خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے ریڈیو پاکستان پشاور سانحہ، 9 اور 10 مئی 2023 کا اجلاس

خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے ریڈیو پاکستان پشاور سانحہ، 9 اور 10 مئی 2023 کا اجلاس جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اور صوبائی وزیر قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم نے کی۔ اجلاس میں وزیر آبپاشی ریاض خان، خصوصی کمیٹی کے ممبران اور اراکین صوبائی اسمبلی احتشام علی، طارق محمود اریانی، عبدالمنعم خان، شیر علی آفریدی، آصف مسعود، محمد راشاد خان اور عدنان خان نے شرکت کی، جبکہ محکمہ قانون، محکمہ پولیس، محکمہ داخلہ، ایڈووکیٹ جنرل آفس اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ افسران بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس کا بنیادی مقصد 9 اور 10 مئی 2023 کو ریڈیو پاکستان پشاور کے احاطے میں پیش آنے والے واقعات کے اصل حقائق، تفتیشی عمل اور اس سے متعلق دیگر تمام قانونی و انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لینا تھا، تاکہ شفاف، غیر جانب دارانہ اور قانون کے مطابق تحقیقات کے ذریعے واقعات کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔ اس سلسلے میں خصوصی کمیٹی نے سابق تفتیشی افسر واجد شاہ کو بھی اجلاس میں طلب کیا تاکہ وہ کمیٹی کے سامنے واقعے کی تفتیش، شواہد اور پیش رفت کے حوالے سے تفصیلات پیش کریں۔ اجلاس کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے سابق تفتیشی افسر سے واقعے کے مختلف پہلوؤں، تفتیشی طریقہ کار اور مقدمات سے متعلق متعدد سوالات کیے۔ تفتیشی افسر نے کمیٹی کو بتایا کہ سانحہ کی مناسبت سے مجموعی طور پر 200 افراد کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئی تھیں، جن میں سے 177 ایف آئی آرز اب ختم ہو چکی ہیں، جبکہ 23 ایف آئی آرز تاحال زیرِ التوا ہیں۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ سانحہ سے متعلق تمام مقدمات کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے اور آئندہ اجلاس میں باقی ماندہ سوالات کے جوابات مستند شواہد اور متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ کمیٹی کے سامنے پیش کیے جائیں، تاکہ واقعات کا درست پس منظر اور مکمل منظرنامہ واضح ہو سکے۔ خصوصی کمیٹی کے اراکین نے بھی محکمہ پولیس کے حکام سے سانحہ سے متعلق مختلف اہم امور پر سوالات کیے اور تفتیشی عمل، مقدمات کی موجودہ صورتحال اور دستیاب شواہد کے بارے میں تفصیلی معلومات طلب کیں۔ چیئرمین خصوصی کمیٹی و وزیر قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم نے محکمہ داخلہ اور محکمہ پولیس کے حکام کو ہدایت کی کہ کمیٹی کی جانب سے فراہم کردہ رہنما اصولوں اور جاری کردہ ہدایات پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور تمام متعلقہ ریکارڈ و شواہد کو مکمل طور پر سامنے لایا جائے۔ چیئرمین کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ تحقیقات کا بنیادی مقصد واقعات کے اصل محرکات اور حقائق کو قانون کے مطابق سامنے لانا ہے، اس لیے تفتیش کے تمام مراحل شفاف، غیر جانب دارانہ اور شواہد کی بنیاد پر مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تحقیقات کے دوران کسی بھی بے گناہ شخص کو بلاجواز واقعات میں ملوث نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی ذمہ دار فرد کو شواہد کے بغیر بری الذمہ قرار دیا جائے، تاکہ قانون کے تقاضوں کے مطابق حقائق سامنے آئیں اور سانحہ سے متعلق درست اور جامع منظرنامہ عوام کے سامنے لایا جا سکے۔

مزید پڑھیں