چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں مون سون بارشوں اور پہاڑی علاقوں میں گلاف (گلیشیئر پھٹنے) کے خطرے کے پیش کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
مون سون بارشوں کے دوران اداروں کی تیاریوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ صوبے بھر میں ندی نالوں کی صفائی کا کام جاری ہے۔ محکمہ آبپاشی نے اب تک پانی کے بہاؤ کے راستوں سے 703 کنال اراضی واگزار کروا لی ہے اور 227 غیر قانونی تعمیرات کو ہٹا دیا گیا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ریسکیو 1122 نے گزشتہ سالوں میں سیلاب سے متاثر رہنے والے 17 حساس اضلاع سمیت پورے صوبے میں تیاریاں مکمل کر لی ہیں جس کے تحت اس ماہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے خصوصی مشقیں (موک ڈرلز) کی جائیں گی، ماہر تیراک 24 گھنٹے دستیاب رہیں گے۔ اسی طرح صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بھی امدادی سامان کا سٹاک مکمل رکھا ہے. چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ پہاڑی علاقوں میں ارلی وارننگ سسٹم (پیشگی اطلاع) کو مکمل فعال رکھا جائے۔اس نظام کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے تاکہ ہنگامی صورتحال میں اطلاع زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مقامی آبادی کو موسم اور خطرات کی صورتحال سے مسلسل باخبر رکھا جائے۔ انہوں نے دریاؤں کے کنارے دفعہ 144 کے نفاذ پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اشیائے ضروریہ کا ذخیرہ یقینی بنائیں اور تمام ادارے آپس میں مضبوط رابطہ رکھیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیلاب و گلف سے بچاؤ کی حکمت عملی میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام افسران کی ذمہ داریوں کی کڑی نگرانی ہوگی۔
