Home Blog Page 124

The Provincial Minister for Health, Khyber Pakhtunkhwa, Khaliq ur Rehman, attended a two-day learning event held at Islamabad, titled “Strengthening Primary Healthcare for Universal Health Coverage and Equity in Pakistan.”

The Provincial Minister for Health, Khyber Pakhtunkhwa, Khaliq ur Rehman, attended a two-day learning event held at Islamabad, titled “Strengthening Primary Healthcare for Universal Health Coverage and Equity in Pakistan.”

On this occasion the Provincial Health Minister stated that the Government of Khyber Pakhtunkhwa is committed to establishing a strong, resilient, and people-centered primary healthcare system to ensure the provision of quality health services to every citizen without discrimination. He emphasized that in view of rapid population growth and the double burden of disease, primary healthcare has assumed critical importance. An effective and well-functioning primary healthcare system can significantly reduce the burden of disease and, through early diagnosis and treatment, minimize complications of chronic illnesses and reduce overall healthcare costs.

The Minister highlighted that several practical measures are being undertaken to strengthen the primary healthcare system. These include adopting the Essential Package of Health Services as the foundation for policy development, delegating financial powers to the Basic Health Unit level with authority to retain revenue for prompt and need-based decision-making, promoting community participation in decision-making, contract-based recruitment of medical officers and paramedical staff, conducting regular review meetings, strengthening the Lady Health Worker Program, and digitalization of the Human Resource Management Information System with integration of service delivery-related data.

He further stated that financial inefficiencies and irrational expenditures are being reviewed to ensure effective utilization of resources. The introduction of outpatient department services under the Sehat Card Program is another important initiative that will positively impact primary healthcare services and provide greater relief to the public.

The event was also attended by Director General Health Services Khyber Pakhtunkhwa, Dr. Shaheen Afridi, along with other concerned officials of the KP Health Department.

