وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان کی زیر صدارت ضلع صوابی میں صحت کے اداروں کے اہم ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی امور پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری صحت اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی اسد قیصر اور شہرام ترکئی سمیت ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے تمام متعلقہ اراکینِ صوبائی اسمبلی، سیکرٹری صحت شاہد اللہ خان اور محکمہ صحت کے متعلقہ افسران نے شر کت کی۔اجلاس میں متعلقہ اداروں کو جاری اخراجات کے لیے ریکرنگ گرانٹ کی فراہمی پر تفصیلی غور کیا گیا تاکہ اداروں کے انتظامی امور مؤثر انداز میں چل سکیں اور عوام کو بلا تعطل طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اس موقع پر جی کے ایم سی ایم ٹی آئی صوابی اور گجو خان کالج آف ڈینٹسٹری کی مستقل عمارتوں کی تعمیر کے لیے فنڈز کے اجرا پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ترقیاتی پروگرام میں منظور شدہ رقم بروقت تکمیل کے لیے ناکافی ہے اور لاگت میں اضافے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جا چکا ہے تاکہ منصوبوں میں تاخیر نہ ہو۔ٹی ایچ کیو ہسپتال ایم ٹی آئی لاہور میں نگار کالج آف نرسنگ اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنسز کی عمارت کی تعمیر کے لیے فنڈز کے اجرا کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ نرسنگ کالج فی الوقت کرایہ کی عمارت میں اپنے وسائل سے چلایا جا رہا ہے جبکہ ضابطہ جاتی تقاضوں کے مطابق متعلقہ اداروں کا قیام مقررہ مدت میں ضروری ہے۔ وزیر صحت نے ہدایت کی کہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے۔آئی ٹی انفراسٹرکچر کے حوالے سے پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیر صحت نے ہدایت کی کہ ڈیجیٹل نظام کو کے پی ایم ٹی آئی پالیسی بورڈ کی ہدایات کے مطابق مضبوط بنایا جائے تاکہ گورننس، ڈیٹا مینجمنٹ اور خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر کیا جا سکے۔اجلاس میں سی ٹی اسکین، ایکس رے مشینوں اور دیگر اہم طبی آلات کی خریداری کا جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ بیشتر آلات اپنی مدت پوری کر چکے ہیں جس کی وجہ سے مرمت کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیر صحت نے ہدایت کی کہ فرسودہ مشینری کی بروقت تبدیلی اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے لیے علیحدہ سی ٹی اسکینر کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ تشخیصی خدمات بلا تعطل جاری رہیں۔بی کے ایم سی ایم ٹی آئی صوابی میں کلینیکل ٹاور کی تعمیر کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مجوزہ ڈیزائن میں جدید ہسپتال معیار اور انفیکشن کنٹرول تقاضوں کے مطابق بہتری کی ضرورت ہے۔ وزیر صحت نے تجربہ کار کنسلٹنسی فرم کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز کی توثیق کی تاکہ مستقبل کی ضروریات کے مطابق جامع اور معیاری ڈیزائن تیار کیا جا سکے۔کارڈیک کیتھیٹرائزیشن لیبارٹری کے قیام کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ نظرثانی شدہ پی سی ون متعلقہ فورم کو ارسال کیا جا چکا ہے اور منظوری کا منتظر ہے۔ وزیر صحت نے اس منصوبے کی جلد منظوری اور تکمیل کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی۔ٹوپی اور لاہور کے ٹی ایچ کیو ہسپتالوں کی مرمت، بحالی اور اپ گریڈیشن کے امور بھی زیر غور آئے تاکہ انفراسٹرکچر اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔ضلع صوابی میں ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال کے قیام کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا جس کے لیے خطیر فنڈز درکار ہیں۔ وزیر صحت نے ماں اور بچے کی صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ضروری کارروائیاں مکمل کر کے بروقت منظوری اور فنڈز کے حصول کو یقینی بنایا جائے۔صوبائی وزیر صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع صوابی کے عوام کو معیاری، قابلِ رسائی اور سستی طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور شفافیت کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ ثقافت، سیاحت، آثارِ قدیمہ و عجائب گھر کا اجلاس منگل کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی شرافت علی نے کی
