مشیر جنگلات پیر مصور خان کی ہدایات کی روشنی میں ڈی ایف او وائلڈ لائف پشاور کی پشاور موٹر وے ٹول پلازہ پر کارروائی

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان کی ہدایات کی روشنی میں خیبر پختونخوا وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے پشاور ٹول پلازہ پر شکاریوں سے برآمد کیے گئے 12 شاہینوں کو ان کے قدرتی مسکن میں آزاد کر دیا۔ اس موقع پر مشیر جنگلات نے کہا کہ اس اقدام سے شاہینوں کی جنگلی آبادی کی بحالی، ماحولیاتی توازن کے تحفظ اور قدرتی غذائی سلسلے کی برقرار ی میں مدد ملے گی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات پیر مصور خان غازی کو بطور مہمانِ خصوصی مدعو کیا گیا، جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے شاہینوں کو قدرتی ماحول میں آزاد کیا۔کنزرویٹر وائلڈ لائف سنٹرل سرکل محمد اسرار نے صوبائی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ 12 شاہین پشاور موٹروے ٹول پلازہ پر تعینات وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے ڈائیو بس میں سمگل کرنے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے برآمد کیے۔ یہ کارروائی ڈی ایف او وائلڈ لائف پشاور مسز مناہل وہاب کی ہدایات پر عمل میں لائی گئی، جس کا مقصد محفوظ جنگلی حیات کی غیر قانونی نقل و حمل اور تجارت کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔پیر مصور خان نے وائلڈ لائف کے فیلڈ اسٹاف کی فرض شناسی اور مؤثر کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جنگلی حیات کے تحفظ اور بحالی کے لیے مؤثر اقدامات حیاتیاتی تنوع، ماحولیاتی توازن اور قدرتی غذائی سلسلے کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنگلی حیات کا مؤثر تحفظ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔صوبائی مشیر نے فیلڈ اسٹاف کی بہترین کارکردگی کے اعتراف میں ان میں تعریفی اسناد تقسیم کیں اور اپنی جانب سے نقد انعامات بھی دیے، جبکہ انہیں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مزید محنت جاری رکھنے کی ہدایت کی اور وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ پر زور دیا کہ جنگلی حیات کے قوانین پر عمل درآمد مزید مؤثر بنایا جائے، غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت کی روک تھام، جنگلی حیات کی آبادی کی بحالی اور صوبے کے قیمتی حیاتیاتی و قدرتی ورثے کے تحفظ کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں۔خیبر پختونخوا وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے صوبے بھر میں جنگلی حیات کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع کی حفاظت اور وائلڈ لائف قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں