صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات اور عوام کو صحت سہولیات فراہم کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھارہی ہے، شفیع جان

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان کے ہمراہ صحت کے شعبے میں ہونے والی اہم اصلاحات ، اقداما ت اور کارکردگی کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات اور عوام کو صحت سہولیات فراہم کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھارہی ہے، تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت کا شعبہ بھی پاکستان تحریک انصاف کی منشور کا بنیادی حصہ اور صوبائی حکومت کی ا ولین ترجیحات میں شامل ہے ، انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے شعبہ صحت کے بجٹ میں 2013 سے خاطر خواہ اضافہ کیا ہے ، صحت کا بجٹ 2013 میں 30.3 ارب روپے سے بڑھ کر تقریباً 275 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ خیبرپختونخوا حکومت نے رواں مالی سال کے لیے صحت کے شعبے کے لئے 274 ارب روپے مختص کیے ہیں،انھوں نے صحت کارڈ پروگرام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے فلیگ شپ منصوبے صحت سہولت پروگرام اب صوبے کی پوری آبادی کا احاطہ کر چکا ہے،جنوری سے نومبر 2025 تک 10 لاکھ 85 ہزار سے زائد مریضوں کا مفت علاج کیا گیا جس پر مجموعی طور پر 31.6 ارب روپے خرچ ہوئے ،64 فیصد مریضوں کا علاج سرکاری جبکہ31 فیصد کا نجی ہسپتالوں میں کیا گیاہسپتالوں میں علاج کا مذکورہ ڈیٹا سرکاری ہسپتالوں پر عوام کے اعتماد کا واضح ثبوت ہے، شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو مہنگے اور پیچیدہ علاج کی سہولیات بھی فراہم کر رہی ہیں،اب تک 35 جگر کے مریضوں کے جگر کی پیوند کاری کی گئی ہے جس پر19 کروڑ روپے خرچ ہوئے،117 مریضوں کے گردوں کی پیوند کاری پر 19.4 کروڑ روپے،جبکہ 175 مریضوں کے کو کلئیر امپلانٹس بھی کئے گئے جس پر 44 کروڑ روپے خرچ ہوئے ، شفیع جان نے مزید بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت ملک بھر میں یونیورسل ہیلتھ کوریج انڈیکس میں سب سے آگے ہیں، صوبائی حکومت نے اس سلسلے میں اسلام آباد کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، نیشنل ہیلتھ سروسز اسلام آباد کی جانب سے مرتب یونیورسل ہیلتھ کوریج انڈیکس کے مطابق خیبرپختونخوا میں اس ضمن میں نمایاں بہتری حاصل ہوئی، یونیورسل ہیلتھ کوریج انڈیکس بڑھ کر 53.5 ہو چکا ہے، جبکہ 2024 میں 4.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو زچگی اور ہنگامی طبی سہولیات مقامی سطح پر فراہم کرنے کے لیے 200 بی ایچ یوز اور 50 آر ایچ سیز کو بی ای ایم او این سی مراکز میں تبدیل کر رہے ہیں، اسی طرح 89 سیلاب سے متاثرہ صحت مراکز کی بحالی پر بھی کام جاری ہے، ہیلتھ اسٹاف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ ہیلتھ اسٹاف کی کمی پوری کرنے کے لئے اب تک 432 ڈاکٹروں اور اسپیشلسٹس کو بھرتی کیا گیا ہےجبکہ اس سلسلے میں 1,425 میڈیکل آفیسرز، 250 ڈینٹل سرجنزاور 764 نرسز کی بھرتیوں کا عمل جاری ہے، مجموعی طور پر صحت کے شعبے میں 22 ہزار سے زائد نئی آسامیاں پیدا کی گئی ہیں، جبکہ میڈیکل آفیسرز کی تعداد 2,520 سے بڑھ کر 6,531 ہو گئی ہے، شفیع جان نے کہا کہ گڈ گورننس کے لیے ہم نے 48 اہم اقدامات پر مشتمل روڈ میپ تیار کیا ہے، جن میں سے 141 ذیلی اقدامات مکمل کیے جا چکے ہیں، محکمہ صحت نے 91 ہزار سے زائد ملازمین کا ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کیا ، ای فائلنگ، بائیومیٹرک حاضری اور میڈیسن آرڈرنگ پورٹل جیسے جدید نظام متعارف کرائے گئے ہیں، انھوں نے صوبائی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے نظام کو مزید بہتر، شفاف اور عوام دوست بنائیں گے تاکہ ہر شہری کو معیاری اور بروقت علاج میسر ہو

مزید پڑھیں