
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات اور بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے فلاحی ریاست، مستحق طبقات کی معاونت اور باعزت خودکفالت کے وژن کے تحت مشیرِ وزیراعلیٰ برائے زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان نے پبی کے مختلف سماجی بہبود اور تربیتی مراکز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے فراہم کی جانے والی سہولیات، انتظامی امور اور زیرِ کفالت افراد کی نگہداشت کا تفصیلی جائزہ لیا۔مشیرِ وزیراعلیٰ نے سب سے پہلے پبی ریہیبلیٹیشن سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے رہائشی کمروں، بستروں، پنکھوں، صفائی ستھرائی، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات کا معائنہ کیا۔ انہوں نے مرکز میں فراہم کیے جانے والے کھانے کے معیار اور غذائیت کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ادویات کی دستیابی اور باقاعدہ فراہمی بھی چیک کی۔ملک لیاقت علی خان نے ریہیبلیٹیشن سینٹر کے اسٹاف سے ملاقات کرکے مرکز کے انتظامی امور اور زیرِ علاج افراد کی نگہداشت کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے وہاں مقیم افراد سے بھی ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور مرکز میں فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔اس موقع پر مشیرِ وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں نے اسٹاف کو سختی سے ہدایت کر رکھی ہے کہ یہاں داخل افراد کے کھانے پینے، علاج اور دیگر ضروریات کا بھرپور خیال رکھا جائے اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی یا ظلم برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی اور مستحق افراد کے ساتھ انسانیت، عزت اور احترام سے پیش آنا محکمہ سماجی بہبود کی بنیادی ذمہ داری ہے۔بعدازاں مشیرِ وزیراعلیٰ نے پبی کے باچا خان ویمنز ووکیشنل سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مرکز میں زیرِ تربیت خواتین اور بچوں سے ملاقات کی اور ان سے بات چیت کی۔ انہوں نے مرکز میں صفائی، حفظانِ صحت، رہائش، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ملک لیاقت علی خان نے بچوں میں انعامات بھی تقسیم کیے اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔انہوں نے کہا کہ ایسے تربیتی مراکز خواتین اور مستحق افراد کو ہنر سکھا کر انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مرکز کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زیرِ تربیت افراد کو بہتر ماحول، معیاری سہولیات اور مؤثر فنی تربیت کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ وہ مستقبل میں اپنے خاندانوں کا سہارا بن سکیں۔ملک لیاقت علی خان نے نوشہرہ کے ڈیف ریچ اسکول اینڈ کالج کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے سماعت سے محروم بچوں سے ملاقات کی اور ان سے اشاروں کی زبان میں بات چیت کی۔ انہوں نے بچوں کے کھانے پینے، صفائی، حفظانِ صحت، کچن اور دیگر تعلیمی و رہائشی سہولیات کا جائزہ لیا۔مشیرِ وزیراعلیٰ نے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں اور ادارے میں فراہم کی جانے والی خصوصی تعلیم کے معیار کو سراہتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ بچوں کی بہتر نگہداشت، معیاری تعلیم اور ضروری سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی بچوں کو تعلیم، تربیت اور مناسب مواقع فراہم کرکے انہیں معاشرے کا فعال اور خودمختار حصہ بنایا جا سکتا ہے۔نوشہرہ کے ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں کھلی کچہریبعدازاں نوشہرہ کے ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جہاں مشیرِ وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان نے عوام کے مسائل تفصیل سے سنے اور ان کے حل کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ میرا نوشہرہ آنے کا مقصد فوٹو سیشن نہیں بلکہ عوام کے مسائل سننا اور انہیں حل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس دن سے انہوں نے محکمہ سماجی بہبود کی ذمہ داری سنبھالی ہے، اسی دن سے متعلقہ ضلعی افسران کو ہدایت کی ہے کہ خصوصی افراد، یتیم بچوں اور بیواؤں سمیت مستحق افراد کی گھر گھر جا کر رجسٹریشن کی جائے تاکہ کوئی بھی حقدار اپنے حق سے محروم نہ رہے۔مشیرِ وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ خصوصی افراد، خواتین، مرد، یتیم، بیوائیں اور دیگر مستحق افراد کو ایسے ہنر سکھائے جائیں جن کے ذریعے وہ اپنے گھروں میں بیٹھ کر باعزت روزگار کما سکیں، اپنے خاندانوں کا سہارا بنیں اور کسی کے محتاج نہ رہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہنرمندی اور فنی تربیت کے فروغ کے ذریعے مستحق افراد کو خودکفیل بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔ قالین بافی، سلائی کڑھائی، دستکاری اور دیگر گھریلو صنعتوں سے متعلق تربیت فراہم کرکے انہیں روزگار کے پائیدار مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرامز کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ تربیت حاصل کرنے والے افراد اپنی صلاحیتوں کو آمدن کے مستقل ذرائع میں تبدیل کر سکیں۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ مستحق افراد کو مستقل طور پر امداد کا محتاج رکھنے کے بجائے انہیں ہنرمند، باعزت اور خودکفیل بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ **میری کوشش ہے کہ ایک ایسا نظام قائم ہو جہاں لوگوں کو زکوٰۃ کی ضرورت ہی نہ پڑے، بلکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں، اپنے گھروں کا سہارا بنیں اور ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف مالی امداد فراہم کرنا نہیں بلکہ مستحق افراد کو باعزت اور خودمختار بنانا ہے۔ وزیراعظم/بانی چیئرمین عمران خان کے فلاحی ریاست کے وژن اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ہدایات کے مطابق محکمہ سماجی بہبود عوام کی خدمت اور مستحق طبقات کی فلاح کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گا۔کھلی کچہری کے دوران مشیرِ وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان نے اعلان کیا کہ نوشہرہ میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ قائم کیا جائے گا تاکہ بچوں کے تحفظ، حقوق اور فلاح کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یونٹ کے قیام سے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے، ان کے مسائل کے بروقت ازالے اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری میں مدد ملے گی۔انہوں نے خصوصی افراد سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ “میں آپ کا وکیل ہوں، میں آپ کے لیے یہاں موجود ہوں۔ یہ دفتر آپ لوگوں کی خدمت کے لیے ہے۔”انہوں نے یقین دلایا کہ خصوصی افراد، یتیموں، بیواؤں اور دیگر مستحق طبقات کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے اور انہیں ایسی مہارتیں فراہم کی جائیں گی جن کے ذریعے وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ ان شاء اللہ ہم اپنے خصوصی افراد کو ایسے ہنر سکھائیں گے کہ وہ باعزت طریقے سے اپنے گھروں کا سہارا بنیں اور کسی کے محتاج نہ رہیں۔
