وزیرسائنس ٹیکنالوجی اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی و اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا شفیع جان نے جمعرا ت کے روز سیکرٹری سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دفتر کا دورہ کیا جہاں انھوں نے محکمہ کی کارکردگی، جاری منصوبوں اور مستقبل کے اقدامات سے متعلق اعلیٰ سطح بریفنگ اجلاس کی صدارت کی۔اس موقع پر سیکرٹری عبد الباسط، ڈائریکٹر جنرل سائنس و ٹیکنالوجی ساجد علی شاہ اور مینجنگ ڈائریکٹر خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ڈاکٹر عاکف خان سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے، صوبائی وزیر کو محکمہ کے جاری منصوبوں، مختلف شعبوں میں پیش رفت اور مجموعی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ محکمہ سائنس ٹیکنالوجی و آئی ٹی صوبے میں سائنس، ٹیکنالوجی و انوویشن کے فروغ، ای گورننس، ڈیجیٹلائزیشن اور تحقیق و ترقی کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ محکمہ، صنعتی ترقی، آئی ٹی تعلیم و تربیت کے فروغ اور مقامی آئی ٹی کمپنیوں کو کاروباری معاونت کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات اٹھا رہا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں آئی ٹی پارکس کے قیام اور سافٹ ویئر برآمدات کے فروغ کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں، جبکہ ضم اضلاع کے سکولوں میں 6 ماڈل آئی ٹی لیبز قائم کی گئی ہیں۔ صوبے میں سائبر رسپانس ایمرجنسی سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے جبکہ گڈ گورننس اسٹریٹیجی کے تحت 6 محکموں کی خدمات کو ڈیجیٹائزڈ کیا جا چکا ہے۔ سائنس ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن اسٹریٹیجی تشکیل دینے کے بعد خیبر پختونخوا پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ صوبے کے مختلف ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں سیٹیزن فیسلیٹیشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، جہاں شہریوں کو ڈومیسائل، ڈرائیونگ لائسنس، پیدائش کے سرٹیفکیٹ سمیت دیگر مختلف سرکاری خدمات فراہم کی جا رہی ہیں،جبکہ پشاور میں سیٹیزن فیسلیٹیشن سنٹر بھی افتتاح کے لئے تیار ہے۔اجلاس کے دوران صوبائی وزیر شفیع جان نے کہا کہ سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ صوبے کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام کو بہتر اور شفاف سرکاری خدمات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ تمام سرکاری محکموں کو ڈیجیٹائزڈ کرنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔ محکموں کی ڈیجیٹائزیشن سے شفافیت کو فروغ ملے گا اور صوبائی ریونیو میں بھی اضافہ ہوگا۔شفیع جان نے مزید ہدایت کی کہ عوام کو ایک ہی چھت تلے سرکاری خدمات کی فراہمی کے لئے صوبے کے ہر ضلع میں سیٹیزن فیسلیٹیشن سینٹرز کے قیام کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں جبکہ ان مراکز میں شہریوں کو یوٹیلٹی بلز جمع کرانے کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔انہوں نے ہدایت کی کہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے عوام کو سرکاری خدمات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے اقدامات مزید تیز کیے جائیں اور عوامی خدمات کی فراہمی میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے ویژن کے مطابق اور وزیراعلی سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبے میں ڈیجیٹل گورننس کے مزید فروغ کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائینگے۔
