؤثر بنائی جائے، سرکاری ریکارڈ کو باقاعدگی سے چیک کیا جائے اور عوامی شکایات پر فوری کارروائی کی جائے۔پیر مصور خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ جنگلات کو ایک شفاف، فعال اور عوام دوست ادارہ بنایا جائے گا اور بدعنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
