Home Blog Page 13

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا نے گڈ گورننس روڈمیپ کے تحت اہم سنگ میل عبور کرلیا۔ 273 کمزور کارکردگی والے سکولوں کی آوٹ سورسنگ کامیابی سے مکمل کرلی گئی۔

وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا کی ہدایت پر صوبائی حکومت کے گورننس روڈمیپ کے تحت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں انقلابی اقدامات جاری ہیں۔ خیبرپختونخوا میں سکولوں کو فرنیچر سپلائی کا عمل جاری ہے جون 2026 تک تمام سکولوں کو فرنیچر کی سپلائی مکمل ہوجائے گی جبکہ سکولوں حاضری کے نظام میں شفافیت کیلئے فیشیل رکگنشن پر مبنی حاضری کا نظام متعارف کرانے پر بھی کام کیا جارہا ہے۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت گڈ گورننس روڈ میپ پر اہم جائزہ اجلاس میں سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت خیبرپختونخوا نے ونٹر زون میں 273 سکولوں کی آوٹ سورسنگ کامیابی سے مکمل کرلی۔ کمزور کارکردگی والے سکولوں کی آوٹ سورسنگ حکومت خیبرپختونخوا کے گڈ گورننس روڈ میپ کا اہم جزو ہے۔
سمر زون کے 226 سکولوں کی آوٹ سورسنگ پر بھی کام شروع کردیا گیا ہے۔
آوٹ سورس ہونے والے سکولوں کی مانیٹرنگ کیلئے بھی خصوصی نظام وضع کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ خیبرپختونخوا کے ہر ضلع میں اچھی کارکردگی والے دو سکولوں کو سینٹر آف ایکسیلینس میں تبدیل کیا جائے گا۔ کل 72 سینٹر آف ایکسیلینس بنائے جائیں گے۔

رکن صوبائی اسمبلی و چئیرمین کمیٹی برائےمحکمہ کھیل و امور نوجوانان افتخار اللہ جان کی زیر صدارت جمعرات کو محکمہ کھیل کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا

رکن صوبائی اسمبلی و چئیرمین کمیٹی برائےمحکمہ کھیل و امور نوجوانان افتخار اللہ جان کی زیر صدارت جمعرات کو محکمہ کھیل کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں مشیر کھیل تاج محمد خان ترند ،رکن اسمبلی فرزانہ شیریں،رکن اسمبلی ایمن جلیل جان،سیکرٹری کھیل محمد آصف،ڈی جی کھیل تاشفین حیدر،اور محکمہ کھیل وامور نوجوانان کے دیگر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ کھیل وامور نوجوانان کے حکام نے چیرمین کمیٹی و مشیر کھیل اور دیگر اراکین اسمبلی کو محکمہ کے انتظامی ،مالیاتی و دیگر معاملات و مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔حکام نے محکمہ کھیل میں ڈائریکٹر جنرل کھیل،ڈی جی کھیل ضم اضلاع،احساس نوجوان پروگرام۔ڈائریکٹریٹ آف یوتھ افئیرز ،ڈائریکٹریٹ آف ورکس انکی زمہ داریوں ،کردار اور جاری ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے آگاہ کیا۔ڈی جی کھیل تاشفین حیدر نے صوبہ میں منعقد کی گئی کھیلوں کی سرگرمیوں ، جاری ترقیاتی سکیموں، اور آنے والے والے میچز بارے آگاہ کیا۔انہوں نے انٹر مدارس،ٹرانسجینڈر زمونگ کور ماڈل سکول (یتیموں)ٹارٹن ٹریک ،صوبہ بھر میں سپورٹس کمپلیکس ،احساس نوجوان پروگرام،ضم اضلاع میں جاری کھیلوں کی سرگرمیوں ،گروانڈز کی تعمیر ، جوان مرکز اور محکمہ کے دیگر سرگرمیوں بارے تفصیل سے بریفنگ دی ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر کھیل نے بتایا کہ صوبہ بھر میں سپورٹس گروانڈز کی تعمیر کے حوالے سے جتنی بھی اراضی کے کیسز ہے انکا ریکارڈ انکو بیجھا جائے تاکہ وہ متعلقہ منتخب اراکین اسمبلی سے ان معاملات کے بارے میں بات چیت کے زریعے مسلہ کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ متعلقہ سپورٹس گراونڈز بروقت مکمل ہوسکیں۔انہو ن نے مزید کہا ہے کہ صوبہ بھر میں ہر تحصیل کے لیول پر گراونڈ کی تعمیر پر کام جاری ہے ۔مشیر کھیل نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں ۔تاج محمد خان ترند کا کہنا تھا کہ نوجوان ہمارے ملک کااصل اثاثہ ہے اور انکو روزگار کے مواقع دینا ہمارا اہم فریضہ ہے۔رکن اسمبلی و چیرمین کمیٹی افتخاراللہ جان نے کہا ہے کہ نوجوانوں کیلئے تمام تر دستیاب وسائل کو بروئے کار لاکر انکو سہولیات فراہم کریں گے۔انہوں نے معمر افراد کیلئے واکنگ ٹریک بنانے کی ہدایت کردی۔چیرمین کمیٹی افتخار اللہ جان اور مشیر کھیل نے اگلے اجلاس میں محکمہ پلاننگ اینڈ ڈولپمنٹ اور محکمہ خزانہ کے حکام کو اجلاس میں بلانے کی ہدایت کردی۔

