
مشیر برائے اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور اور کوآرڈینیٹر پیغام امن کمیٹی مولانا طیب قریشی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملک کے تمام سکیورٹی و سول اداروں کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ سرزمین پاکستان پر افواج پاکستان کے خلاف جنگ کرنا حرام ہے، جبکہ ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف سرگرم عناصر کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ پاکستان ہم سب کا وطن ہے اور ہم سب پاکستانی ہیں، اس لیے قومی یکجہتی، اتحاد اور ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیغام امن کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مولانا نذیر حسین، مفتی عبید الرحمن سمیت کمیٹی کے اراکین موجود تھے۔مولانا طیب قریشی نے کہا کہ پیغام امن کمیٹی کے قیام کا بنیادی مقصد قومی بیانیے ’’پیغام پاکستان‘‘ کو فروغ دینا، امن و استحکام کے لیے عوامی شعور اجاگر کرنا اور معاشرے میں مذہبی و سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے۔ کمیٹی تمام مکاتب فکر اور طبقات کو ساتھ لے کر چلتے ہوئے قومی اتحاد اور ریاست سے وابستگی کے جذبے کو مزید مستحکم کرے گی۔انہوں نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اس معاہدے کی حمایت کرتی ہے۔ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے حقوق اور قومی مفادات کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ جو عناصر پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں، ہم ان کے خلاف ہیں اور ریاست دشمن سرگرمیوں کی مذمت کرتے ہیں۔
مولانا طیب قریشی نے کہا کہ ہمارے اکابرین نے وطن عزیز کے قیام اور اس کے تحفظ کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح> نے پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست کے قرار دیا تھا، جہاں تمام شہریوں کو بلاامتیاز حقوق حاصل ہوں۔ اسی تصور کو آگے بڑھاتے ہوئے ہمیں پاکستان کو امن، رواداری، انصاف اور باہمی احترام کا گہوارہ بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیغام امن کمیٹی صوبے بھر میں امن، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔ اس سلسلے میں ڈویژنل سطح پر تقریبات منعقد کی جائیں گی، جن میں علمائ کرام، اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو شریک کیا جائے گا تاکہ قومی بیانیے کو مؤثر انداز میں عوام تک پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کمیٹی نسلی، لسانی اور علاقائی تعصبات سے بالاتر ہو کر تمام پاکستانیوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کے لیے کوشاں ہے۔مشیر اوقاف نے بارہ اضلاع کے لیے مشاورتی کونسلوں کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ مشاورتی کونسلوں کے ذریعے عوامی مسائل کی نشاندہی، متعلقہ حلقوں سے مشاورت اور ان کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کو فروغ ملے گا۔ عوامی فلاح و بہبود اور پائیدار ترقی کے لیے مشاورت اور باہمی تعاون ناگزیر ہیں۔معدنیات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا طیب قریشی نے کہا کہ معدنی وسائل کے نام پر منفی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہیں۔ معدنیات اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت اور قومی وسائل ہیں۔ معدنی وسائل کو عوامی ترقی کا ذریعہ بنایا جائے اور اس حوالے سے قومی مفاد کو مقدم رکھا جائے۔مذہبی و اقلیتی امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کی جبری مذہبی تبدیلی کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ اقلیتوں کو آئین و قانون کے تحت مکمل حقوق کی فراہمی اور ان کی جان و مال، عبادت گاہوں اور مذہبی آزادی کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے۔ پیغام امن کمیٹی اقلیتی برادریوں کی خدمات اور ملکی ترقی کے لیے ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ امن، برداشت اور باہمی احترام ہی ایک مضبوط اور مستحکم معاشرے کی بنیاد ہیں۔مولانا طیب قریشی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیغام امن کمیٹی قومی اتحاد، مذہبی رواداری، ریاستی اداروں کے احترام اور قیام امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں امن و استحکام، بھائی چارے اور ترقی کی فضا کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
