خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیر صدارت کابینہ کی قائمہ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوا، جس میں عوامی مفاد کے مختلف منصوبوں اور انتظامی امور بارےاہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی، وزیر خزانہ مزمل اسلم، سیکرٹری محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، سیکرٹری محکمہ کھیل و امور نوجوانان، محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ، محکمہ قانون، محکمہ خزانہ، اور محکمہ تعمیرات و مواصلات کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں پاکستان گرلز گائیڈ ایسوسی ایشن کے صوبائی چیپٹر کی انتظامی منتقلی کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس ضمن میں تجاویز پیش کی گئیں کہ ادارے کی بہتر کارکردگی اور تعلیمی ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے اسے محکمہ کھیل و امور نوجوانان سے واپس محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم (E&SE) خیبر پختونخوا کے سپرد کیا جائے۔ مزید برآں، یہ تجویز بھی زیر غور آئی کہ 2022 میں اس ادارے کو محکمہ ایجوکیشن سے محکمہ کھیل میں منتقل کرنے کے بعد 2025 تک اس کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا یا کمی، اور آیا محکمہ کھیل و امور نوجوانان کے پاس صوبے کے 35 ہزار سکولوں کے طلباء کے لیے سرگرمیوں کے انعقاد کی مطلوبہ استعداد موجود ہے یا نہیں۔کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم اور محکمہ کھیل و امور نوجوانان باہمی اشتراک سے جامع سفارشات مرتب کریں اور انہیں کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ مستقبل کے لائحہ عمل کا تعین کیا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد طالبات کی اس اہم تنظیم کو براہِ راست تعلیمی نظام سے منسلک کرکے اسے مزید مؤثر اور فعال بنانا ہے۔علاوہ ازیں، اجلاس میں پشاور کے بنیادی ڈھانچے اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات کو جدید بنانے کے حوالے سے جی ٹی روڈ پر “ٹرانسپورٹ کمپلیکس” کے قیام کے منصوبے پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ یہ منصوبہ 17 ایکڑ سے زائد رقبے پر محیط ہوگا، جس کی مرکزی عمارت پانچ منزلہ ہوگی، جبکہ 65 گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے بیسمنٹ بھی تعمیر کی جا رہی ہے۔اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے کی تکمیل سے پشاور میں ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی اور مسافروں کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات میسر آئیں گی۔ قائمہ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں پر مقررہ مدت کے اندرعملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عوام جلد از جلد ان کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔
