خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بانی چیئر مین عمران خان کے ویژن کے تحت وزیر اعلی خیبرپختونخوا کی قیادت میں عوامی مسائل کے فوری حل، شفاف طرزِ حکمرانی، مؤثر سروس ڈیلیوری اور شہریوں کو ان کی دہلیز پر معیاری سرکاری خدمات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نوجوان نسل کو منشیات، خصوصاً آئس، کی تباہ کاریوں سے محفوظ بنانے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی، جبکہ ضلع چارسدہ میں پولیس اور محکمہ ایکسائز کو ایک ماہ کے اندر آئس مافیا کے خلاف فیصلہ کن نتائج دینے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز ضلع چارسدہ میں محکمہ ایکسائز اور انسدادِ منشیات کے حوالے سے منعقدہ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کھلی کچہری میں صوبائی وزیر معدنیات عارف احمد زئی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے سماجی بہبود ملک لیاقت علی خان، معاون خصوصی برائے جیل خانہ جات افتخار اللہ جان، سیکریٹری ایکسائز خالد الیاس، سیکریٹری سماجی بہبود شریف حسین، ڈائریکٹر جنرل ایکسائز عبدالحلیم خان، ڈپٹی کمشنر چارسدہ ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ رفعت اللہ خان، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر چارسدہ،محکمہ ایکسائز کے دیگر افسران، سول سوسائٹی کے نمائندوں، علاقہ مشران، سیاسی و سماجی شخصیات اور نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔صوبائی وزیر نے کھلی کچہری کے دوران عوام، علاقہ مشران، سیاسی و سماجی شخصیات اور نوجوانوں کے مسائل اور تجاویز تفصیل سے سنیں، متعدد شکایات کے فوری ازالے کے احکامات جاری کیے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی خدمت کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ویژن کے مطابق عوامی مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے، شفاف طرزِ حکمرانی کو فروغ دینے اور عوام دوست نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کھلی کچہریوں کا مقصد عوام اور حکومت کے درمیان براہِ راست رابطے کو فروغ دینا، شہریوں کے مسائل موقع پر سن کر ان کے فوری حل کو یقینی بنانا اور محکمہ ایکسائز کی خدمات کو مزید مؤثر بنانا ہے۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ شہریوں کو بروقت، شفاف اور باعزت انداز میں خدمات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے اور عوام کے جائز مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔صوبائی وزیر نے عوامی مفاد سے متعلق متعدد معاملات کے فوری حل کے احکامات جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو دیرپا اور مؤثر اقدامات کی ہدایت بھی کی۔منشیات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سید فخرجہان نے کہا کہ ہمارے خطے میں منشیات کا مسئلہ ایک منظم سازش کے تحت نوجوان نسل کو نشانہ بنا رہا ہے، جبکہ آئس جیسی مہلک منشیات نے بے شمار خاندانوں کی خوشیاں چھین لی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کے عادی افراد نہ صرف اپنی زندگی بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے بھی سنگین خطرہ بن جاتے ہیں، اس لیے اس ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ ضلع چارسدہ میں پولیس اور محکمہ ایکسائز مشترکہ حکمت عملی کے تحت آئس اور دیگر منشیات کے مافیاز کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کریں گے اور متعلقہ اداروں کو ایک ماہ کے اندر نمایاں نتائج دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ منشیات فروشوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی، جبکہ اگر پولیس یا محکمہ ایکسائز کا کوئی افسر یا اہلکار منشیات کے دھندے میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے ملازمت سے برخاست کیا جائے گا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ منشیات کے عادی افراد کے علاج اور بحالی کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے تاکہ وہ معاشرے کا مفید شہری بن سکیں۔ انہوں نے والدین پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں، دوستوں اور نشست و برخاست پر خصوصی نظر رکھیں تاکہ وہ بری صحبت اور منشیات فروش عناصر کے جال میں پھنسنے سے محفوظ رہیں۔تمباکو کے کاشتکاروں کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاہدوں کے مطابق تمباکو کمپنیاں کاشتکاروں کی فصل خریدنے کی پابند ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان ٹوبیکو بورڈ سے بھی رابطہ کیا جائے گا تاکہ کاشتکاروں کے حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ ایکسائز اس حوالے سے پاکستان ٹوبیکو بورڈ کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کرے گا۔وامی مطالبے پر صوبائی وزیر نے مرچکی پل پر منشیات کی روک تھام کیلئے منشیات کی روک تھام اور سکیورٹی چوکی قائم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کو باعزت روزگار کی فراہمی کو بھی منشیات کے خاتمے کی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت احساس روزگار سکیم کا آغاز کیا گیا تاکہ نوجوانوں کو معاشی طور پر خودمختار بنایا جا سکے اور بے روزگاری کے باعث منشیات کی طرف جانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس ماڈل کی افادیت کو دیکھتے ہوئے پنجاب حکومت نے بھی اسی طرز کی سکیم متعارف کرائی ہے۔کھلی کچہری سے معاون خصوصی برائے سماجی بہبود ملک لیاقت علی خان نے بھی خطاب کیا اور سماجی بہبود اور منشیات کے عادی افرادی افراد کی بحالی کیلئے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالی۔
