
قومی احتساب بیورو (نیب) خیبر پختونخوا نے اراضی و ریونیو معاملات، ریونیو حکام کی ذمہ داریوں اور خیبر پختونخوا میں سرکاری اراضی کی لیز سے متعلق قانونی و انتظامی فریم ورک کے حوالے سے پشاور میں ایک جامع بریفنگ سیشن کا انعقاد کیا۔سیشن میں قومی احتساب بیورو کے چیئرمین، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے بذریعہ زوم شرکت کی، جبکہ اجلاس میں پراسیکیوٹر جنرل اکاؤنٹیبلٹی سید احتشام قادر شاہ اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ سمیت اہم حکام نے شرکت کی۔ تقریب میں چیئرمین نیب کے معزز مشیران، نیب کے ڈائریکٹر جنرلز، صوبائی سیکریٹریز، مختلف محکموں کے سربراہان اور نیب کے حکامشریک ہوئے۔اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد ڈائریکٹر جنرل نیب خیبر پختونخوا نوید حیدر زاہد نے استقبالیہ کلمات ادا کیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیب آگاہی، تدارک اور نفاذ پر مشتمل سہ نکاتی حکمتِ عملی کے تحت کام کر رہا ہے۔اسی وژن کے تحت چیئرمین نیب نے 2025 میں لینڈ ڈائریکٹوریٹ قائم کیا، جس کا مقصد سرکاری اثاثوں پر قبضہ، غیر قانونی الاٹمنٹ اور سرکاری اثاثوں کی جعلی یا غیر قانونی منتقلی کی روک تھام ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں سال 2025 کے دوران ملک بھر میں 2.98 ملین ایکڑ اراضی، جس کی مالیت 5.976 ٹریلین روپے بنتی ہے، کامیابی سے واہگزار کرائی گئی، جبکہ سال 2026 میں بھی لاکھوں ایکڑ سرکاری اراضی واہگزار کرانے کا عمل جاری ہے۔خیبر پختونخوا میں بھی اسی طرز پر سرکاری اراضی کے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے متعدد اہم بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ سرکاری اراضی سے متعلق مرکزی ریکارڈ کی عدم موجودگی کے باعث ڈپٹی کمشنرز کے ریکارڈ اور متعلقہ محکموں کے ریکارڈ میں ڈیٹا کے نمایاں خلا اور تضادات پائے گئے۔ اس کے علاوہ محکموں کے حقیقی استعمال کے حقوق کے حوالے سے بھی ابہام موجود ہے، جبکہ بورڈ آف ریونیو کی منظوری کے بغیر غیر مجاز لیز، رہن اور قبضوں کے معاملات بھی سامنے آئے۔ان مسائل اور ڈیٹا کے خلا کو دور کرنے کے لیے نیب خیبر پختونخوا نے اسٹیٹ لینڈ مینجمنٹ سسٹم (ایس ایل ایم ایس) کے نام سے ایک سافٹ ویئر تیار کیا ہے، جو صوبے کی تمام سرکاری اراضی کے ریکارڈ کو یکجا کرتے ہوئے قابلِ تلاش ڈیٹا بیس مرتب کرتا ہے اور یوں ایک ہی کلک کے ذریعے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔سیشن میں چیئرمین نیب کے مشیر برائے اراضی امور احمد علی ظفر نے ”خیبر پختونخوا میں لینڈ ریونیو معاملات کا قانونی فریم ورک: ریونیو اور متعلقہ محکموں کی ذمہ داریاں اور فرائض“ کے موضوع پر تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔انہوں نے صوبے میں اراضی و ریونیو معاملات کے تاریخی پس منظر اور موجودہ قانونی فریم ورک کا جائزہ پیش کیا۔ سیشن میں ریونیو افسران کی تعیناتی اور ان کے فرائض، ریونیو معاملات میں سول عدالتوں کے دائرہ اختیار، نیز سرکاری اراضی سے متعلق صوبائی اور مقامی حکومتوں کی جانب سے صوابدیدی اختیارات کے استعمال کے حوالے سے موجود ابہامات سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ڈی جی آپریشنز نیب امجد مجید اولکھ نے خیبر پختونخوا میں سرکاری اراضی کی لیز سے متعلق نیب کے مطالعاتی جائزے کے نتائج پیش کیے۔ انہوں نے موجودہ نظام میں نشاندہی کیے گئے اہم مسائل کو اجاگر کیا اور سرکاری اراضی کی لیز کے نظام میں شفافیت، ادارہ جاتی نگرانی اور سرکاری اراضی کے مؤثر انتظام کو بہتر بنانے کے لیے مختلف سفارشات پیش کیں۔”