وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان کی زیر صدارت پیڈیاٹرک ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا

وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان کی زیر صدارت پیڈیاٹرک ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں صوبے کے بچوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر شاہین آفریدی سمیت تمام متعلقہ پیڈیاٹرک ڈائریکٹرز اور شعبہ جات کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس میں بچوں کی صحت سے متعلقہ سہولیات کی موجودہ صورتحال اور درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ صوبائی وزیرِ صحت نے اجلاس میں شریک افسران کے پیش کردہ تمام اہم مسائل توجہ سے سنے اور ان کے حل کے لیے محکمہ صحت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور تمام پیڈیاٹرک ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اداروں میں ڈاکٹرز، نرسز اور متعلقہ طبی عملے کی ڈیوٹی اوقات میں بروقت دستیابی کو یقینی بنائیں اور نظم و ضبط پر سختی سے عمل کریں۔ انہوں نے ہسپتالوں میں صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر عملدرآمد کی بھی سختی سے ہدایت کی اور کہا کہ معیاری علاج کا آغاز صاف اور منظم ماحول سے ہوتا ہے۔اجلاس میں مستقبل کی منصوبہ بندی پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ جدید سہولیات سے آراستہ خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کے قیام سے بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ نمایاں حد تک کم ہو جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ غیر ضروری ریفرلز کی حوصلہ شکنی کے لیے ضلعی اور تدریسی ہسپتالوں میں بستروں اور وارڈز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ بچوں کو علاج مقامی سطح پر میسر ہو سکے۔صوبائی وزیرِ صحت نے یقین دہانی کرائی کہ محکمہ صحت تمام ضروری طبی آلات کی فراہمی کو یقینی بنائے گا اور خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کو ہدایت کی کہ سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی کمی کو ریشنلائزیشن پالیسی کے تحت فوری طور پر دور کیا جائے تاکہ صوبے بھر میں انسانی وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن بنائی جا سکے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری اور ایک بڑا قومی فریضہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت بنیادی صحت کے مراکز کو مضبوط بنانے میں مصروف ہے تاکہ عوام کو ضلعی سطح پر بنیادی علاج معالجہ میسر آ سکے اور انہیں غیر ضروری مالی بوجھ اور وقت کے ضیاع سے بچایا جا سکے۔صوبائی وزیرِ صحت نے واضح کیا کہ ڈیوٹی میں کوتاہی، غیر حاضری اور غفلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اصلاحاتی پالیسی پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے سخت احتساب اور مانیٹرنگ کا مربوط نظام نافذ کیا جائے گا تاکہ صحت کے شعبے میں خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

مزید پڑھیں