دلکش نغموں کا امین، فطرت کا حسین مہمان — توت خوراکہ پرندہ کے تحفظ کیلئے مشترکہ عزم

محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبر پختونخوا کی جانب سے عوامی آگاہی مہم کے تحت خوبصورت اور دلکش آواز کے حامل پرندے “توت خوراکہ” کے تحفظ کیلئے ایک جامع پیغام جاری کیا گیا ہے۔ یہ پرندہ نہ صرف قدرت کی رنگینیوں کا حسین استعارہ ہے اور ہمارے ماحولیاتی نظام کا ایک نہایت اہم جزو بھی ہے۔ماہرین کے مطابق توت خوراکہ (Berry-eating bird) بہار کے موسم میں بالخصوص پاکستان کے سرسبز علاقوں میں نمودار ہوتا ہے اور مختلف اقسام کے جنگلی پھلوں خصوصاً شہتوت اور بیریوں سے اپنی غذا حاصل کرتا ہے۔ اس کی خوش الحان چہچہاہٹ صبح کی فضاؤں میں ایک روح پرور نغمہ بکھیرتی ہے جو فطرت کے حسن کو دوبالا کر دیتی ہے۔محکمہ نے اپنے پیغام میں واضح کیا ہے کہ یہ پرندہ کسی بھی طرح کے شکار یا نقصان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بدقسمتی سے بعض عناصر کی جانب سے غلیل اور بندوق کے ذریعے ایسے معصوم پرندوں کا شکار کیا جاتا ہے جو نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ ماحول کے قدرتی توازن کو بھی شدید متاثر کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پرندے بیجوں کی افزائش اور جنگلات کے قدرتی پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کا تحفظ درحقیقت ہماری اپنی بقا سے جڑا ہوا ہے۔محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات کے سیکرٹری جنید خان نے عوام، بالخصوص بچوں اور نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ فطرت دوست رویوں کو اپنائیں، سکولوں اور کمیونٹی سطح پر آگاہی کو فروغ دیں اور جنگلی حیات کے تحفظ میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔ اس سلسلے میں مقامی کمیونٹیز، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے اشتراک سے آگاہی پروگرامز بھی ترتیب دیے جا رہے ہیں تاکہ ماحول دوست سوچ کو فروغ دیا جا سکے۔محکمہ کے ترجمان لطیف الرحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر ہم آج ان خوبصورت پرندوں کو بچائیں گے تو آنے والی نسلیں بھی ان کے سحر انگیز نغموں اور دلکش موجودگی سے لطف اندوز ہو سکیں گی۔ جنگلی حیات کا تحفظ محض ایک ذمہ داری نہیں بلکہ ہماری تہذیبی اور اخلاقی وراثت کا حصہ ہے۔محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبر پختونخوا نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر قانونی شکار کی نشاندہی کریں، درختوں اور قدرتی مسکن کو محفوظ بنائیں اور ایک سرسبز و پائیدار خیبر پختونخوا کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔

مزید پڑھیں