صوبائی کابینہ کا 47 واں اجلاس

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے 47ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق حقائق چھپانا اور انہیں ڈاکٹرز اور اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہ دینا آئین اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ عمران خان کے آنکھ کا آپریشن کرنا پڑا تو اس کا واضح مطلب ہے کہ جیل میں ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت عمران خان کے مینڈیٹ سے قائم ہوئی ہے اور ان کے ساتھ ہونے والے ہر ظلم کی شدید مذمت کرتی ہے۔ صوبائی کابینہ مطالبہ کرتی ہے کہ عمران خان سے فوری طور پر ان کے اہل خانہ اور ڈاکٹرز کی ملاقات کرائی جائے تاکہ ان کی صحت سے متعلق پائے جانے والے ابہام کا خاتمہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اٹھ فروری کو ملک بھر میں ہونے والے عوامی احتجاج کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں پی ٹی آئی کے منتخب نمائندوں پر پولیس تشدد جمہوریت پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق ایم این اے اور ایم پی ایز پر تشدد کی سامنے آنے والی تصاویر انتہائی دردناک ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے علی زمان کو اڈیالہ جیل کے باہر سے اٹھا کر بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ سادہ کپڑوں میں تشدد کرنے والے عناصر دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں۔ صوبائی حکومت مطالبہ کرتی ہے کہ علی زمان اور ان کے ساتھی پر تشدد کرنے والوں کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے اجلاس کو بتایا کہ آن لائن کھلی کچہری کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ایک سیشن مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے تمام سیکرٹریز، وزرا، ڈی جیز اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ہفتہ وار بنیادوں پر کھلی کچہری کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی سطح پر کھلی کچہری کو ترجیح دی جائے تاہم صوبائی سطح پر کم از کم ہفتے میں ایک آن لائن کھلی کچہری لازمی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن کھلی کچہری عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے کم کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے جس کے ذریعے وسائل یا رسائی کی کمی کے باعث عوام اب گھروں سے اپنی آواز حکام تک پہنچا سکیں گے۔ ترقیاتی امور پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اے ڈی پی 2026-27 پندرہ فروری تک مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی اور امید ہے کہ اس پر کام مکمل ہو چکا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اے ڈی پی 2026-27 پر بریفنگ کا آغاز اسی ماہ کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے اے ڈی پی 2025-26 پر کام کی سست روی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا اور ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو اسی ماہ فاسٹ ٹریک پر ڈالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبوں کے تمام لوازمات فوری مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو جلد از جلد ریلیف ملنا شروع ہو اور ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عوام تک پہنچیں۔یہ اجلاس بدھ کے روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوا جس میں کابینہ اراکین، چیف سیکر ٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، متعلقہ انتظامی سیکر ٹریزاور ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے شرکت کی۔بعد ازاں اجلاس میں کئے گئے اہم فیصلوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا کہ ماہ رمضان المبارک میں دس لاکھ سے زائد غریب خاندانوں کو ریلیف دینے کے لئے فی خاندان 12 ہزار 500 روپے رمضان سپورٹ پیکج دینے کی منظور ی دی گئی ہے۔یہ امداد ہر مستحق خاندان کے سربراہ کو براہِ راست ڈیجیٹل ادائیگی کے ذریعے دی جائے گی۔ مفلس، بیواؤں، یتیموں، معذور، ٹرانس جینڈر اور قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کو ترجیحی دی جائے گی جبکہ سرکاری اور نیم سرکاری ملازمین اس کے اہل نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 190 شہداء کے اہل خانہ کے لیے 496 ملین روپے شہدا پیکچ کے طور پر اضافی گرانٹ کی منظوری دی۔اسی طرح کابینہ نے پیچیدہ اور مہنگے ترین علاج والے امراض میں مبتلامستحق مریضوں کے لیے مالی امداد بھی منظور کی۔معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ قرآن بورڈ کی تشکیل نو کرتے ہوئے کابینہ نے بورڈ کے 19 اراکین کی تین سالہ مدت کے لیے تقرری کی منظوری دی ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے اقدامات کے تحت کابینہ نے نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز کے اراکین کی تقرری، خیبر پختونخوا کالاش میرج بل اور ہندو میرج (ترمیمی) بل منظور کیے۔ شفیع جان کے مطابق کابینہ نے خیبر پختونخواویمن ایمپاورمنٹ پالیسی برائے سال 2026تا2030 منظور کی۔یہ پالیسی چھ اہم اہداف کا احاطہ کرتی ہے جن میں معاشی سرگرمیوں میں شرکت، روزگار کی ضمانت،سماجی خدمات تک رسائی اور انسانی ترقی، سیاسی و سماجی قیادت میں فعال کردار،قانونی تحفظ اور انصاف تک رسائی،ڈیجیٹل اقدامات میں شمولیت اور رسائی،موسمیاتی تبدیلی اور آفات کے دوران تحفظ یقینی بنانے کے لئے اقدامات شامل ہیں۔ معاون خصوصی شفیع جان کے مطابق صوبے میں فوڈ سیکورٹی اقدامات کے تحت کابینہ نے175,000,میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری دی، جس کی کل لاگت 19 بلین روپے سے زائد بنتی ہے۔ اسی طرح کا بینہ نے ملک میں چینی کی سپلائی کو مستحکم اور شفاف بنانے کے لئے شوگر کی ڈی ریگولیشن کی منظوری دی ہے۔شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے گبرال کالام اورمدین ہائیڈروپاور منصوبوں کے لئے اضافی مالی معاونت کے لئے لائحہ عمل کی منظوری دی تاکہ صوبے کی توانائی کے ان اہم منصوبوں کو تیز کیا جا سکے۔تعلیم کے شعبہ میں اہم فیصلے کرتے ہوئے کابینہ نے ہائی و ہائر سیکنڈری سکولوں میں 325غیر فعال کمپیوٹر/آئی ٹی لیبز کو فعال کرنے اور958 سکولوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی کی منظوری دی۔اس فیصلے کا مقصد انفارمیشن ٹیکنالوجی اور خیبر پختونخوا حکومت کی آرٹیفیشل اینٹیلی جنس سے جڑے تعلیمی اقدامات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ اسی طرح کابینہ نے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے 175 سکولوں میں شروع ٹیلی تعلیم پائلٹ پروجیکٹ کی لاگت میں اضافہ کی منظور دی۔ اس سکیم کے ذریعے سائنس، میتھ، آئی ٹی اور انگلش میں آن لائن تعلیم فراہم کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے ضلع ٹانک میں تحصیل کنڈی کے قیام کی منظوری دی ہے۔ معاون خصو صی کے مطابق کابینہ نے خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں جاری پولیس انفراسٹرکچر پروجیکٹس، ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال، ڈی آئی خان کے لیے اضافی گرانٹ اورآر۔ ایچ۔سی نظام پور ضلع نو شہرہ کو کیٹگری-ڈی ہسپتال میں اپ گریڈ کرنے کے پروجیکٹ اورہزارہ ڈویژن میں چھوٹے ڈیری فارمرز کی آمدنی بڑھانے کے لیے جاری ایک منصوبے کی لاگت میں اضافے کی منظوری
دی۔انہوں نے بتایا کہ ڈبلیو ایس ایس پی کے دائرہ اختیار میں آر۔ پی۔ سی،مین ہول کورز کی تنصیب کا منصوبہ کابینہ اجلاس میں پیش کیا گیا جس کی منظوری دی گئی اسی طرح باڑہ، ضلع خیبر میں فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ کی تعمیر کا بھی فیصلہ کیا گیا۔اسی طرح کھلاڑیوں کی حوصلہ افزا ئی کے مقصد کے تحت بیرون ملک کک باکسنگ چیمپیئن شپ میں شرکت کے لئے کھلاڑی جادران خان کے لیے 1.5ملین روپے گرانٹ جبکہ مستقبل میں ایسی سرگرمیوں کے لیے محکمہ سپورٹس کو20 ملین روپے گرانٹ کی فراہمی کی منظوری دی گئی۔کابینہ نے پروٹیکٹڈ، ریزرو اور گزارہ جنگلات کے احاطے کو کسی بھی ترقیاتی سکیم کے لئے استعمال میں لانے کی ایس او پیز میں ترامیم منظور کیں تاکہ ہائیڈرو پاور منصوبوں سے جڑے پاور ڈسٹریبیوشن کاموں کو مکمل کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے صوبے میں آئندہ بلدیاتی انتخابات کی حلقہ بندیوں کے شیڈول میں توسیع کے حوالے سے ایک مراسلہ الیکشن کمیشن کو بھیجنے کی منظوری بھی دی۔