اخبارات کو واجبات کی ادائیگی اور ری کنسلی ایشن کے عمل کو مزید تیز کیا جائے، شفیع جان کی ہدایت

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ اخبارات کو اشتہارات کے اجراء اور بقایاجات کی ادائیگیوں سمیت محکمے کے تمام امور میں سو فیصد شفافیت یقینی بنائی جائے۔ موجودہ دور میں میڈیا اور محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے امور کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ مطیع اللہ خان ، ڈائریکٹر جنرل محمد عمران سمیت محکمے کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں معاون خصوصی اطلاعات و تعلقات عامہ کو محکمے کے زیر انتظام ایف ایم ریڈیوز اور اخبارات کو بقایاجات کی ادائیگی سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفننگ میں بتایا گیا کہ ہائی کورٹ کے احکامات اور صوبائی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں اخبارات کو بقایاجات کی ادائیگیوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ اس حوالے سے محکمہ اطلاعات کی کوششوں کے خاطر خواہ نتائج سامنے آرہے ہیں۔پرانے واجبات کی ادائیگی کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کیا جا رہا ہے۔ معاون خصوصی شفیع جان نے ہدایت کی کہ اخبارات کے واجبات اور مزید ری کنسلی ایشن کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔ اشتہارات کے اجرا اور ادائیگیوں سمیت محکمے کے تمام امور میں سو فیصد شفافیت یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں میڈیا اور محکمہ اطلاعات کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے موجودہ حکومت محکمہ اطلاعات کو جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔محکمہ اطلاعات کے زیر انتظام صوبے میں قائم ایف ایم ریڈیوز اسٹیشن کے حوالے سے بریفننگ میں بتایا گیا کہ ایف ایم ریڈیوز کی نشریات صوبے کی 41 فیصد آبادی تک پہنچ رہی ہیں۔ صوبہ بھر میں محکمہ اطلاعات کے تحت 10 ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز فعال ہیں۔ ایف ایم ریڈیوز عوام کو حکومتی اقدامات، آگاہی پروگرامز اور قدرتی آفات سے متعلق بروقت معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ ایف ایم ریڈیوز کے ذریعے مختلف سماجی معاملات پر عوام کو اگہی کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل کو حکام بالا تک پہنچانے میں بہت ذیادہ مدد گار ثابت ہو رہی ہے۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا مردان میں مائننگ حادثے پر اظہار افسوس

