ہنگو،عوامی رابطہ مہم میں عوام کا جوش و خروش 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی کامیابی کی نوید ہے، شفیع جان

خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں ہنگو میں عوامی رابطہ مہم میں عوام کے بھرپور جوش و خروش کو 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی کامیابی کی نوید قرار دیتے ہوئے کہا کہ کامیاب عوامی رابطہ مہم عوام کے عمران خان پر بڑھتے ہوئے اعتماد اور انکے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہونے کا واضح ثبوت ہے، 27 ستمبر کو اسلام آباد کے لانگ مارچ میں لاکھوں افراد شریک ہوں گے،جس سے فارم 47 کے حکمران شدید خوفزدہ ہے،شفیع جان نے وفاقی اور پنجاب حکومتوں پر واضح کیا کہ دونوں مینڈیٹ چور حکومتیں جتنے چاہے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کر لیں، عمران خان کی ہمت، عزم اور حوصلے کو توڑ نہیں سکتیں،عمران خان ہی ملک کے عوام، بالخصوص نوجوانوں کی امید اور پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہیں۔ عمران خان کے خوف میں وفاقی حکومت نے جس طرح عدالتی احکامات کو نظرانداز کیا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ حکومت خود کو آئین و قانون سے بالاتر سمجھتی ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر وفاقی حکومت نے غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کیے اور علاج کے معاملے پر بھی منفی سیاست کی۔ ان اقدامات کے خلاف پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے، اب وفاقی حکومت کو اپنے غیر قانونی اقدامات کا جواب عدالت میں دینا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ آئین و قانون کی بالادستی ہی قوموں کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کی بنیاد ہوتی ہے، جب آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہو ں تو عوام کااعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ یہی اعتماد معاشرتی استحکام، اقتصادی ترقی اور قومی خوشحالی اور انصاف کی راہ ہموار کرتا ہے۔بدقسمتی سے وفاقی حکومت کی توجہ ملکی معیشت کی بجائے عمران خان سے سیاسی انتقام پر مرکوز ہے، انھوں نے وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے غیر آئینی و غیر قانونی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور پنجاب حکومتوں نے سیاسی انتقام میں عمران خان کے ساتھ جیل میں جو امتیازی، غیر آئینی اور غیر انسانی سلوک روا رکھا، وہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ گزشتہ نو ماہ سے عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی عائد رہی، انہیں مطلوبہ طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں اور ذاتی معالج تک رسائی بھی نہیں دی گئی،شفیع جان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے میڈیکل رپورٹ کی روشنی میں عمران خان کو طبی سہولیات کی فراہمی اور علاج کے حوالے سے واضح احکامات جاری کیے، لیکن بدقسمتی سے وفاقی حکومت نے عدالتی احکامات پر بھی عملدرآمد نہیں کیا۔انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کی خراب صحت کی ذمہ داری وفاقی اور پنجاب حکومتوں پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ وفاقی و پنجاب حکومتوں نے مسلسل عمران خان کی صحت میں غفلت کا ارتکاب کیا جو صرف غفلت نہیں بلکہ سنگین جرم بھی ہے، مینڈیٹ چور حکومتوں کا کڑا احتساب یقینی بنائینگے،

مزید پڑھیں