خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے حیات آباد میں واقع حبیب فزیوتھراپی کمپلیکس کا دورہ کیا۔ یہ دورہ صوبے میں بحالی صحت کی سہولیات کو مزید مؤثر بنانے کے حکومتی عزم کا حصہ ہے

دورے کے موقع پر وزیر صحت کا ادارے کی انتظامیہ اور متعلقہ حکام نے پرتپاک استقبال کیا۔ وزیر صحت نے اس موقع پر جسمانی معذوری کا شکار افراد میں 20 ویل چیئرز تقسیم کیں، جو حکومت کی جانب سے خصوصی افراد کی فلاح و بہبود اور ان کی معاونت کے عزم کا واضح اظہار ہے۔
اس موقع پر ڈائریکٹر ایم ایم آئی اور حبیب فزیوتھراپی کمپلیکس کی انتظامیہ نے وزیر صحت کو ادارے میں فراہم کی جانے والی مختلف طبی سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ادارے میں فزیوتھراپی، اسپیچ تھراپی، آڈیالوجی، نفسیاتی خدمات (سائیکالوجی) اور معاون آلات (Assistive Devices) کی فراہمی جیسی اہم سہولیات دستیاب ہیں، جہاں صوبے بھر سے مریض علاج کی غرض سے آتے ہیں۔
صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے کمپلیکس کے مختلف شعبوں کا دورہ بھی کیا اور زیر علاج مریضوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے خاص طور پر پولیو، فالج (اسٹروک)، اعصابی امراض میں مبتلا مریضوں، خصوصی بچوں اور بزرگ افراد کے علاج و بحالی کے عمل کا جائزہ لیا۔ وزیر صحت نے مریضوں اور ان کے اہل خانہ سے بات چیت کی اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر صحت خلیق الرحمان نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا صحت کے شعبے میں بہتری کے ساتھ ساتھ بحالی صحت کی سہولیات کو بھی ترجیح دے رہی ہے تاکہ خصوصی افراد کو معاشرے میں باعزت اور خودمختار زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا وژن ہے کہ کوئی بھی فرد علاج اور بحالی کی سہولیات سے محروم نہ رہے۔انہوں نے ادارے کے ڈاکٹرز، تھراپسٹس اور دیگر عملے کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ نہایت محنت اور لگن سے مریضوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ وزیر صحت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے اور جدید آلات و تربیت یافتہ افرادی قوت کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
صوبائی وزیر صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مستقبل میں ایسے اداروں کو مزید مضبوط کرے گی اور صوبے کے دور دراز علاقوں تک بحالی صحت کی سہولیات کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا۔دورے کے اختتام پر وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ ایک مضبوط صحت کا نظام وہی ہوتا ہے جہاں مریضوں کو نہ صرف علاج بلکہ مکمل بحالی اور بہتر معیارِ زندگی بھی فراہم کیا جائے۔

مزید پڑھیں