رمضان المبارک 1447ھ کے چاند کی رؤیت کے سلسلے میں انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے سیکرٹری برائے اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور خیبرپختونخوا کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس جمعرات کے روز اُن کے دفتر پشاور میں منعقد ہوا

رمضان المبارک 1447ھ کے چاند کی رؤیت کے سلسلے میں انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے سیکرٹری برائے اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور خیبرپختونخوا کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس جمعرات کے روز اُن کے دفتر پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری اوقاف، ایڈمنسٹریٹر اوقاف، سیکشن آفیسر اوقاف سمیت محکمہ اطلاعات، محکمہ ریلیف/ڈی جی ریسکیو 1122 اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ چیئرمین مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی اپنے 21 اراکین کے ہمراہ 29 شعبان 1447ھ، بمطابق 18 فروری 2026ء کو پشاور کا دورہ کریں گے، جہاں رمضان المبارک کے چاند کی رؤیت کا باضابطہ اہتمام کیا جائے گا۔ اجلاس کا بنیادی مقصد داخلی، انتظامی اور سکیورٹی امور کا جائزہ لے کر انہیں حتمی شکل دینا تھا۔محکمہ اطلاعات کی جانب سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریاض غفور نے میڈیا انتظامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ تقریب کی جامع کوریج پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے یقینی بنائی جائے گی۔ریسکیو 1122 نے تقریب کے دوران دو ایمبولینسیں، دو فائر وہیکلز اور متعلقہ عملے کی تعیناتی کی تصدیق کی، جبکہ پولیس ڈیپارٹمنٹ نے فول پروف سکیورٹی انتظامات کی یقین دہانی کرائی۔ سکیورٹی پلان کے تحت بی ڈی ایس کلیئرنس، سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور ڈرون نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا، اور حتمی سکیورٹی پلان 16 فروری تک مرتب کر لیا جائے گا۔پروٹوکول انتظامات کے حوالے سے مہمانوں کی آمدورفت کے لیے چار GLI گاڑیاں اور ایک ہائی ایس بمعہ ڈرائیورز و ایندھن فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ رمضان 1447ھ کا چاند 17 فروری 2026ء کو تقریباً شام 5 بجے پیدا ہوگا اور 18 فروری کی شام اس کے نظر آنے کے موزوں امکانات موجود ہیں۔اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ محکمہ اوقاف نشستوں کی ترتیب، مقام کے انتظامات اور پریس کانفرنس کے انعقاد کو یقینی بنائے گا اور پولیس کے ساتھ دیگر اقدامات میں مکمل معاونت فراہم کرے گا۔ اجلاس کے اختتام پر تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں بروقت مکمل کریں اور باہمی رابطہ برقرار رکھتے ہوئے کانفرنس اور رؤیتِ ہلال کے انتظامات کو پرامن، منظم اور مؤثر انداز میں یقینی بنائیں۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کے روز خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو) پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کے روز خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو) پشاور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرپرسن ذیلی کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی محترمہ ثوبیہ شاہد نے کی۔ اجلاس میں اراکین اسمبلی عبید الرحمن، عدنان خان اور سریش کمار سمیت محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل، خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے اعلیٰ حکام، محکمہ قانون اور صوبائی اسمبلی کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں 15 ستمبر 2025 کو ہونے والے گزشتہ اجلاس میں جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران ڈائریکٹر جنرل محکمہ صحت نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے ملک بھر میں میڈیکل کالجز کی رجسٹریشن پر عائد پابندی کے باعث تیمرگرہ میڈیکل کالج کی رجسٹریشن ممکن نہ ہو سکی تھی۔ تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے پابندی کے خاتمے کے بعد مذکورہ کالج کی رجسٹریشن کا معاملہ دوبارہ پی ایم ڈی سی کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور اسے جلد از جلد مکمل کیا جائے گا تاکہ طلبہ کو داخلوں کا موقع فراہم کیا جا سکے۔ کمیٹی اراکین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کالج کی غیر فعالیت کے باوجود پہلے سے تعینات عملے پر صوبائی خزانے سے سالانہ کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں، لہٰذا رجسٹریشن کے عمل کو فوری طور پر مکمل کیا جائے اور آئندہ اجلاس میں پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے۔ محکمہ صحت کے حکام نے یقین دہانی کرائی کہ تمام تعینات پروفیسرز اور اسسٹنٹ پروفیسرز پی ایم ڈی سی سے تصدیق شدہ ہیں۔چیئرپرسن ذیلی کمیٹی ثوبیہ شاہد نے اجلاس میں ثمر باغ ہسپتال کو اپ گریڈ کرکے اسے ثمر باغ ٹیچنگ ہسپتال کا درجہ دینے کی سفارش کی کی، جس کی کمیٹی کے تمام اراکین نے متفقہ طور پر تائید کی۔ محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ اس سلسلے میں جلد نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا اور آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے رپورٹ پیش کی جائے گی۔اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی اور اقلیتی برادری کے نمائندے سریش کمار نے میڈیکل کالج میں داخلوں کے لیے مختص دو فیصد اقلیتی کوٹے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئینِ پاکستان میں اقلیتوں کے کوٹے کو تحفظ حاصل ہے، تاہم اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ اس پر خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے حکام نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ داخلہ سیشن میں اقلیتی برادری کے کوٹے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تمام فیصلوں پر بروقت عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور پیش رفت سے کمیٹی کو آگاہ رکھا جائے۔

خیبرپختونخوامیں رواں سال 7ہزارمساجد شمسی توانائی پرمنتقل کرلی جائیں گی صوبے کے بندوبستی علاقوں میں 5ہزار،ضم اضلاع میں 2ہزارمساجدکی شمسی توانائی منتقلی منصوبے جاری

