پشاور پریس کلب کی تعمیر ترقی اور بہبود کیلئے خیبرپختونخوا حکومت بھر پور اقدامات اٹھا رہی ہے۔مشیر خزانہ خیبر پختونخوا

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پشاور پریس کلب کے زیر اہتمام صحافیوں کے سکول اور کالج کے پوزیشن ہولڈر بچوں کیلئے انعامات اور جشن آزادی تقریبات کے حوالے سے نشتر ہال پشاور میں منعقدہ تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔تقریب میں ڈائریکٹر جنرل کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی شاہدخان، منیجنگ ڈائریکٹر بینک آف خیبر حسن رضا، ڈائریکٹر کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی، پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض، سابق صدر اور سینئیر صحافی شمیم شاہد، خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید، پریس کلب ایجوکیشن کمیٹی کے سربراہ ضیائ الحق سمیت بڑی تعداد میں صحافیوں اور انکی فیملیز نے شرکت کی۔مزمل اسلم نے پوزیشن ہولڈرز بچوں اور ان کے والدین کو کامیابی پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اگر چہ ان کی فیملی کراچی میں ہے لیکن صحافیوں کے بچوں کے درمیان اپنے بیٹھنے کو اپنی فیملی میں موجودگی جیسا محسوس کر رہے ہیں۔مزمل اسلم نے کہا کہ صحافیوں کو اس مہنگائی کے دور میں بہت کم تنخواہیں مل رہی ہیں اور یہ تشویشناک امرہے۔انہوں نے کہا کہ پشاور پریس کلب کی تعمیر ترقی اور بہبود کیلئے خیبرپختونخوا حکومت اپنی استطاعت کے مطابق بھر پور اقدامات اٹھا رہی ہے۔اسی طرح خیبرپختونخوا حکومت اپنے بجٹ کا 22 فیصد فنڈز تعلیم پر خرچ کر رہی ہے جو باقی صوبوں سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بینک آف خیبر پختونخوا نے اینڈومنٹ فنڈز پر مارک اپ کو 10.50 فیصد کردیا ہے،بجٹ میں صحافیوں کے پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع اور فلاح و بہبود بشمول صحافیوں کے بچوں کو وظائف اور انٹرن شپ کے مواقع فراہم کرنے کے لیے 1000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں سے 700 بندوبستی اضلاع کے صحافیوں اور 300 ملین ضم اضلاع کے صحافیوں کے لئے ہیں۔مزمل اسلم نے کہا کہ صحافیوں کے لیے میڈیا کالونیز کے قیام کے لیے بھی فزیبلٹی اسٹڈی اور ڈیزائن کی تیاری کی مد میں 500 ملین روپے مختص کیے گئے جبکہ پشاور پریس کلب کی جدید سہولیات سے آراستہ نئی کثیر منزلہ عمارت کی تعمیر کے لیے 150 ملین روپے کی رقوم رکھی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے بجٹ میں جرنلسٹس اینڈومنٹ فنڈ کی مالیت 20 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کر دی ہے۔ اس موقع پرمینیجنگ ڈائریکٹر حسن رضا نے کہا کہ بینک آف خیبر بینکنگ کے ساتھ تعلیم، صحت اور ثقافت کے شعبے میں بھی کام جاری ہے کیونکہ یہ صوبے کا اپنا بینک ہے۔

مزید پڑھیں