
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر کی زیر صدارت آن فارم واٹر مینجمنٹ کے تحت جاری ایریگیٹڈ ایگریکلچر امپروومنٹ پراجیکٹ کی مختلف سرگرمیوں، اقدامات اور پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں منصوبے کے تحت جاری ترقیاتی سرگرمیوں، مقررہ اہداف، جدید آبپاشی ٹیکنالوجیز کے فروغ اور اب تک حاصل ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان، ڈائریکٹر جنرل زراعت ریسرچ ڈاکٹر عبدالرؤف، ڈائریکٹر جنرل آن فارم واٹر مینجمنٹ حیات خان، پراجیکٹ ڈائریکٹر ایریگیٹڈ ایگریکلچر امپروومنٹ پراجیکٹ محمد آصف جبکہ آن فارم واٹر مینجمنٹ کے ضلعی افسران نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت زرعی شعبے میں پانی کے مؤثر اور کفایت شعاری پر مبنی استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ہائی ایفیشنسی اریگیشن سسٹم کی تنصیب پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اس نظام کے تحت اب تک 359 ایکڑ رقبے پر کام مکمل کیا جاچکا ہے جبکہ 430 ایکڑ رقبے پر کام جاری ہے۔ اجلاس میں محکمہ زراعت ریسرچ کی اراضی پر بھی ہائی ایفیشنسی اریگیشن سسٹم نصب کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا تاکہ جدید آبپاشی ٹیکنالوجی کو تحقیقی و زرعی سرگرمیوں سے منسلک کرتے ہوئے اس کے عملی فوائد کو مزید اجاگر کیا جاسکے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ زرعی پانی کے بہتر استعمال، زمین کی ہمواری اور آبپاشی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے لیزر لینڈ لیولنگ یونٹس کی فراہمی کا عمل بھی جاری ہے۔ اب تک 178 لیزر لینڈ لیولنگ یونٹس فراہم کیے جاچکے ہیں جبکہ 50 مزید یونٹس کی فراہمی/تنصیب پر کام جاری ہے۔اس موقع پر مشیر زراعت میاں محمد عمر نے کہا کہ پانی زرعی شعبے کے لیے بنیادی اور قیمتی وسیلہ ہے، اس لیے دستیاب آبی وسائل کے مؤثر اور دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنانا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ہائی ایفیشنسی اریگیشن سسٹم خصوصاً پانی کی قلت والے علاقوں میں زرعی پیداوار کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے کم پانی میں زیادہ رقبے کو مؤثر انداز میں سیراب کرنے اور فصلوں کی پانی کی ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کرنے میں مدد ملے گی۔میاں محمد عمر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کے تحت جاری تمام سرگرمیوں کو مقررہ اہداف کے مطابق آگے بڑھایا جائے اور سال کے اختتام تک دیے گئے اہداف کے حصول کے لیے عملی اقدامات مزید تیز کیے جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جاری کاموں کے معیار اور رفتار کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور جدید آبپاشی نظام کے فوائد زیادہ سے زیادہ زرعی رقبے اور کسانوں تک پہنچانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت جدید آبپاشی ٹیکنالوجیز کے فروغ کے ساتھ ساتھ واٹر کورسز کی بحالی، پانی ذخیرہ کرنے کے نظام، لیزر لینڈ لیولنگ اور دیگر اقدامات پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد زرعی رقبے تک آبپاشی کے پانی کی مؤثر ترسیل، پانی کے ضیاع میں کمی، دستیاب آبی وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال اور کسانوں کو جدید زرعی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
