خیبر پختونخوا حکومت کاکسانوں کے لیے سبسڈی پروگرام زرعی بحالی کی جانب اہم پیش رفت ہے۔

تحریر: فضل قیوم
محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ پشاور

حکومت خیبر پختونخوا نے مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ، خصوصاً ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے تناظر میں وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی ہدایات پر کسانوں اور زرعی شعبے کو سہارا دینے کے لیے ایک جامع سبسڈی پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد نہ صرف کسانوں کی پیداواری لاگت میں کمی لانا ہے بلکہ براہِ راست مالی معاونت کے ذریعے ان کی معاشی حالت کو بہتر بنانا اور صوبے میں زرعی پیداوار کو فروغ دینا بھی ہے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق صوبے بھر میں کسانوں کی رجسٹریشن اور تصدیق کا عمل تیزی سے جاری ہے۔مجموعی طور پر 14 لاکھ 94 ہزار 181 کسان رجسٹرڈ کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 8 لاکھ 53 ہزار 899 (57 فیصد) کی تصدیق مکمل ہو چکی ہے۔ ویریفائیڈ کسانوں میں 7 لاکھ 35 ہزار 720 گندم کے کاشتکار جبکہ 1 لاکھ 18 ہزار 179 دیگر فصلوں کے کاشتکار شامل ہیں۔ مزید 6 لاکھ 40 ہزار 282 درخواستیں تاحال زیرِ غور ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت بڑے پیمانے پر کسانوں کو ڈیجیٹل نظام میں شامل کرنے کے عمل میں مصروف ہے۔گندم کو صوبے کی اہم ترین فصل قرار دیتے ہوئے حکومت نے اس کے کاشتکاروں کے لیے خصوصی سبسڈی متعارف کرائی ہے۔ اس سکیم کے تحت فی ایکڑ 1500 روپے تک مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ حد 12.5 ایکڑ مقرر کی گئی ہے۔ صوبے میں گندم کا کل کاشت شدہ رقبہ 18 لاکھ 24 ہزار 86 ایکڑ ہے، جبکہ اس مد میں 2 ارب 73 کروڑ 60 لاکھ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق یہ سرمایہ کاری زرعی پیداوار میں اضافے اور کسانوں کے مالی بوجھ میں کمی کے لیے نہایت اہم ہے۔ حکومت نے سبسڈی کی شفاف اور بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام متعارف کرایا ہے۔ اس مقصد کے لیے موبائل والٹ سسٹم استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے کسانوں کو براہِ راست رقوم منتقل کی جا رہی ہیں۔ اب تک 72 کروڑ 32 لاکھ 90 ہزار روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں، جبکہ تقریباً 1 لاکھ 67 ہزار 914 کسان اس سہولت سے مستفید ہو چکے ہیں، جو کہ کل ویریفائیڈ کسانوں کا تقریباً 23 فیصد بنتا ہے۔اگرچہ پروگرام کامیابی سے جاری ہے، تاہم اس کے نفاذ میں چند تکنیکی اور انتظامی مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔ ان میں سب سے اہم مسئلہ بعض کسانوں کے شناختی کارڈ (CNIC) کے ڈیٹا میں اجرا کی تاریخ کا اندراج نہ ہونا ہے، جس کے باعث موبائل اکاؤنٹس کھلوانے میں مشکلات پیش آئیں۔ اس کے علاوہ کئی کسانوں کی جانب سے SMS لنکس کا بروقت جواب نہ دینا اور ریٹیلرز کی جانب سے اکاؤنٹس کھلوانے میں کم دلچسپی بھی ادائیگیوں کی رفتار سست ہونے کا سبب بنی۔ان مسائل کے حل کے لیے حکومت نے فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے متبادل حکمت عملی تیار کی ہے۔ حکام کے مطابق ایزی پیسہ کے ساتھ شراکت داری پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ ادائیگیوں کا دائرہ وسیع کیا جا سکے۔ مزید برآں، شناختی کارڈ کی بنیاد پر براہِ راست ادائیگی (جیسا کہ رمضان پیکیج 2026 میں کیا گیا) کی تجویز بھی زیرِ غور ہے، جس کے ذریعے 24 گھنٹوں کے اندر رقوم کی منتقلی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 22 اپریل 2026 تک 500 ملین روپے فنڈز منتقل کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 215.02 ملین روپے کی ادائیگیاں مکمل ہو چکی ہیں۔ اس دوران 67 ہزار 520 کسانوں کو مجموعی طور پر 56.33 ملین روپے موصول ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پروگرام عملی طور پر فعال ہے، تاہم اس کی رفتار مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔زرعی ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کا یہ اقدام بروقت اور اہم ہے، جو نہ صرف کسانوں کو فوری مالی ریلیف فراہم کرے گا بلکہ طویل المدتی بنیادوں پر زرعی شعبے کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ پروگرام کی مکمل کامیابی کے لیے ڈیٹا کی درستگی، کسانوں میں ڈیجیٹل آگاہی، اور ادائیگی کے نظام کی بہتری پر مزید توجہ دینا ناگزیر ہے۔
مجموعی طور پر یہ سبسڈی پروگرام صوبے میں زرعی بحالی کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اگر حکومتی ادارے درپیش چیلنجز پر قابو پا کر ادائیگیوں کے نظام کو مزید مؤثر بناتے ہیں تو یہ منصوبہ نہ صرف کسانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا بلکہ صوبے کی زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ بھی ممکن بنائے گا۔

مزید پڑھیں