دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی بیان بازی کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے، طارق سعید مروت

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت نے دہشت گردی کے معاملے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی جیسے حساس اور قومی نوعیت کے مسئلے کو سیاسی بیان بازی اور صوبائی اختلافات کا ذریعہ بنانا کسی طور مناسب نہیں۔
طارق سعید مروت نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں محض ایک صوبے نہیں بلکہ پاکستان کے دفاع اور امن کی جنگ میں فرنٹ لائن پر کھڑا صوبہ ہے۔ یہاں کی پولیس، سیکیورٹی فورسز، قبائلی مشران اور عام شہریوں نے امن کے لیے ایسی قربانیاں دی ہیں جن کی مثال ملک کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کا سب سے زیادہ سامنا کیا، اپنے پیاروں کو کھویا، اپنے گھروں اور کاروبار کا نقصان برداشت کیا، مگر اس کے باوجود پاکستان کے امن اور سلامتی کے لیے ان کے حوصلے کبھی متزلزل نہیں ہوئے۔ ایسے صوبے کے عوام اور اداروں کی نیت یا کردار پر سوال اٹھانے کے بجائے ان کی قربانیوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔طارق سعید مروت نے واضح کیا کہ دہشت گردی کا تعلق کسی صوبے، جماعت یا علاقے سے نہیں بلکہ پورے ملک کی سلامتی سے ہے۔ اس لیے اس چیلنج کا مقابلہ الزام تراشی سے نہیں بلکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ، مربوط حکمت عملی اور قومی اتفاقِ رائے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کسی بھی صوبے کے خلاف محاذ آرائی نہیں چاہتا اور نہ ہی دہشت گردی کے معاملے کو صوبائی تعصب کی نظر سے دیکھتا ہے۔ تاہم، خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو نظر انداز کرکے ان ہی کو مسئلے کا حصہ قرار دینا زمینی حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن قومی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ایسے معاملات ہیں جن پر سیاسی قیادت کو زیادہ ذمہ داری، سنجیدگی اور بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ وقتی طور پر سیاسی فائدہ دے سکتی ہے، مگر اس کے نتیجے میں عوام کے درمیان غلط فہمیاں اور صوبوں کے درمیان بداعتمادی پیدا ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو صوبہ دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ نقصان اٹھا چکا ہو، اسے دہشت گردی کے مسئلے کی وجہ قرار دینا نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ ان خاندانوں کے زخموں کو بھی نظر انداز کرنے کے مترادف ہے جنہوں نے ملک کے امن کے لیے اپنے پیارے قربان کیے۔طارق سعید مروت نے مطالبہ کیا کہ تمام سیاسی قیادت دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بجائے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا امن کا سب سے بڑا خواہش مند ہے، کیونکہ اس صوبے کے عوام نے بدامنی کے سب سے زیادہ تلخ اثرات برداشت کیے ہیں۔ صوبے کی حکومت، پولیس اور عوام امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے رہیں گے۔طارق سعید مروت نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ریاست، اداروں، وفاق اور تمام صوبائی حکومتیں دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط اور متفقہ محاذ تشکیل دیں۔ پاکستان کی سلامتی اور عوام کا امن کسی بھی سیاسی جماعت یا صوبے کے سیاسی مفاد سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

مزید پڑھیں