خیبرپختونخواحکومت رواں سال ضم قبائلی اضلاع سمیت صوبے بھرمیں 7ہزارمساجدودینی مدارس کوشمسی توانائی پرمنتقلی کے2اہم شمسی توانائی منصوبوں کو مکمل کرلے گی جس سے صوبے کے غریب عوام کوسالانہ70کروڑروپے سے زائد کی بچت کے ساتھ ساتھ مجموعی طورپر15میگاواٹ بجلی کی پیداوارسے 8لاکھ40ہزارنمازی حکومتی عوامی فلاحی اقدام سے مستفید ہونگے۔توانائی منصوبوں کی بروقت تکمیل موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے جس کے ثمرات سے عوام جلدمستفیدہوسکیں۔ ان خیالات کا اظہارسیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمدنے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے سلسلے میں صوبے کے بندوبستی اضلاع میں 5000مساجدودینی درس گاہوں کو شمسی توانائی پر منتقلی سمیت قبائلی ضم شدہ اضلاع میں 2000مساجد کوسولرائزڈ کرنے کے 2اہم شمسی توانائی کے جاری منصوبوں پرہونے والی پیشرفت کے بارے میں منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سپیشل سیکرٹر ی توانائی وبرقیات حبیب عارف،سینئرچیف پلاننگ آفیسرظاہرشاہ،پراجیکٹ ڈائریکٹرسولرپراجیکٹس انجینئراسفندیارخان،منصوبوں پر کام کرنے والی حکومتی کمپنی نیشنل ریڈیوٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشنNRTC کے نمائندوں علم خان،حیدرخان،عامرآفریدی سمیت دیگراعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے صوبے کے مختلف بندوبستی اضلاع میں جاری 5ہزارمساجد کوشمسی توانائی پر منتقلی کے منصوبے جس کی لاگت5.86ارب روپے ہے پرکام تیزی سے جاری ہے جس میں اب تک 2400مساجد کوشمسی توانائی پرمنتقل کردیا گیاہے جبکہ باقی ماندہ2600مساجد کوشمسی توانائی پررواں سال منتقل کرلیا جائے گا۔اسی طرح ضم شدہ اضلاع کی 2000مساجد میں سے 600مساجد کوشمسی توانائی پر منتقل کرلیا گیا ہے جبکہ منصوبے کی باقی1400مساجد کو رواں سال کامیابی کے ساتھ شمسی توانائی پرمنتقل کرلیا جائے گا۔ اس موقع پر سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمد نے شمسی توانائی کے دونوں اہم منصوبوں کے لئے فنڈزکی بروقت فراہمی کے ساتھ ساتھ باقی ماندہ کام مقررہ ٹائم لائن کے اندرمکمل کرنے پرزوردیااورہدایت جاری کی کہ رمضان کے دوران مساجد میں سولرانرجی کی متواترفراہمی کے سلسلے میں کمپلینٹ سیل کوموثربنایا جائے۔ اجلاس میں متعلقہ حکام نے دونوں اہم منصوبوں پر کام مزید تیزکرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کا عزم دہرایا۔اس موقع پرپراجیکت ڈائریکٹرانجینئراسفندیارنے ٹھیکہ دارفرم کو منصوبے کی بروقت ومعیاری تکمیل ممکن بنانے کے لئے ضروری ہدایات جاری کیں۔

وزیر صحت خیبر پختونخوا میاں خلیق الرحمان کی ہدایات پر پشاور میں جعلی مینینجائٹس ویکسین کی فروخت اور غیر قانونی ترسیل میں ملوث عناصر کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا گیا

وزیر صحت خیبر پختونخوا میاں خلیق الرحمان کی ہدایات پر پشاور میں جعلی مینینجائٹس ویکسین کی فروخت اور غیر قانونی ترسیل میں ملوث عناصر کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا گیا۔ محکمہ صحت کی انسپکشن ٹیموں اور متعلقہ اداروں نے مشترکہ کارروائی کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کیا جبکہ موبائل سیلرز کے قبضے سے جعلی ویکسین کی بڑی مقدار برآمد کر کے فوری طور پر ضبط کر لی گئی۔ ضبط شدہ ویکسین کو مزید لیبارٹری جانچ اور قانونی کارروائی کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔صوبائی وزیر صحت میاں خلیق الرحمان نے اس سنگین معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جعلی ویکسین کی تیاری، ترسیل، ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ میں ملوث افراد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور انہیں قرار واقعی سزا دلائی جائے گی۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ عوامی شکایات پر فوری اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر کسی بھی سطح پر متعلقہ افسران یا عملے کی غفلت، کوتاہی یا شکایات پر بروقت اقدامات نہ کرنے کی نشاندہی ہوئی تو ان کے خلاف بھی محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ محکمہ صحت عوام کو معیاری، مستند اور محفوظ ویکسین کی سرکاری سطح پر فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں فائزر کمپنی کی جانب سے آئندہ دو دنوں میں چار سو ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے تاکہ ویکسین کی دستیابی میں کسی قسم کی کمی نہ ہو اور شہریوں کو بروقت سہولت فراہم کی جا سکے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ویکسین صرف سرکاری ہسپتالوں اور مستند مراکز صحت سے حاصل کریں اور کسی بھی غیر مجاز فرد یا موبائل سیلرز سے ویکسین خریدنے سے گریز کریں۔ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر محکمہ صحت یا ضلعی انتظامیہ کو دی جائے تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔محکمہ صحت خیبر پختونخوا عوام کی صحت کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح سمجھتا ہے اور اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ صوبے میں ادویات اور ویکسین کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت پیہور ہائی لیول کینال ایکسٹینشن پراجیکٹ اور ضلع صوابی میں آبپاشی سے متعلق مسائل کے حل اور دیگر اہم امور کے حوالے سے اجلاس پشاور میں منعقد ہوا

