خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات و سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں اور پنجاب کے عوام کو سٹریٹ موومنٹ میں شرکت پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مینڈیٹ چور حکومت کی پولیس گردی،تمام تر ظلم، کارکنوں کی پکڑ دھکڑ اور فسطائی ہتھکنڈوں کے باوجود وزیراعلی سہیل آفریدی کی قیادت میں اسٹریٹ موومنٹ میں عوام کی بھرپور شرکت پنجاب پر مسلط نااہل ٹولے کو مسترد کرنے کا واضح اعلان ہے،انھوں نے سٹریٹ موومنٹ کے دوران پنجاب حکومت کے غیر قانونی اقدامات اور جبر و تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سٹریٹ موومنٹ کے دوران وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کے قریب ایک مسلح شخص کو سکیورٹی سٹاف نے بروقت پکڑا، جس کے قبضہ سے مبینہ طور پر پستول برآمد ہوا۔ مسلح شخص کا ٹارگٹ وزیراعلیٰ محمدسہیل آفریدی تھے۔شفیع جان نے پنجاب حکومت کے غیر قانونی ہتھکنڈوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے جس شہر میں بھی وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی جاتے تھے، وہاں کی بجلی منقطع کر دی جاتی، سیالکوٹ میں جہاں ان کی رہائش کا انتظام کیا گیا تھا، وہاں نہ صرف بجلی کاٹی گئی بلکہ جنریٹر بھی خراب کر دیے گئے۔ اسی طرح وزیر آباد میں وزیراعلیٰ کے راستے میں ریلوے پھاٹک کو بند کر کے ڈی پی او چابی اپنے ساتھ لے گیا، انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس کی جانب سے کاروباری مراکز اور مارکیٹیں بند کروا دی گئیں،وزیراعلی محمدسہیل آفریدی کی آمد سے پہلے لاہور، سیالکوٹ، وزیر آباد، گجرات، لالہ موسیٰ اور دیگر علاقوں میں کرفیو جیسی صورتحال پیدا کی گئی جو پنجاب حکومت کی پولیس گردی اور خوف اور شدید بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔انھوں نے کہا کہ ساڑھے چار کروڑ عوام کے منتخب وزیراعلیٰ کے خلاف ایسے غیر قانونی ہتھکنڈے عوامی مینڈیٹ کی کھلی توہین اور بدترین سیاسی انتقام ہیں۔شفیع جان نے پنجاب کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے سڑکوں پر نکل کر پولیس گردی کا مقابلہ کیا اور یہ ثابت کر دیا کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پنجاب سٹریٹ موومنٹ سے فارم 47 کے جعلی حکمرانوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی، عوامی مینڈیٹ کی بحالی اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ موجودہ غیر آئینی، غیر جمہوری اور آمرانہ طرز حکمرانی کے خلاف عوامی ریفرنڈم ثابت ہوگا اور پنجاب سمیت پورے ملک میں پرامن سیاسی جدوجہد کا نیا باب رقم کرے گا۔