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ ثقافت، سیاحت، آثارِ قدیمہ و عجائب گھر کا اجلاس منگل کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی شرافت علی نے کی۔ اجلاس میں قائمہ کمیٹی کے اراکین محمد نعیم خان، عارف احمد زئی، ارباب محمد عثمان خان، سمیع اللہ خان، زر عالم خان، عبدالمنینم، محمد نثار باز، محترمہ نیلوفر بابر، محترمہ شازیہ جدون، محترمہ خدیجہ بی بی، محترمہ ریحانہ اسماعیل اور محترمہ امنہ سردار نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ ثقافت، سیاحت، آثارِ قدیمہ و عجائب گھر، متعلقہ محکمے کا عملہ، محکمہ قانون اور صوبائی اسمبلی کے افسران بھی موجود تھے۔اجلاس میں 9 اگست 2025 کو ہونے والے سابقہ اجلاس کی ہدایات کی روشنی میں گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ محکمہ کی جانب سے جی ڈی اے کے قواعد و ضوابط کے نفاذ، گزشتہ چار برسوں کے دوران کیے گئے مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدات پر جامع بریفنگ دی گئی، جس پر قائمہ کمیٹی نے تفصیلی غور و خوض کیا۔رکن قائمہ کمیٹی محترمہ ریحانہ اسماعیل کے سوال پر گلیات کے ہوٹلز سے متعلق تشکیل دی گئی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ چیئرمین ذیلی کمیٹی سمیع اللہ خان، رکن صوبائی اسمبلی، نے پیش کی۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ جی ڈی اے کے ہوٹلز کو نگراں حکومت کے دور میں گرین ٹورازم پاکستان کے تحت وفاقی حکومت کو طویل المدتی لیز پر دیا گیا ہے۔ اس معاملے پر کمیٹی اراکین نے سیر حاصل بحث کرتے ہوئے اس امر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ آیا نگراں حکومت کو اس نوعیت کے طویل المدتی معاہدے کرنے کا آئینی و قانونی اختیار حاصل تھا یا نہیں۔قائمہ کمیٹی کے تمام اراکین نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ نگراں حکومت کا دائرہ اختیار محض روزمرہ کے انتظامی امور تک محدود ہوتا ہے اور اسے طویل المدتی معاہدے کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ مذکورہ معاہدہ فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے متعلق تمام اختیارات دوبارہ محکمہ ثقافت و سیاحت کو منتقل کیے جائیں۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین قائمہ کمیٹی شرافت علی نے اراکین کو ہدایت کی کہ اپنی سفارشات آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تحریری صورت میں مرتب کریں تاکہ اس معاملے کو صوبائی اسمبلی کے فلور پر مؤثر انداز میں اٹھایا جا سکے
یمبرسڈرز برائے آر ٹی پی ایس کمیشن کی تعارفی میٹنگ: عوامی خدمات میں شفافیت کی نئی آغاز
رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن خیبر پختونخوا نے آر ٹی پی ایس ایکٹ 2014 اور نامزد شدہ عوامی خدمات کے بارے میں آگاہی کو فروغ دینے کے لیے ایمبرسڈرز مقرر کیے ہیں۔ بطورِ ایمبرسڈرز، ان کا کردار عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان فاصلے کو کم کرنے میں اہم ہے۔
عوام کو آر ٹی پی ایس ایکٹ 2014، اس کے تحت نامزد شدہ خدمات اور وقت کی حدود کے بارے میں آگاہ کرنا، آگاہی سرگرمیوں کے لیے ڈی ایم او آفس کے ساتھ تعاون کرنا اور نفاذ کے متعلق مسائل کی اطلاع دینا اور شکایت کنندگان کو ڈی ایم او آفس کے ذریعے مدد فراہم کرانا ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ اس حوالے سے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر پشاور تاشفین اسرار نے پشاور کے ایمبرسڈرز خائستہ رحمان، یاسر بھٹی اور رقیہ ندیم کے ساتھ ایک اہم اجلاس کا انعقاد کیا۔اس سلسلے میں، رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن، خیبر پختونخوا 16 فروری 2026 کو پشاور کے مقامی ہوٹل میں ایمبرسڈرز کے لیے اوریئنٹیشن اور ٹریننگ ورک شاپ کا انعقاد کر رہا ہے۔ اس ورک شاپ میں ایمبرسڈرز کو آر ٹی پی ایس ایکٹ 2014، نامزد شدہ خدمات اور ان کے کام کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا اور ٹریننگ دی جائے گی۔مانیٹرنگ آفیسر پشاور تاشفین اسرار نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ایمبرسڈرز کی تعاون سے ہم عوامی خدمات کی فراہمی میں شفافیت اور ذمہ داری کو یقینی بنا سکیں گے۔
خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے اپنے دفتر پشاور میں صوبے کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے عوامی وفود اور شہریوں سے ملاقات کی۔
خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے اپنے دفتر پشاور میں صوبے کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے عوامی وفود اور شہریوں سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفود نے اپنے اپنے علاقوں کو درپیش مسائل، خصوصاً آبپاشی، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق امور صوبائی وزیر کے سامنے رکھے۔ صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے وفود کے مسائل بغور سنے اور متعلقہ محکموں کو عوامی مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں، جبکہ بعض افراد کے مسائل موقع پر ہی حل کر دیے گئے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنا ہمارا عزم ہے۔ ریاض خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت ترقی، شفافیت اور عوامی فلاح کے وژن پر عمل پیرا ہے۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی واضح ہدایات ہیں کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ہر ممکن وسائل بروئے کار لا کر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ ملاقات میں شریک وفود نے صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان کی جانب سے مسائل کے حل کی یقین دہانی پر اطمینان کا اظہار کیا اور صوبائی حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کو سراہا۔
خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایبٹ آباد میں صوبائی خاتون محتسب اور کمشنر ہزارہ ڈویژن کی زیرِ صدارت کھلی کچہری،
خواتین کو جائیداد میں ان کا جائز حصہ دلانے اور کام کے مقامات پر ہراساں کیے جانے سے بچانے کے حوالے سے آگاہی، رہنمائی اور فوری سہولت کی فراہمی کے حوالے سے جلال بابا آڈیٹوریم ایبٹ آباد میں منگل کے روز صوبائی خاتون محتسب خیبر پختونخوا رباب مہدی اور کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ کی زیرِ صدارت کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔کھلی کچہری میں مرد و خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے مسائل پیش کیے۔کھلی کچہری کے دوران صوبائی خاتون محتسب اور کمشنر ہزارہ ڈویژن نے شہریوں کی شکایات اور مسائل کو بغور سنا اور ان کے فوری اور مؤثر حل کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کیں۔ اس موقع پر صوبائی خاتون محتسب محترمہ رباب مہدی نے اپنے ادارے کی کارکردگی، خواتین کے وراثتی حقوق کی بحالی اور ہراسانی کے مقدمات کے بروقت حل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی خاتون محتسب کا ادارہ خواتین کو مفت، تیز اور باوقار انصاف فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے، جس کے نتیجے میں عوام بالخصوص خواتین کا ادارے پر اعتماد بڑھا ہے۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی خواتین کے جائیداد اور کام کی جگہ پر حقوق کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ نے اپنے خطاب میں صوبائی خاتون محتسب کے دفتر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کی بدولت خواتین کو انصاف کی فوری اور آسان رسائی ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے ڈویژنل اور ضلعی سطح پر انتظامیہ کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اسلام، آئین اور شریعت میں خواتین کے حقوق کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے اور معاشرے کی ترقی میں خواتین کے کردار سے انکار ممکن نہیں۔کمشنر ہزارہ نے مزید کہا کہ خواتین کو وراثت میں ان کا جائز حق دینا اور کام کے مقامات پر انہیں سازگار اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے تحریری لین دین اور مناسب دستاویزات کے استعمال پر زور دیتے ہوئے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ تعلیم پر توجہ دیں، نیکی کے راستے پر چلیں اور سفارش و رشوت سے اجتناب کریں تاکہ ایک مثبت اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان کی شہید سب انسپکٹر جمیل بابر خان کی نمازِ جنازہ میں شرکت