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت پیہور ہائی لیول کینال ایکسٹینشن پراجیکٹ اور ضلع صوابی میں آبپاشی سے متعلق مسائل کے حل اور دیگر اہم امور کے حوالے سے اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ممبر صوبائی اسمبلی عبدالکریم تورڈھیر، سیکرٹری محکمہ آبپاشی عبدالباسط اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران متعلقہ حکام نے صوبائی وزیر کو پیہور ہائی لیول کینال ایکسٹینشن پراجیکٹ پر اب تک کی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں منصوبے کے مختلف مراحل، درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی گئی۔ حکام نے بتایا کہ پراجیکٹ کے لاٹ ٹو (Lot-II) پر کام تیزی سے جاری ہے اور اسے 31 مئی تک مکمل کر لیا جائے گا۔ صوبائی وزیر ریاض خان نے منصوبے پر کام کی رفتار مزید تیز کرنے اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ پیہور پراجیکٹ کی بروقت تکمیل سے ضلع صوابی اور ملحقہ علاقوں میں آبپاشی کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی، زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور کسانوں کو درپیش دیرینہ مسائل کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے وژن کے مطابق صوبے میں آبپاشی کے نظام کو مزید جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے تاکہ زراعت کے شعبے کو مستحکم بنیادوں پر ترقی دی جا سکے۔ وزیراعلیٰ کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں محکمہ آبپاشی میں ضلع صوابی سمیت صوبے بھر میں جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنا رہا ہے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ضلع صوابی کے کاشتکاروں کو درپیش آبپاشی مسائل کے حل کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے اور تمام جاری منصوبوں کی مسلسل نگرانی کی جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کا انسداد منشیات کے حوالے سے ایک اور اہم قدم

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل افریدی کے انسداد منشیات کے حوالے سے زیروٹالرنس پالیسی اور منشیات سے پاک خیبر پختونخوا کے عزم کے تحت محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا نے مقامی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کیساتھ مشترکہ گرینڈ آپریشن میں ضلع مہمند اور صوابی میں بڑے رقبے پر کاشت کی گئی غیر قانونی پوست فصل تلف کر دی۔ضلع ممند کے تحصیل امبار میں پوست کی کاشت کے خلاف مشترکہ گرینڈ آپریشن کے دوران 37 ایکڑ فصل کو موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔مذکورہ آپریشن ای ٹی او مہمند،ضلعی انتظامیہ،ایکسائز تھانہ پشاور ریجن اور محکمہ پولیس و ایکسائز کے دیگر افسران و اہلکاروں نے مشترکہ طور پر کیا۔بیر گلی صوابی میں بھی محکمہ ایکسائز نے انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں اور محکموں کیساتھ مشترکہ آپریشن میں بڑے رقبے پر کاشت کی گئی غیر قانونی پوست فصل کو تلف کیا۔کارروائیوں کے دوران آپریشن ٹیموں نے متعلقہ مقامات پر پہنچ کر فصل کی موجودگی کی تصدیق کی اور متعلقہ ضابطہ کار کے مطابق پوست فصل کو تلف کیا گیا تاکہ اس کی مزید پیداوار، ذخیرہ اندوزی یا ترسیل کو روکا جا سکے۔اس حوالے سے صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان نے واضح کیا ہے کہ حکومت منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم کہیں پر بھی منشیات نہیں چھوڑیں گے خواہ اسکے ڈیلرز ہوں یا سمگلرز، انکے خلاف ہماری کاروائی جارہی رہیں گی۔انھوں نے ہدایات جاری کی ہیں کہ منشیات کے خلاف کھیتوں میں بھی ہمارا آپریشن جاری رہے گا اور اسکی ٹرانسپورٹیشن میں بھی ملوث مافیا اور عناصر کے خلاف بے رحم کاروائیاں تسلسل کیساتھ جاری رہیں گی جبکہ غیر قانونی کاشت، پیداوار اور ترسیل میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔مہمند آپریشن میں سجاد خان ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر ضلع ممند، سیف اللہ آفریدی سرکل آفیسر، عماد خان ایس ایچ او تھانہ ایکسائز پشاور ریجن اور دیگر افسران و اہلکاروں اور انتظامیہ و متعلقہ اداروں کے افسران نے حصہ لیا۔اسی طرح ضلع صوابی آپریشن میں اسسٹنٹ کمشنر ٹوپی ڈاکٹر یاسمین ثنا، شکیل خان ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر ضلع صوابی، عاکف نواز خان سرکل آفیسر، شکیل خان ایس ایچ او تھانہ ایکسائز مردان ریجن اور دیگر ایکسائز افسران و اہلکاروں،اے این ایف اور دیگر اداروں کے افسران نے حصہ لیا۔

صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا، ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ قوموں کی ترقی کا راز تعلیم میں مضمر ہے

صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا، ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ قوموں کی ترقی کا راز تعلیم میں مضمر ہے۔ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہی ہے اور کامیاب قومیں ڈیجیٹل لٹریسی اور جدید علوم میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ ہمیں تعلیم کے شعبے میں مزید اصلاحات اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے بچے مستقبل میں ترقی یافتہ ممالک کا مقابلہ کر سکیں۔وہ فضل حق کالج مردان میں منعقدہ 36ویں سالانہ سپورٹس ڈے اور تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب نہایت پروقار، رنگا رنگ اور منظم انداز میں منعقد کی گئی جس میں سیکرٹری ابتدائی و ثاوی تعلیم محمد خالد خان، ڈپٹی کمشنر مردان واصف الرحمن، ضلعی انتظامیہ کے افسران، والدین اور طلباء و طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جبکہ کالج کی پرنسپل میڈم حفصہ اشفاق نے ادارے کی سالانہ کارکردگی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مہمان خصوصی نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا، مارچ پاسٹ کی سلامی لی اور طلباء کی شاندار کارکردگی کو سراہا۔تقریب میں پی ٹی شو، ثقافتی رقص (ہزارہ، چترالی اور خٹک)، جمناسٹکس، فائر رنگز، ہارس رائیڈنگ، نیزہ بازی اور مارشل آرٹس کے مظاہرے پیش کیے گئے جنہیں حاضرین نے بے حد سراہا۔صوبائی وزیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس نوعیت کی تقریبات سے اساتذہ اور ادارہ جاتی کارکردگی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضل حق کالج صوبے کا ایک ممتاز ادارہ ہے اور مرحوم فضل حق کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس ادارے کو مزید ترقی دیں۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ تعلیم میں اس وقت تقریباً 2 لاکھ 45 ہزار اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں اور سیکرٹری تعلیم محمد خالد خان محکمہ کی بہتری کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ای-ٹرانسفر پالیسی کے نفاذ سے ٹرانسفر اور پوسٹنگ کا عمل مکمل طور پر شفاف اور میرٹ پر مبنی ہو چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کو فروغ دیا جا رہا ہے اور صوبائی کابینہ کی منظوری سے چھٹی سے بارہویں جماعت تک اے آئی کلاسز متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے مارکیٹ سے 7 ہزار اساتذہ کی بھرتی کی جا رہی ہے اور یکم مارچ 2026 سے اس پروگرام کا باضابطہ آغاز کیا جائے گا۔انہوں نے طلباء کو نصیحت کی کہ والدین اور اساتذہ کا احترام کریں، نظم و ضبط اور اخلاقیات کو اپنائیں اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا ہنر سیکھیں۔آخر میں صوبائی وزیر نے پوزیشن ہولڈرز میں انعامات تقسیم کیے جبکہ کالج انتظامیہ کی جانب سے سیکرٹری تعلیم محمد خالد خان کو شیلڈ پیش کی گئی۔ انہوں نے کالج انتظامیہ کو یقین دلایا کہ انفراسٹرکچر سے متعلق تمام مسائل حل کیے جائیں گے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ڈیجیٹائزڈ بلنگ سسٹم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ڈیجیٹائزڈ بلنگ سسٹم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب میں سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ مسعود یونس، ایڈیشنل سیکرٹری، چیف انجینئرز اور محکمہ کے دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔افتتاح کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر فضل شکور خان نے کہا کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کا روایتی بلنگ نظام اب جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف شفافیت کو فروغ ملے گا بلکہ کارکردگی میں بہتری اور ریونیو میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام صوبائی حکومت کے وژن کے مطابق ای گورننس کے فروغ اور عوام کو جدید، سہل اور مؤثر سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ ڈیجیٹائزیشن کے پہلے مرحلے میں صوبے کے 23 میں سے 10 ڈویژنز کو ڈیجیٹائزڈ بلنگ سسٹم پر منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں باقی تمام ڈویژنز کو بھی جلد از جلد ڈیجیٹل نظام سے منسلک کر دیا جائے گاجن 10ڈویژن میں ڈیجیٹائزڈ بلنگ نظام متعارف کیاگیا ان میں پشاور ون اور ٹو، سوات ون اور ٹو، مردان، چارسدہ، صوابی ملاکنڈ، دیر لوئر اور ہری پور شامل ہے انہوں نے کہا کہ اس نئے نظام کے تحت واٹر سپلائی صارفین کو بروقت، درست اور شفاف بلوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، جس سے شکایات میں کمی اور اعتماد میں اضافہ ہوگا۔فضل شکور خان نے کہا کہ صارفین کو بلوں کی ادائیگی کے لیے جدید اور آسان ذرائع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اب صارفین اپنے بل جاز کیش، ایزی پیسہ اور ون لنک کے ذریعے آن لائن جمع کرا سکیں گے، جس سے وقت اور وسائل کی بچت ہوگی اور ادائیگی کا عمل مزید سہل ہو جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ آئندہ ماہ مارچ سے اپنا باقاعدہ موبائل ایپ بھی متعارف کروا رہا ہے۔ اس ایپ کے ذریعے صارفین اپنے بل آن لائن دیکھ سکیں گے، ادائیگی کی تفصیلات حاصل کر سکیں گے اور اپنی شکایات بھی درج کرا سکیں گے۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ موبائل ایپ کے اجرا سے صارفین کو دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی اور شکایات کے ازالے کا عمل مزید تیز، شفاف اور مؤثر ہوگا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ آن لائن مانیٹرنگ سسٹم کے نفاذ سے مالی امور میں احتساب کا نظام مزید مضبوط ہوگا اور بلنگ کے عمل میں انسانی مداخلت کم ہونے سے غلطیوں، بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے امکانات کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل بلنگ سسٹم سے نہ صرف محکمہ کی آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ وسائل کے بہتر استعمال کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید فروغ دیا جائے گا تاکہ عوام کو معیاری، بروقت اور شفاف خدمات فراہم کی جا سکیں۔ صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ڈیجیٹل نظام کے نفاذ کے دوران صارفین کی مکمل رہنمائی، آگاہی مہم اور عملے کی تربیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ نظام کی کامیابی اور مؤثر عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔ڈیجیٹائزڈ بلنگ سسٹم کے افتتاح سے قبل صوبائی وزیر کو نظام کی خصوصیات، ڈیٹا مینجمنٹ، آن لائن مانیٹرنگ اور ادائیگی کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ نئے نظام کے ذریعے بلنگ ریکارڈ محفوظ، منظم اور با آسانی قابلِ رسائی ہوگا۔صوبائی وزیر فضل شکور خان نے اس اقدام کو محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں ای گورننس کے فروغ اور شفاف طرزِ حکمرانی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے جدید اصلاحات کا عمل جاری رکھے گی انہوں نے نئے بلنگ نظام کی کامیابی میں عوام سے بھی درخواست کی کہ وہ محکمہ کے اس اچھے اقدام میں حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