صوبائی کونسل برائے سماجی بہبود خیبر پختونخوا کے 34ویں اجلاس کا انعقاد

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے زکوٰۃ و عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان کی زیرِ صدارت صوبائی کونسل برائے سماجی بہبود خیبر پختونخوا کا 34واں اجلاس وزیرِ سماجی بہبود کے دفتر، پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبے میں سماجی بہبود کے شعبے سے متعلق اہم امور، جاری اقدامات، مالی معاملات، قانونی پیش رفت اور مستقبل کی حکمتِ عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود شریف حسین، سیکشن آفیسر محکمہ داخلہ عباس سلام،ممبر صوبائی کونسل برائے سماجی بہبود خیبر پختونخوا (ہزارہ)عمر جاوید، ایڈیشنل سیکرٹری ریونیومحمد سلیم، ڈپٹی سیکرٹری فنانس گلشن آرا اور ایڈیشنل سیکرٹری صاحبزادہ مختیار سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران صوبائی کونسل برائے سماجی بہبود کی تشکیلِ نو کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے کونسل کی موجودہ ضروریات، انتظامی ڈھانچے اور دائرہ کار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا۔ اس موقع پر صوبائی کونسل برائے سماجی بہبود سے متعلق بل/ایکٹ کو جلد از جلد قانون سازی کے لیے پیش کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ متعلقہ قانونی امور کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے، تاکہ کونسل کو مضبوط، مؤثر اور واضح قانونی و انتظامی بنیاد فراہم کی جا سکے۔اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری سے متعلق امور بھی زیرِ غور آئے۔ صوبائی کونسل برائے سماجی بہبود کے لیے گرانٹ اِن ایڈ میں خاطر خواہ اضافے کی تجویز پیش کی گئی، تاکہ کونسل اپنی جاری سرگرمیوں، فلاحی منصوبوں اور مستقبل کے پروگراموں کو بہتر انداز میں جاری رکھ سکے۔ اس سلسلے میں موجودہ 8ملین روپے کی گرانٹ کو مرحلہ وار بڑھا کر کم از کم 200ملین روپے تک لے جانے کی تجویز پر غور کیا گیا۔ ملک لیاقت علی خان نے زور دیا کہ کونسل کی بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں، انتظامی اخراجات، سماجی بہبود کے منصوبوں اور عوامی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے مناسب مالی وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔اجلاس میں رضاکارانہ سماجی بہبود کی ایجنسیوں اور غیر سرکاری تنظیموں کو محکمہ خزانہ کی جانب سے گرانٹ اِن ایڈ کی منظوری یا سفارش سے متعلق امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ مستحق اداروں کی معاونت کے لیے ایک شفاف، مؤثر اور باقاعدہ طریقہ کار وضع کیا جائے، تاکہ دستیاب وسائل کو عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر بہتر انداز میں خرچ کیا جا سکے۔ ملک لیاقت علی خان نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی مشاورت سے آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کریں۔اجلاس میں سماجی بہبود کے اداروں کو مزید مؤثر بنانے، عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو بہتر انداز میں آگے بڑھانے اور معاشرے کے کمزور، مستحق اور خصوصی توجہ کے حامل طبقات تک سہولیات کی رسائی یقینی بنانے پر بھی تفصیلی تبادلہ? خیال کیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری، معلومات کے تبادلے، نگرانی کے نظام اور جاری منصوبوں کی مؤثر مانیٹرنگ کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔شرکاء نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ سماجی بہبود کے شعبے میں کام کرنے والے سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے، تاکہ دستیاب وسائل کو مربوط انداز میں استعمال کرتے ہوئے عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔ اجلاس میں کونسل کے آئندہ اجلاسوں کے ایجنڈے، جاری منصوبوں کی پیش رفت اور مستقبل کی ترجیحات سے متعلق دیگر امور بھی زیرِ غور لائے گئے۔

مزید پڑھیں