خیبرپختونخوا کے وزیرِ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان نے ایکسائز انٹیلیجنس بیورو کے شہید سب انسپکٹر جمیل بابر خان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔نمازِ جنازہ میں اراکینِ صوبائی اسمبلی، سیکرٹری محکمہ ایکسائز خالد الیاس، پولیس اور ایکسائز کے اعلیٰ افسران، اہلکاروں اور علاقہ عمائدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر صوبائی وزیر سید فخر جہان نے شہید سب انسپکٹر جمیل بابر خان کو خراجِ عقیدت پیش کیا، ان کی جسدِ خاکی پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ان کی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔ شہید جمیل بابر خان کی قربانی بہادری، فرض شناسی اور بے لوث عوامی خدمت کی ایک روشن مثال ہے، جو محکمہ ایکسائز فورس کے لیے باعثِ فخر اور اعزاز ہے۔واضح رہے کہ شہید سب انسپکٹر جمیل بابر خان ہشتنگری کے مقام پر فائرنگ کے واقعے میں شدید زخمی ہو گئے تھے اور ایک سال سے زائد عرصے تک زیرِ علاج رہے تاہم دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہادت کے درجے پر فائز ہو گئے۔
Shafi Jan Responds to Maryam Nawaz’s Statement Against PTI
Special Assistant to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa on Information and Public Relations, Shafi Jan, has reacted to the recent statements issued by Maryam Nawaz against Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI), stating that the success of the nationwide peaceful strike and shutter-down protest has clearly reflected public sentiment and has unsettled those in power.
He said that the widespread public response to the protest has demonstrated that attempts to undermine public opinion have failed, and that the people are expressing their disapproval through democratic means. According to Shafi Jan, PTI remains the country’s most popular and peaceful political party, which has consistently pursued its struggle within the framework of the Constitution and the rule of law.
He emphasized that PTI has always advocated democratic norms and reminded that political history of PML (N) reflects contrasting approaches to dissent and institutions. He noted that the narrative of PML (N) portraying PTI as disruptive has been rejected by the public, as citizens are fully aware of the party’s commitment to peaceful and constitutional politics.
The Special Assistant stated that the electorate had already expressed its political choice through the ballot in favor of PTI and its founding chairman , Imran Khan, while rejecting traditional dynastic politics two years back. He added that slogans of PML (N) advocating respect for the vote lose credibility when the public mandate itself is perceived to be disregarded.
Shafi Jan further remarked that history bears witness to repeated instances where public opinion was overlooked for the sake of retaining power, but he stressed that public awareness has significantly increased and such practices no longer remain unquestioned.
He maintained that political developments in Punjab indicate growing public dissatisfaction of Maryam’s government and that political pressure tactics cannot suppress the democratic voice of the people. According to him, any excesses against PTI and its supporters will be remembered as a dark chapter in political history, as governments in Punjab and Federal lacking public legitimacy cannot silence popular opinion through coercive measures.
Concluding his statement, Shafi Jan reiterated that Pakistan Tehreek-e-Insaf firmly believes in an constitutional, legal, and democratic struggle for the protection of public rights. He expressed confidence that the public stands with Imran Khan.
