وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن نے خیبر میڈیکل کالج پشاور میں منعقدہ دوسری سالانہ طبی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ کانفرنس “سرحدوں سے آگے ہر ایک کے لیے صحت” کے عنوان کے تحت عالمی سطح پر مقیم سابق طلبہ تنظیم کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔
کانفرنس کے انعقاد سے قبل گزشتہ دو ہفتوں کے دوران خیبر میڈیکل کالج اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں ابتدائی تربیتی نشستوں کا کامیابی سے انعقاد کیا گیا، جبکہ مرکزی کانفرنس 14 سے 16 اپریل تک جاری رہے گی۔ یہ کانفرنس طبی تعلیم، تحقیق اور مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے۔تقریب میں چیئرمین بورڈ آف گورنرز ڈاکٹر واجد علی، ممبر بورڈ ڈاکٹر روبینہ گیلانی، ڈین خیبر میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمود اورنگزیب، کانفرنس آرگنائزر پروفیسر ڈاکٹر امبر اشرف اور عالمی سابق طلبہ تنظیم کی نمائندہ ڈاکٹر درخانہ سمیت دیگر معزز مہمانان نے شرکت کی۔صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحت کے شعبے کو درپیش چیلنجز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،خصوصاً آبادی میں تیزی سے اضافے کے باعث دستیاب وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے، تاہم اس ضمن میں مزید بہتری اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاج کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر اور عوامی آگاہی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے،کیونکہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام میں صحت سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے تاکہ بیماریوں کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیر صحت نے طبی ماہرین، اساتذہ اور منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی کانفرنسز جدید طبی رجحانات، تحقیق اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر صحت نے منتظمین کو ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈز پیش کیں۔
