
وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور خیبر پختونخوا آفتاب عالم کی زیر صدارت بٹگرام تحصیل کمپلیکس کی تعمیر اور ڈسٹرکٹ بار بٹگرام کے ساتھ جاری قانونی تنازع کے حوالے سے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایم پی اے منیر حسین لغمانی، ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل، ڈپٹی کمشنر بٹگرام، ڈسٹرکٹ بار بٹگرام کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر قائم خصوصی کمیٹی کی سفارشات، عدالتی کارروائی اور ضلعی انتظامیہ و بار کے مؤقف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ بٹگرام میں تحصیل دفتر کی پرانی عمارت 1993 میں تعمیر کی گئی تھی جو 2005 کے زلزلے میں جزوی طور پر متاثر ہوئی۔ صوبائی حکومت نے 2021 میں بٹگرام اور الائی کے لیے نئے تحصیل کمپلیکس کی تعمیر کا منصوبہ منظور کیا، جس کی مجموعی لاگت تقریبا 170 ملین روپے ہے۔ پرانی عمارت 2024 میں مسمار کی گئی، تاہم متبادل سرکاری زمین دستیاب نہ ہونے کے باعث اسی مقام پر نئی عمارت تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ عمارت کی مسماری کے بعد ڈسٹرکٹ بار بٹگرام نے مختلف عدالتی فورمز سے رجوع کیا، جبکہ پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ میں دائر رٹ پٹیشن پر سٹے آرڈر کے باعث تعمیراتی کام تاحال معطل ہے۔ضلعی انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ تحصیل کمپلیکس کی تعمیر کے لیے صرف 15 مرلہ اراضی درکار ہے جو سابقہ اسسٹنٹ کمشنر دفتر کی جگہ پر دستیاب ہے، جبکہ متبادل سرکاری زمین موجود نہیں۔ انتظامیہ کے مطابق منصوبے میں تاخیر سے تعمیراتی لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔دوسری جانب ڈسٹرکٹ بار بٹگرام کے نمائندگان نے منتخب مقام اور اراضی کے استعمال سے متعلق اپنے قانونی و انتظامی تحفظات سے اجلاس کو آگاہ کیا اور تمام فریقین کی مشاورت سے قابلِ قبول حل تلاش کرنے پر زور دیا۔اس موقع پر وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ صوبائی حکومت کا مقصد کسی فریق کے مفاد کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ قانون کے تقاضوں اور تمام متعلقہ فریقین کے جائز تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملے کا دوستانہ اور پائیدار حل نکالنا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر ایڈووکیٹ جنرل، مقامی ایم پی اے اور صوبائی وزیر قانون پر مشتمل خصوصی کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو تمام فریقین سے مشاورت کے بعد اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے گی۔آفتاب عالم نے ہدایت کی کہ مشاورتی عمل فوری طور پر مکمل کیا جائے اور عدالت عالیہ کے سامنے ایسا متفقہ حل پیش کیا جائے جس سے قانونی تنازع کا خاتمہ، فریقین کے تحفظات کا ازالہ اور تحصیل کمپلیکس کے تعمیراتی کام کی بحالی ممکن ہو سکے۔صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ عوامی اہمیت کے منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر قابلِ قبول نہیں، کیونکہ اس سے نہ صرف عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ سرکاری وسائل اور منصوبے کی لاگت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔انہوں نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ معاملے کے جلد اور قانونی تصفیے کے لیے تمام دستیاب آپشنز پر غور کیا جائے اور باہمی اتفاقِ رائے سے قابلِ عمل سفارشات مرتب کی جائیں۔
