
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے بدھ کے روز دسویں ڈسٹرکٹ سروس ڈیلیوری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور فیلڈ فارمیشنز کی محنت کو سراہا اور کہا کہ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں اضلاع میں سروس ڈیلیوری میں نمایاں بہتری آئی ہے جو کہ 84 فیصد ہے اور بہتر نگرانی سے اس کو اگلے اجلاس سے پہلے 92 تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ افسران کی کارکردگی کو ان کی تعیناتی اور تبادلوں سے براہِ راست جوڑا جائے گا اور جو افسران عوام کو بہتر خدمات فراہم کریں گے وہ حکومت کے لیے قبولیت کی علامت بنیں گے اور آئندہ تعیناتیوں میں انہیں ترجیح دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ فیلڈ میں آفیسرز کی کارکردگی ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنتی ہے اور واضح کیا کہ کارکردگی سے مشروط تعیناتی کی پالیسی کا مقصد سول انتظامیہ میں میرٹ اور احتساب کے کلچر کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے عوام کے ساتھ مسلسل رابطے، ان کی رائے اور شکایات کے ازالے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ جب افسران عوام کے لیے بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں تو عوام خود ان کے حق میں بولتے ہیں اور یہ بہتر گورننس کی روایت آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال بن کر رہ جاتی ہے۔اجلاس کے دوران چیف سیکرٹری نے مختلف محکموں اور ضلعی انتظامیہ کو تفویض کردہ سروس ڈیلیوری کے کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا، جس میں تعلیمی اداروں، کالجوں، صحت کے مراکز، زرعی سروس سینٹرز، لائیو سٹاک کے اشاریوں اور بلدیات کی سہولیات سمیت عوامی خدمات کے مختلف شعبوں میں مقررہ معیار کے مطابق سروس ڈیلیوری کا جائزہ شامل تھا۔اجلاس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار سے تقریباً ہر محکمے اور ضلعے میں مسلسل بہتری کا رجحان سامنے آیا۔ یاد رہے کہ گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت صوبہ بھرمیں جولائی 2025 سے اگست 2026 تک دس مانیٹرنگ راؤنڈز میں مقررہ معیار کے مطابق سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لیا گیا، نو محکموں کی کارکردگی کو جانچا گیا، جن میں سے آٹھ محکمے اب 70 فیصد سے زیادہ اور اکثریت 90 فیصد سے بھی زیادہ کارکردگی دکھا رہے ہیں۔سیاحت کے محکمے کی سہولیات 99 فیصد کے ساتھ سب سے آگے رہیں، جو پہلے راؤنڈ کے مقابلے میں 38 پوائنٹس کا اضافہ ہے، جبکہ زراعت کے فارم سروس سینٹرز 98 فیصد تک پہنچ گئے، یعنی 45 پوائنٹس کا اضافہ۔ لائیو سٹاک کے سول ویٹرنری ہسپتالوں کی کارکردگی میں 50 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور یہ 95 فیصد تک پہنچ گئے، جبکہ مقامی حکومت کی سہولیات، جن کی نگرانی سب سے مشکل سمجھی جاتی ہے، 43 پوائنٹس بڑھ کر 80 فیصد تک پہنچ گئیں۔ ریونیو اینڈ اسٹیٹ کے سروس ڈیلیوری سینٹرز اور تحصیل دفاتر، جن کی نگرانی چھٹے راؤنڈ سے شروع ہوئی، 91 فیصد تک پہنچ گئے، جبکہ سوشل ویلفیئر کے دارالامان جیسے ادارے 89 فیصد تک پہنچے۔انہی محکموں میں مخصوص سہولیات میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی: مویشی منڈیوں کی کارکردگی 77 پوائنٹس بڑھ کر 96 فیصد ہو گئی، جنرل بس اڈوں کی کارکردگی 67 پوائنٹس بڑھ کر 95 فیصد تک پہنچی، اور سیاحوں کے واش رومز نے 100 فیصد نمبر حاصل کیے جو بنیادی سطح کے مقابلے میں 42 پوائنٹس کا اضافہ ہے۔37 اضلاع میں بھی بہتری کا رجحان وسیع پیمانے پر دیکھا گیا۔ صوبے کے ”ہائی والیوم” چھ اضلاع — صوابی، دیر بالا، شانگلہ، بونیر، چارسدہ اور مالاکنڈ — اب 97 فیصد یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کر رہے ہیں، جن میں پہلے راؤنڈ کے مقابلے میں 55 سے 66 پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں بنوں 97 فیصد کے ساتھ سب سے آگے ہے، اس کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان 96 فیصد پر ہے، دونوں میں 50 پوائنٹس سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔ ضم اضلاع، جنہوں نے کم بنیاد سے آغاز کیا تھا، میں بھی مسلسل بہتری آئی ہے، خیبر 82 فیصد تک پہنچا جبکہ مہمند 51 پوائنٹس کا اضافہ کر کے 81 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ کانفرنس کا ایک نمایاں موضوع آؤٹ سورس کیے گئے 147 سرکاری سکولوں کی کارکردگی بھی رہا۔ ڈپٹی کمشنرز اور ایجوکیشن مانیٹرنگ اسسٹنٹس کے دوروں سے تصدیق ہوئی ہے کہ آؤٹ سورسنگ کے بعد داخلوں میں 137 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ طلبہ کی روزانہ حاضری بھی بلند رہی ہے۔اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ صوبے کے لائیو ڈیش بورڈ کو حقیقی وقت میں معلومات فراہم کرنے والے ڈسٹرکٹ نرو سینٹرز اب 37 اضلاع میں قائم ہو چکے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کے 19 بنیادی فرائض پر مشتمل ایک جامع ٹول کٹ انٹیگریٹڈ پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ سسٹم (آئی پی ایم ایس) پر فعال کر دی گئی ہے تاکہ فیصلہ سازی کو یکساں بنایا جا سکے۔شرکاء کو لائیو مانیٹرنگ ڈیش بورڈ کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی، جس میں محکمہ وار ڈیٹا، سروس ڈیلیوری کے اشاریے اور تصویری و جیو ٹیگڈ معلومات کو یکجا کر کے حقیقی وقت میں نگرانی کو ممکن بنایا گیا ہے۔ڈسٹرکٹ بیوٹیفیکیشن اینڈ انوویٹو انیشیٹوز پروگرام کے تحت جولائی 2026 تک تمام 37 اضلاع میں 79 بیوٹیفیکیشن اور 42 جدید منصوبے شارٹ لسٹ کیے گئے تھے؛ ان میں سے 94.6 فیصد بیوٹیفیکیشن اور 91.8 فیصد جدید منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ سات اضلاع کی جانب سے شروع کیے گئے ماڈلز — جن میں چارسدہ کا متعدی امراض سے بچاؤ کا پروگرام، ڈیرہ اسماعیل خان کا کمیونٹی فلیگ پول فلڈ وارننگ سسٹم اور بٹگرام کا امید صحت ٹیلی میڈیسن منصوبہ شامل ہیں کو ستمبر کے آخر تک تمام 37 اضلاع میں شروع کرنے کے نصف سے زائد مراحل پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں۔ دسمبر 2026 تک جاری اگلے مرحلے کے لیے مزید 103 بیوٹیفیکیشن اور جدید منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے، جس میں ہر ضلع کو کم از کم ایک ایک منصوبہ مکمل کرنا ہو گا۔ اجلاس میں زیرِ زمین اور بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبوں اور مزید خدمات کی آؤٹ سورسنگ پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور بتایا گیا کہ اضلاع میں اور ترقیاتی منصوبوں میں پانی سے متعلق اقدامات شروع کردئیے گئے ہیں۔ ایک اہم فیصلے کے تحت فورم نے سروس ڈیلیوری کی بنیاد پر اضلاع کی باضابطہ درجہ بندی جاری کرنے کا فیصلہ کیا، جس سے اضلاع کے درمیان صحت مندانہ مسابقت اور احتساب کے عمل کو تقویت ملے گی۔اجلاس کے اختتام پر چیف سیکرٹری نے کہا کہ گڈ گورننس روڈ میپ اور ڈسٹرکٹ سروس ڈیلیوری فریم ورک صوبے میں گڈ گورننس اور ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے دو کلیدی ستون ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بعض اضلاع میں امن و امان کی صورتحال کو عوام کو بنیادی خدمات کی فراہمی میں رکاوٹ یا بہانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے دور دراز اور پسماندہ اضلاع کو دیگر اضلاع کے برابر لانے کے لیے تیز رفتار اقدامات کی ہدایت کی تاکہ صوبے کا کوئی بھی حصہ بنیادی سہولیات کی فراہمی میں پیچھے نہ رہے۔کانفرنس میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری (جنرل) اور انتظامی محکموں کے سیکرٹریز شریک ہوئے جبکہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز نے وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
