مشیر اوقاف، مذہبی و اقلیتی امور ، زکوٰۃ و عشر مولانا طیب قریشی نے کہا ہے کہ محکمہ زکوٰۃ و عشر میں شفافیت لانا، اس کی کارکردگی بہتر بنانا اور مستحق افراد تک مالی امداد کی بروقت فراہمی یقینی بنانا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ محکمے کی کارکردگی عملی طور پر نظر آنی چاہیے اور تمام فلاحی اقدامات کو تیز رفتاری کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ زکوٰۃ کمیٹیوں کی استعداد کار میں اضافے اور نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ مستحقین کو ان کا حق بروقت مل سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ زکوٰۃ و عشر کے تعارفی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری سماجی بہبود، زکوٰۃ و عشر شریف حسین، ایڈیشنل سیکرٹری زکوٰۃ و عشر، ایڈمنسٹریٹر زکوٰۃ سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر سیکرٹری شریف حسین نے مشیر مولانا طیب قریشی کو خوش آمدید کہا جبکہ محکمہ کے افسران اور عملے سے ان کا تعارف بھی کرایا گیا۔اجلاس میں محکمے کے نظم، انتظامی ڈھانچے، ذمہ داریوں اور جاری فلاحی پروگراموں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفننگ میں بتایا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد محکمہ زکوٰۃ و عشر صوبے کو منتقل ہوا ہے۔ غربائ، بیواؤں، یتیموں اور دیگر مستحق افراد کو مالی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ تعلیمی وظائف اور علاج معالجے کے لیے بھی امداد فراہم کرتا ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ زکوٰۃ و عشر کی منصفانہ تقسیم اور انتظامی امور کی انجام دہی کے لیے صوبائی زکوٰۃ کونسل، ضلعی زکوٰۃ کمیٹیوں اور مقامی زکوٰۃ کمیٹیوں کا نظام قائم ہے۔ اس کے علاوہ فیلنتھراپک کنٹری بیوشن فنڈ اور سوشل پروٹیکشن فنڈ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ محکمے کے تحت مستحق خاندانوں کے لیے میرج اسسٹنس، تعلیمی وظائف، دینی مدارس اور علاج معالجے کے لیے مالی معاونت سمیت مختلف فلیگ شپ منصوبوں پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ اجلاس کو محکمے کی ڈیجیٹلائزیشن، زکوٰۃ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم، افرادی قوت، بجٹ اور جاری منصوبوں کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔مولانا طیب قریشی نے ہدایت کی کہ محکمے کے تمام امور میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے اور فلاحی منصوبوں کے ثمرات حقیقی مستحقین تک پہنچانے کے لیے عملی اقدامات کی رفتار تیز کی جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ زکوٰۃ و عشر کو مزید فعال، مؤثر اور عوامی خدمت کا حقیقی ذریعہ بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
