وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ صحافی برادری نے گزشتہ چالیس سالوں میں امن و امان کے چیلنجز کے باوجود جرات، ہمت اور قربانی کی ایسی مثالیں قائم کی ہیں جو قابل ستائش ہیں۔ صوبے کے مشکل حالات میں صحافیوں نے عوامی مسائل کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا اور خیبرپختونخوا کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا، جو لائق تحسین ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے پشاور پریس کلب میں صحافیوں کی کرکٹ لیگ کے دسویں ایڈیشن کے افتتاح کے موقع پر کیا، اس موقع پر صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی، پریس کلب کے صدر ایم ریاض، رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے منیجر مارکیٹنگ اینڈ آپریشنز، سپورٹس کمیٹی کے چیئرمین سمیت کثیر تعداد میں صحافی بھی موجود تھے۔ کرکٹ لیگ رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ (RMI) اسپانسر کر رہا ہے۔افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں شفیع جان نے کہا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز نے معلومات کے بہاؤ کو تیز تر کر دیا ہے ایسے وقت میں صحافیوں کی ذمہ داریاں بھی کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔ آج کے دور میں صحافت ایک مسلسل دباؤ والا پیشہ بن چکا ہے، جہاں 24 گھنٹے خبری مسابقت کا سامنا رہتا ہے۔ تاہم، خیبرپختونخوا کے صحافی اس دباؤ کے باوجود نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں بلکہ عوامی خدمت کے میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومتِ خیبرپختونخوا صحافیوں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور وزیرِاعلیٰ کی خصوصی ہدایت پر صحافیوں کے لیے ایک جامع سوشل سپورٹ پیکج تیار کیا جا رہا ہے، جس کا اعلان بہت جلد کیا جائے گا۔معاون خصوصی نے کہا کہ یہ کرکٹ لیگ صحافی برادری کے لیے ایک صحت مند اور مثبت سرگرمی ہے جو ان کے ذہنی و جسمانی سکون کے لیے نہایت مفید ثابت ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحافت ایک ہیکٹک پیشہ ہے، اس لیے ایسی سرگرمیاں تازگی، باہمی ہم آہنگی اور یکجہتی کے فروغ کا ذریعہ بنتی ہیں۔انہوں نے یقین دلایا کہ وہ خود، وزیرِ بلدیات مینا خان آفریدی اور دیگر کابینہ اراکین لیگ کے میچز میں شریک ہوں گے تاکہ صحافیوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔آخر میں شفیع جان نے تمام صحافیوں، تنظیمی نمائندوں اور لیگ کے منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صحافی برادری کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے اور ان کے فلاحی مفادات کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات جاری رہیں گے۔