سرکاری اراضی کے حوالے سے لینڈ ریونیو حکام کی ذمہ داریوں سے متعلق اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے“ کے موضوع پر ایک اور پریزنٹیشن پراسیکیوٹر جنرل نیب سید احتشام قادر شاہ نے پیش کیا۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سرکاری اراضی عوامی امانت ہے اور اس کے تحفظ کے لیے قانونی اور عدالتی تقاضوں پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے متعلقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی کہ ایسے فیصلے نہ صرف متنازع معاملات کا حل فراہم کرتے ہیں بلکہ ریونیو حکام کو عوامی اراضی کے قانونی انتظام، استعمال خصوصاً شفاف اور منصفانہ مارکیٹ میکانزم کے ذریعے سرکاری اراضی کے تصرف کے معاملات میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔پریزنٹیشنز کے بعد سوال و جواب کا سیشن ہوا، جس میں شرکاء نے لینڈ ریونیو انتظامیہ، سرکاری اراضی کے انتظام و تحفظ اور لیز سے متعلق مختلف قانونی، انتظامی اور عملی امور پر تبادلہ خیال کیا۔شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ اس نوعیت کے باہمی اشتراک پر مبنی اجلاس سرکاری اراضی کی واہگزاری اور تحفظ کے نظام کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ورکشاپ سے حاصل ہونے والے اسباق اور سامنے آنے والی سفارشات موجودہ قانونی و انتظامی خلا کو دور کرنے کے لیے مناسب قانون سازی کی جانچ پڑتال اور تشکیل میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔اپنے اختتامی کلمات میں چیئرمین نیب نے نیب اور خیبر پختونخوا کی سول انتظامیہ کے درمیان تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی سطح پر مربوط اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے سرکاری اراضی کے معاشی اور عوامی فوائد کو بروئے کار لانے میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں سرکاری اراضی کا ایک بڑا رقبہ موجود ہے جس کی مؤثر شناخت، واہگزاری اور تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔چیئرمین نیب نے اس امر پر زور دیا کہ نیب، خیبر پختونخوا کی انتظامیہ کے تعاون سے ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے اور ان خامیوں کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے جو عوامی وسائل کے مؤثر اور قانونی انتظام میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری اہلکار اپنے اختیارات کا استعمال قانون کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کریں اور تمام متعلقہ قانونی و آئینی تقاضوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ماضی میں کسی قسم کی کوتاہیاں واقع ہوئی ہیں تو توجہ اصلاحی اقدامات، ادارہ جاتی بہتری اور قانون کی پاسداری پر مرکوز ہونی چاہیے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ورکشاپ کے دوران سامنے آنے والے مسائل کے حل کے لیے ایک جامع روڈ میپ اور مؤثر طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ سفارشات کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جا سکے۔ورکشاپ اس مشترکہ اتفاقِ رائے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ گڈ گورننس اور انسدادِ بدعنوانی مؤثر ریاستی نظم و نسق کے باہم تکمیلی ستون ہیں، جبکہ نیب اور صوبائی حکام/انتظامیہ کے درمیان مضبوط ادارہ جاتی تعاون صوبائی ترقی اور وسیع تر عوامی مفاد کے لیے اضافی عوامی وسائل کو بروئے کار لانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
