زیرِ زمین پانی کے ذخائر کی بحالی کے لیے جامع حکمتِ عملی تشکیل، نئے منصوبوں میں پانی ذخیرہ کرنے کا نظام لازمی کرنے کی ہدایت

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں تیزی سے کم ہوتے زیرِ زمین پانی کے مسئلے کا جائزہ لیا گیا اور اس کی بحالی کے لیے جامع حکمتِ عملی کو حتمی شکل دی گئی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ تیار کیے جانے والے تمام پی سی ون میں زیرِ زمین پانی کی بحالی اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا نظام شامل کرنا لازمی ہوگا تاکہ پانی کی کمی کے مسئلے پر پائیدار انداز میں قابو پایا جا سکے۔ محکمہ بلدیات اس شرط کو عمارتوں کے تعمیراتی قوانین کا حصہ بنائے گا جس کے بعد نئی عمارتوں میں پانی ذخیرہ کرنے کے ڈھانچے بنانا لازمی ہوگا۔عملی طور پر مثال قائم کرنے کے لیے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں کم از کم ایک ایسی عمارت کی تعمیر یقینی بنائیں جس میں زیرِ زمین پانی کی بحالی کا نظام نصب ہو۔ اسی طرح واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنیاں اور تحصیل میونسپل انتظامیہ بھی ان علاقوں میں خصوصی منصوبے شروع کریں گی جہاں پانی کی قلت زیادہ شدید ہے۔
محکمہ بلدیات کے TMAs/WSSCs شہروں کے سیلاب زدہ نشیبی علاقوں کی شناخت کریں اور وہاں بارش کے پانی کے ذخیرے اور زیر زمین ریچارج کے لیے رین واٹر ہارویسٹنگ کے انتظامات کریں۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی خصوصی ہدایت پر ادارے پانی کی کمی کے مسئلے کو سائنسی اور جدید طریقوں سے حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے مہینوں میں اس منصوبے کو مزید وسعت دی جائے گی۔اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ پانی کے تحفظ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنا انتہائی ضروری ہے اور زیرِ زمین پانی کی بحالی کی یہ مہم عوام کی فعال شرکت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔

مزید پڑھیں