چیف سیکرٹری کی زیر صدارت ہفتہ وار جائزہ اجلاس کا انعقاد، اضلاع اور محکموں کی کارکردگی کی تعریف
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے پیر کے روز صوبے میں سروس ڈیلیوری اور اہم حکومتی اصلاحات کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے اعلیٰ سطحی ہفتہ وار اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں بہترین کارکردگی دکھانے والے انتظامی سیکرٹریز اور ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی کو سراہا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں ضلعی سطح پر عوامی خدمات کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ کارکردگی کے اشاریوں کی بنیاد پر ڈپٹی کمشنر صوابی نصراللہ کو بہترین کارکردگی پر سرفہرست قرار دیا گیا، جبکہ ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ فیاض شیرپاؤ دوسرے نمبر پر رہے۔ ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اور ڈپٹی کمشنر لکی مروت حمیداللہ کی عمدہ کارکردگی کو بھی سراہا گیا۔ اسی طرح ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سہیل خان کی مؤثر نگرانی اور کارکردگی کو سراہا گیا ہے۔چیف سیکرٹری نے گڈ گورننس روڈ میپ پر نمایاں کردار ادا کرنے والے محکموں کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ظفر الاسلام، سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن محمد خالد، سیکرٹری سیاحت سعادت حسن اور سیکرٹری زراعت عنبر علی خان کو اصلاحاتی اقدامات پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ تمام اعزاز حاصل کرنے والوں کو تعریفی اسناد کے ساتھ بہترین کارکردگی والے آفیسرز کو اعزازیہ بھی دیا جائے گا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران 24 انسداد تجاوزات آپریشنز کیے گئے۔ شہری انتظام بہتر بنانے کے لیے نالوں اور آبی گزرگاہوں کی صفائی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے بھر میں پولیو مہم کامیابی سے مکمل کر لی گئی ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر قابو پانے کے لئے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ چیف سیکرٹری نے ماہ رمضان المبارک کے پیش نظر ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اضلاع میں اشیائے ضروریہ کی فراہمی اور قیمتوں کے کنٹرول کے لیے بروقت انتظامات یقینی بنائیں۔اجلاس میں آؤٹ سورسنگ سے متعلق اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ 500 سرکاری سکولوں کے لئے 15 فروری تک معاہدے ترتیب پانے کا امکان ہے، جبکہ 72 میں سے 34 ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ کے لیے ضروری تقاضے مکمل کئے جاچکے ہیں اور 26 فروری تک ان کی اؤٹ سورسنگ ممکن ہوگی۔ آوٹ سورسنگ کا مقصد ان سکولوں اور ہسپتالوں کی کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔چیف سیکرٹری کو آگاہ کیا گیا کہ پشاور بس ٹرمینل منصوبہ تکمیل کے قریب ہے اور جلد افتتاح کیا جائے گا، جس سے صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک مسائل میں کمی اور شہری ٹرانسپورٹ سروس میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔صوبائی کیش لیس ایکشن پلان کے تحت فروری میں 84 عوامی خدمات کو ڈیجیٹل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جن میں سے 73 مکمل کر لی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ سیاحتی مقامات پر صفائی اور ماحولیاتی معیار بہتر بنانے کے لیے 478 ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں سیوریج اور صفائی کے انتظامات یقینی بنائے گئے ہیں۔چیف سیکرٹری نے اصلاحاتی عمل کی رفتار برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے تمام محکموں اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ عوامی خدمات، شفافیت اور عوام دوست طرزِ گورننس پر توجہ جاری رکھی جائے۔
