خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اوقاف و مذہبی امور محمد عدنان قادری نے ضلع سوات کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے اوقاف، مذہبی و اقلیتی امور سے متعلق جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا اور مختلف مذہبی مقامات کا دورہ کیا۔دورے کے دوران صوبائی وزیر کو ڈپٹی کمشنر سوات سلیم جان مروت نے ضلع سوات میں اوقاف سے متعلق جاری ترقیاتی منصوبوں، انتظامی امور اور دیگر متعلقہ اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر پارلیمانی اراکین فضل حکیم، اختر خان، نعیم خان اور سلطان روم بھی موجود تھے۔بریفنگ کے دوران صوبائی وزیر کو اوقاف کے زیر انتظام مختلف منصوبوں کی پیش رفت، جاری تعمیراتی کاموں اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جاری منصوبوں میں کام کے معیار کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے تاکہ عوام اور زائرین کو بروقت سہولیات فراہم کی جاسکیں۔دورے کے دوران صوبائی وزیر محمد عدنان قادری نے منگورہ سوات میں ایک چرچ کا افتتاح بھی کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے مذہبی حقوق، عبادت گاہوں کے تحفظ اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادریاں صوبے کا اہم حصہ ہیں اور ان کی فلاح و بہبود حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔بعد ازاں صوبائی وزیر نے سیدو شریف مزار کا دورہ کیا اور وہاں تقریباً ایک کروڑ روپے کی لاگت سے جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے تعمیراتی کام کے معیار اور پیش رفت کا معائنہ کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زائرین کی سہولت اور تاریخی و مذہبی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے کو معیار کے مطابق مکمل کیا جائے۔دورے کے آخری مرحلے میں صوبائی وزیر برائے اوقاف و مذہبی امور نے **بریکوٹ سوات میں نو تعمیر شدہ چرچ اور شمشان گھاٹ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ حکومت اقلیتی برادریوں کی عبادت اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے مناسب سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے۔صوبائی وزیر محمد عدنان قادری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی آزادی اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کے فروغ کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ اقلیتی برادریوں کو اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے محفوظ، باوقار اور بہتر ماحول فراہم کیا جائے۔انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ اوقاف اور مذہبی مقامات سے متعلق جاری منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور عوامی مفاد کے منصوبوں میں شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
