خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ خوراک کا اجلاس

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ خوراک کا اجلاس پشاور میں کمیٹی کے چیئرمین و رکن صوبائی اسمبلی لائق محمد خان کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان و اراکین صوبائی اسمبلی گورپال سنگھ، محترمہ افشاہ حسین اور محترمہ شازیہ جدون نے شرکت کی، جبکہ سیکرٹری محکمہ خوراک، ایڈیشنل سیکرٹری، ڈائریکٹر فوڈ، ڈائریکٹر خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی، محکمہ قانون اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس میں محکمہ خوراک کی مجموعی کارکردگی، غذائی تحفظ، اشیائے خوردونوش کے معیار، رسد کے نظام اور عوام کو مناسب قیمتوں پر معیاری خوراک کی فراہمی سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
سیکرٹری محکمہ خوراک نے کمیٹی کو محکمہ کی ذمہ داریوں، جاری اقدامات اور مختلف شعبوں میں کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتیہوئے بتایا کہ صوبے میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانا اور عوام کو محفوظ و معیاری خوراک کی فراہمی محکمہ خوراک کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ آف فوڈ اور خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کے ذریعے اس مقصد کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری نے بتایا کہ محکمہ گندم اور چینی کی خریداری، ذخیرہ، راشننگ اور تقسیم، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کی نگرانی و کنٹرول، شوگر کین ڈویلپمنٹ سس رولز 1964ء پر عملدرآمد اور شہری رسد کی فراہمی سمیت متعدد اہم امور کی نگرانی کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ گندم کے گوداموں، نانبائیوں، فلور ملز، چینی اور شوگر ملز سے متعلق اعداد و شمار کی نگرانی، قیمتوں کے تعین و کنٹرول اور ڈیجیٹل سپلائی چین مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے رسد کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ ڈائریکٹر فوڈ نے کمیٹی کو بتایا کہ صوبے میں اشیائے خوردونوش کی وافر دستیابی، معیار اور مناسب و منصفانہ قیمتوں کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر نگرانی اور انتظامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اجلاس میں ڈائریکٹر خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے اتھارٹی کے قیام، دائرہ کار اور کارکردگی پر بھی تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کا قیام 2018ء میں عمل میں لایا گیا، جبکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں اس کے دفاتر قائم ہیں۔ اتھارٹی کے تحت خوراک کے معیار کی جانچ کے لیے ٹیسٹنگ کی سہولیات، بشمول موبائل لیبارٹریز، دستیاب ہیں، جہاں مختلف غذائی مصنوعات کے نمونے حاصل کرکے ان کا معیار جانچا جاتا ہے۔ غیر معیاری یا مضرِ صحت اشیائے خوردونوش کی تیاری اور فروخت میں ملوث افراد و اداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی اور جرمانے عائد کیے جاتے ہیں، جبکہ غیر معیاری مصنوعات کو تلف کرنے کے ساتھ ساتھ ڈیری فارمز اور خوراک سے وابستہ دیگر کاروباری اداروں کی رجسٹریشن بھی یقینی بنائی جاتی ہے۔ اس موقع پر کمیٹی کی رکن محترمہ افشاں حسین نے کہا کہ فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی ذمہ داریاں انتہائی اہم نوعیت کی ہیں، کیونکہ ان کا براہِ راست تعلق عوام کی صحت اور محفوظ و معیاری خوراک کی فراہمی سے ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کو صحت بخش اور محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے نگرانی، معائنہ اور چیکنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ رکن قائمہ کمیٹی محترمہ شازیہ جدون نے محکمہ خوراک میں موجود خالی آسامیوں کو جلد از جلد پُر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افرادی قوت کی کمی دور ہونے سے محکمہ کی کارکردگی اور عوامی خدمات میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔ رکن قائمہ کمیٹی گورپال سنگھ نے کہا کہ محکمہ خوراک سے عوام کی بہت سی توقعات وابستہ ہیں، کیونکہ یہ صوبے کے عوام کو محفوظ، معیاری اور مناسب قیمتوں پر خوراک کی فراہمی کے حوالے سے اہم ذمہ داری ادا کرتا ہے۔ اجلاس کے اختتام پر قائمہ کمیٹی کے چیئرمین لائق محمد خان نے محکمہ خوراک اور خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلی بریفنگ کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام اور مؤثر رسد کا نظام حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ خوراک کے معیار، قیمتوں کی نگرانی، ذخیرہ اندوزی و ناجائز منافع خوری کی روک تھام اور سپلائی چین کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے عملی اقدامات تیز کیے جائیں، جبکہ محکمہ خوراک میں خالی آسامیوں کو پُر کرنے اور عوامی خدمات کے معیار میں مزید بہتری کے لیے بھی ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔

مزید پڑھیں