معاونِ خصوصی اطلاعات شفیع جان کی زیرِصدارت کوہاٹ میں ترقیاتی منصوبوں اور شہری سہولیات سے متعلق اہم اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان کی زیرِصدارت ڈپٹی کمشنر آفس کوہاٹ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں کوہاٹ شہر میں جاری اور آئندہ مجوزہ ترقیاتی منصوبوں، بنیادی شہری سہولیات اور مجموعی انفراسٹرکچر کی بہتری سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوہاٹ محمد نواز وزیر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (فنانس اینڈ پلاننگ) عامر علی شاہ، خیبرپختونخوا سٹیز امپروومنٹ پروجیکٹ کے چیف انجینئر، سوئی ناردرن گیس کے نمائندگان، اربن ایریا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام اور رکنِ قومی اسمبلی شہریار آفریدی کے فوکل پرسن قاسم زبیر نے شرکت کی۔ اجلاس میں کوہاٹ شہر میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت، گیس لائنوں کی تنصیب، نکاسی آب، شہری خوبصورتی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کی رفتار و معیار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے جاری منصوبوں میں حائل رکاوٹوں، بین الاداراتی مسائل اور عوامی شکایات پر بھی غور کیا۔ معاونِ خصوصی اطلاعات شفیع جان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی رابطے، مکمل ہم آہنگی اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام کریں تاکہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر سے بچا جا سکے اور عوام کو درپیش مسائل کا بروقت، مؤثر اور دیرپا حل یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایات کے مطابق شہری سہولیات کی بہتری صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کوہاٹ جیسے اہم شہر کی ترقی میں کسی قسم کی غفلت، سستی یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے منصوبوں کے معیار، شفافیت اور بروقت تکمیل پر خصوصی زور دیا۔اجلاس کے دوران مختلف تجاویز اور سفارشات پر غور کیا گیا جبکہ متعلقہ محکموں کو واضح ٹائم لائنز کے ساتھ ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی تاکہ کوہاٹ کے شہریوں کو بہتر سہولیات میسر آ سکیں اور شہر کی مجموعی ترقی کا عمل مزید تیز ہو۔
آر ٹی ایس کمیشن میں سات عوامی شکایات کی شنوائی ہوئی
رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں سات عوامی شکایات کی شنوائی ہوئی۔ چیف کمشنر محمد علی شہزادہ اور کمشنر ذاکر حسین آفریدی نے شہریوں کے درخواستوں پر سماعت کی۔ پشاور سے محمد شفیع نے فرد کے حصول کے لیے کمیشن کو درخواست دی تھی، شہری کا کہنا ہے کہ حلقہ پٹواری فرد مہیا نہیں کر رہا۔ کمیشن نے اگلی سنوائی پر حلقہ پٹواری کو بذات خود ریکارڈ سمیت کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے احکامات جاری کیے۔ چارسدہ سے فضل دین نے زمین کی حد براری کے لیے کمیشن سے رجوع کیا تھا۔ ڈی سی چارسدہ نے کمیشن کو لکھا کہ عدالتی احکامات پر حد براری ہو چکی ہے۔ شہری نے کمیشن کو بتایا کہ حد براری نہیں ہوئی، کمیشن نے اگلی تاریخ پر پٹواری کو تمام ضروری ریکارڈ سمیت طلب کر لیا۔ سوات سے خالدہ بی بی کی ایف آئی آر کی درخواست پر ڈی پی او سوات کو خاتون کا مسئلہ حل کرنے کے لیے یاد دہانی نوٹس جاری کر دیا۔ ث پاگول خان نے بٹگرام سے زمین کی حد براری کے لیے کمیشن کو درخواست دی ہے۔ کمیشن نے ڈی سی کو شہری کا مسئلہ مقررہ مدت میں حل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ مردان سے عبدل رازق نے فرم رجسٹریشن کے لیے کمیشن کو درخواست دی ہے۔ دو دفعہ عدم پیروی کے بناء پر کمیشن نے شکایت خارج کر دی۔ نوشہرہ سے وزیر گل نے زمین کی حد براری کے لیے کمیشن کو درخواست دی ہے۔ شہری حاضر نہ ہو سکا اگلی سنوائی پر دوبارہ طلب۔ کمیشن نے سرکاری افسران کو عوام کی ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے اور خدمات کی فراہمی کے عمل کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ بنیادی خدمات کا حصول عوام کا حق ہے نا کہ ان پر حکومت کا احسان۔
