
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں ذیلی کمیٹی کی چیئرپرسن اور رکن صوبائی اسمبلی شہلا بانو کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں محکمہ صحت، محکمہ خزانہ اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کی ایم آر آئی مشین کی 2021 میں کی گئی اپ گریڈیشن اور بعد ازاں اس کی تبدیلی سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایم آر آئی مشین کی اپ گریڈیشن کے عمل میں خیبر پختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے مروجہ قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری واضح نظر نہیں آرہی۔ کمیٹی کے مطابق کروڑوں روپے مالیت کے اس معاملے میں کوٹیشن طلب کرنے اور خریداری کے مقررہ طریقہ کار پر مکمل عملدرآمد بھی مبہم ہے۔ چیئرپرسن شہلا بانو نے اس امر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے مالی معاملے کا محض ای میل کے ذریعے طے ہونا کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے، لہٰذا معاملے کے تمام پہلوؤں اور پس منظر کا جامع جائزہ لیا جائے۔ذیلی کمیٹی نے ایم آر آئی مشین کی تبدیلی سے قبل اس کی بنیادی مالی قدر، تکنیکی حالت اور دیگر متعلقہ مالی و انتظامی ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔ واضح رہے کہ 15 جنوری 2026 کو ایوب میڈیکل کمپلیکس ایبٹ آباد میں منعقدہ ذیلی کمیٹی کے سابقہ اجلاس میں محکمہ صحت کو ہدایت کی گئی تھی کہ مشین کی تبدیلی کے معاملے میں متعلقہ انتظامیہ اور ذمہ دار افسران سے تفصیلات اور ان کا مؤقف حاصل کیا جائے، تاکہ مشین کی تبدیلی کی وجوہات اور اس حوالے سے ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔محکمہ صحت کے حکام نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ متعلقہ افسران اور دیگر ذمہ داران کی جانب سے تاحال مطلوبہ جوابات موصول نہیں ہوئے۔ اس پر چیئرپرسن شہلا بانو نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ذمہ داران کو فوری طور پر یاددہانی مراسلے جاری کیے جائیں اور ان سے جلد از جلد اپنے جوابات جمع کرانے کو کہا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاملے کی مکمل چھان بین کے لیے تمام متعلقہ ریکارڈ اور ذمہ داران کے مؤقف کا حصول ضروری ہے۔اجلاس کے اختتام پر چیئرپرسن نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ موصول ہونے والے تمام جوابات اور متعلقہ دستاویزات کو یکجا کرکے جامع صورت میں آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔ ذیلی کمیٹی دستیاب ریکارڈ، مالی و تکنیکی حقائق اور متعلقہ افسران کے مؤقف کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات اور رپورٹ مرتب کرکے قائمہ کمیٹی برائے صحت کے سامنے پیش کرے گی، تاکہ معاملے میں ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔
