وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ وزیر اعلی سہیل آفریدی نے پشاور سے عمران خان رہائی امن موومنٹ کی ممبر سازی کا باضابطہ آغاز کردیا ہے اس سلسلے میں پشاور میں خصوصی تقریب نے جلسے کی شکل اختیار کی جس میں موقع پر ہزاروں افراد نے ممبر سازی میں حصہ لیا انھوں نے کہا کہ ممبر سازی مہم کے پہلے مرحلے میں خیبرپختونخوا میں کیمپس قائم کیے جائیں گے، جس کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ بھی متعارف کرایا جائے گا جبکہ اس مہم کو مرحلہ وار پنجاب، سندھ اور بلوچستان تک توسیع دی جائے گی، جہاں کارکنان بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ حصہ لیں گے،شفیع جان نے کہا کہ پشاور میں لوگوں کا جوش و خروش دیدنی تھا عوام اور کارکنان ممبر سازی کے لیے پرجوش ہے ایک لاکھ ممبران کی ممبر سازی کے بعد باقاعدہ حلف برداری کی تقریب منعقد کی جائے گی،ممبر سازی مہم کا مجموعی ہدف 10 لاکھ رکھا گیا ہے، جسے جلد مکمل کیا جائے گا،انھوں نے کہا کہ یہ موومنٹ مکمل طور پر پُرامن، آئینی اور جمہوری جدوجہد کی عکاس ہوگی کیونکہ پاکستان تحریک انصاف ملک کی ایک پرامن سیاسی جماعت ہے،عمران خان نے ہمیشہ کارکنوں کو پُرامن سیاسی جدوجہد کا درس دیا ہے، ہم اسی فلسفے پر کاربند ہیں،پاکستان تحریک انصاف آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے فروغ پر یقین رکھتی ہ ، انھوں نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کیے،عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی کی گئی ہے ، وزیراعلی سہیل آفریدی کو عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان سے ملاقات سے مسلسل روکا گیا ، سیاسی انتقام میں اندھی وفاقی اور پنجاب کے حکمران عمران خان کو فیملی ،وکلاء اور پارٹی قیادت سے ملاقاتوں سے محروم کررہے ہیں جو عدالتی احکامات ، آئین و قانون اور جمہوری اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے ، پنجاب حکومت مسلسل جیل مینوئل کی خلاف ورزی کر رہی ہے وفاق اور پنجاب پر زبردستی مسلط ٹولے نے ائین و قانون کو مذاق بنادیا ہے،ملک میں آئین و قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ناگزیر ہے،فارم 47 کے ذریعے مسلط حکمرانوں نے آئین اور جمہوریت کو یرغمال بنا رکھا ہے، شفیع جان نے مزید کہا کہ یہ جعلی حکومت جتنے بھی ہتھکنڈے استعمال کر لے، عوامی طاقت کے سامنے زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکے گی، پاکستان تحریک انصاف کی پُرامن سیاسی و قانونی جدوجہد آئین، قانون اور جمہوریت کی بالادستی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے پئے تک جاری رہے گی، عمران خان کی رہائی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے
