خیبر پختونخوا کے وزیر قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق ایڈووکیٹ آفتاب عالم کی زیر صدارت محکمہ قانون کے کمیٹی روم میں اہم قانونی و آئینی امور سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں رٹ پٹیشن نمبر 8159-P/2025 اور اس سے منسلک دیگر رٹ درخواستوں، بعنوان “محمد ارشد خان و دیگر بنام حکومت خیبر پختونخوا و دیگر”، پر صوبائی حکومت کی قانونی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں محکمہ قانون کے اعلیٰ افسران، قانونی ماہرین اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ شرکائ نے مقدمات کی قانونی حیثیت، متعلقہ قوانین اور قانونی دفعات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ان کے صوبائی حکومت پر ممکنہ اثرات پر غور کیا۔اجلاس کے دوران وزیر قانون ایڈووکیٹ آفتاب عالم نے بالخصوص کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹنسز ایکٹ (CNSA) 1997 کی دفعہ 9(اے)(1) کے اطلاق، دائرہ کار اور قانونی مضمرات پر تفصیلی بحث کی۔ اجلاس میں 6 ستمبر 2022 کو مذکورہ دفعہ میں کی گئی ترمیم کے تناظر میں اس کی تشریح اور اطلاق کا بھی جائزہ لیا گیا۔شرکائ نے ترمیم شدہ قانونی شق کا موجودہ قانونی فریم ورک سے تعلق، مقدمات پر اس کے ممکنہ اثرات اور متعلقہ قانونی پہلوؤں کا مختلف زاویوں سے جائزہ لیا۔ اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ صوبائی حکومت کا مؤقف جامع، مضبوط قانونی بنیادوں پر مبنی اور تمام متعلقہ قوانین و عدالتی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کیا جائے۔اس موقع پر وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ ایسے معاملات جن کے قانونی تشریح اور قوانین کے نفاذ پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، ان میں مکمل قانونی تیاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران اور قانونی ماہرین کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ قانونی دفعات، ترامیم، عدالتی فیصلوں اور مقدمات کے باہمی تعلق کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور اس کے بعد صوبائی حکومت کا مؤقف حتمی شکل دیا جائے۔وزیر قانون نے محکمہ قانون، متعلقہ انتظامی محکموں اور قانونی ٹیم کے درمیان مؤثر رابطہ کاری یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مقدمات سے متعلق تمام حقائق، قانونی نظائر اور متعلقہ قانونی دفعات کو مناسب طور پر مدنظر رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت قانونی اور ادارہ جاتی نظام کو مزید مؤثر بنانے اور قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔ متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ اجلاس سے قبل تمام ضروری قانونی تیاری مکمل کی جائے اور متعلقہ دستاویزات، قانونی دفعات اور دیگر پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا جائے۔اجلاس میں منسلک رٹ درخواستوں اور ان سے جڑے وسیع تر قانونی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ قانونی ماہرین اور محکمہ کے نمائندوں نے مختلف تجاویز اور آرائ پیش کیں جنہیں غور و خوض میں شامل کیا گیا۔تفصیلی بحث کے بعد اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ صوبائی حکومت کی قانونی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے سے قبل مزید قانونی مشاورت اور غور و خوض ضروری ہے۔ اس سلسلے میں پیش رفت کا جائزہ لینے، مزید قانونی نکات پر غور کرنے اور حکومت کا حتمی مؤقف مرتب کرنے کے لیے آئندہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیر قانون نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ضروری قانونی ہوم ورک مکمل کرکے آئندہ اجلاس میں جامع تیاری کے ساتھ شرکت کریں تاکہ رٹ پٹیشن نمبر 8159-P/2025 اور منسلک رٹ درخواستوں میں صوبائی حکومت کا مؤثر، مربوط اور قانون کے مطابق مؤقف پیش کیا جا سکے۔
