خیبرپختونخوا میں صنفی مساوات پر مبنی پولیسنگ کو مزید مستحکم کرنے کی غرض سے 19 خاتون پولیس اہلکاروں کی استعداد کار بڑھانے کا ایک روزہ تفصیلی تربیت کا اہتمام پشاور کے مقامی ہوٹل میں ہوا جس میں متاثرہ خواتین و لڑکیوں پر تشدد کے خلاف پولیس کی جانب سے پیشہ ور انداز میں حساس ردعمل اور کیسسز کو نمٹانے پر لیکچرز اور سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل انسانی حقوق خیبرپختونخوا غلام علی نے منعقدہ سیشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں خواتین و لڑکیوں پر صنفی بنیاد پر، گھریلو تشدد، جائے کار میں ہراسمنٹ کی روک تھام سمیت دیگر متعلقہ امور کے حوالے سے قانون سازی ہوئی ہے، جن پر مکمل عملدرامد کے سلسلے میں کئی چیلنجز اب بھی درپیش ہیں. انہوں نے کہا کہ محکمہ انسانی حقوق خیبرپختونخوا یو این وویمن، جرمن ایمبیسی اور شرکت گاہ جیسی معاون پارٹنرز کی تعاون سے ان چیلنجز پر قابو پانے میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ خواتین پولیس کی لڑکیوں و خواتین پر تشدد کے متعلق حساس واقعات کی بہترین انداز میں پولیسنگ کر سکیں گے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ خواتین پر تشدد کے واقعات کے متعلق ابتدائی رپورٹ کے اندراج اور تفتیشی عمل کا بھی اہم کردار ہوتا ہے جس کو بطریق احسن سرانجام دینے میں خواتین پولیس اپنا بھرپور کردار ادا کریں گی۔ شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صوبائی محتسب خیبرپختونخوا رخشندہ ناز نے کہا کہ پولیس، پراسیکیوشن اور عدلیہ جیسی اہم اداروں میں خواتین کی خدمات سرانجام دینے کے لیے آگے آنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں خواتین پولیس کا کردار صنفی تشدد اور گھریلو تشدد کی روک تھام میں انتہائی اہم ہے۔ اس ضمن ان کا استعداد کار بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔ شرکت گاہ تنظیم کی صوبائی سربراہ فوزیہ علی نے پروگرام کے اختتام پرمحکمہ انسانی حقوق، پولیس اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی معاونت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ صنفی بنیاد پر اور گھریلو تشدد کی روک تھام ادارہ جاتی تعاون اور متعلقہ اہلکاروں کی استعداد کار بڑھانے سے ممکن ہے۔