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے ضلع مردان کے علاقے رستم میں مائننگ کے دوران پیش آنے والے افسوسناک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ یہاں سے جاری اپنے تعزیتی بیان میں انہوں نے حادثے میں جاں بحق نو مزدوروں کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غمزدہ خاندانوں کے لئے یہ ایک ناقابل تلافی نقصان ہے،شفیع جان نے کہا کہ ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ نے بروقت ریسکیو آپریشن کا آغاز کرتے ہوئے امدادی سرگرمیاں شروع کیں جس کے نتیجے میں ملبے تلے دبے مزدوروں کو نکال لیا گیا جن میں دو زخمی مزدوروں کو ہسپتال منتقل کرکے بہترین طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔انہوں نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کے افسران نے ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی جبکہ ایک لاپتہ مزدور کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے اس ضمن میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں،معاون خصوصی نے زخمی افراد کی جلد صحتیابی اور جاں بحق افراد کی مغفرت اور انکے لواحقین کے لیے صبرجمیل کی دعا کی اور کہا صوبائی حکومت اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے اورمتاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی۔

قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ کے بورڈ آف گورنرز (BOG) کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس وزیر صحت خلیق الرحمن کی زیر صدارت منعقد ہوا

قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ کے بورڈ آف گورنرز (BOG) کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس وزیر صحت خلیق الرحمن کی زیر صدارت منعقد ہوا، جبکہ رکن صوبائی اسمبلی میاں عمر سمیت اجلاس میں سیکرٹری صحت شاہد اللہ خان، چیئرمین بورڈ آف گورنرز اشفاق خٹک اور دیگر اعلیٰ صحت حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران چیئرمین بی او جی نے ہسپتال کی مجموعی کارکردگی، درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل پر ایک جامع اور تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر یہ بات اجاگر کی گئی کہ قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ ضلع نوشہرہ کا واحد ٹیچری کیئر ہسپتال ہے جو لاکھوں افراد کو طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت نے نو تشکیل شدہ بورڈ آف گورنرز کے اہم کردار پر زور دیا اور کہا کہ ہسپتال کی کارکردگی میں نمایاں اور مؤثر بہتری لانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ڈاکٹروں کی حاضری کو یقینی بنایا جائے، معیاری ادویات کی دستیابی برقرار رکھی جائے، طبی آلات کو فعال رکھا جائے اور ہسپتال میں صفائی و نظم و ضبط کو یقینی بنایا جائے۔
وزیر صحت نے واضح کیا کہ کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت دی کہ سخت مانیٹرنگ نظام قائم کیا جائے اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مریضوں کے لیے صاف ستھرا اور دوستانہ ماحول فراہم کیا جائے اور عملے اور ڈاکٹروں کے رویوں میں مثبت تبدیلی لائی جائے تاکہ مریضوں کے ساتھ بہتر برتاؤ یقینی بنایا جا سکے۔وزیر صحت نے کہا کہ بورڈ آف گورنرز کی تشکیل کا مقصد فیصلہ سازی کے عمل کو تیز کرنا اور ہسپتال کو جدید طبی تقاضوں کے مطابق مکمل فعال بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے بھرتیوں پر عائد پابندی میں نرمی کر دی ہے تاکہ عملے کی کمی کو پورا کیا جا سکے اور خالی آسامیوں پر تعیناتیاں کی جا سکیں۔مزید برآں وزیر صحت نے ہدایت دی کہ ایس ایس پی ڈسپنسری میں صرف میڈیکل کنٹرول کمیٹی (MCC) سے منظور شدہ معیاری ادویات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے اور اس سلسلے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔بورڈ آف گورنرز نے وزیر صحت کو یقین دہانی کرائی کہ ہسپتال میں جلد مثبت اور نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں گی، جس سے سروس ڈیلیوری اور مریضوں کے اطمینان میں بہتری آئے گی محکمہ صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کے عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اور صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بورڈ آف گورنرز کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھا جائے گا۔

ایبٹ آباد اور صوابی میں محکمہ ایکسائز کی پراپرٹی ٹیکس نادہندگان کے خلاف خصوصی مہم، متعدد یونٹس سیل

محکمہ ایکسائز وٹیکسیشن اور نارکوٹکس خیبرپختونخوا نے پراپرٹی ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائیوں کو جاری رکھتے ہوئےایبٹ آباد اور صوابی کے اضلاع میں خصوصی مہم کے دوران متعدد ٹیکس نادہندہ یونٹس سیل کر دیے۔محکمہ ایکسائز سے موصولہ تفصیلات کے مطابق ضلع ایبٹ آباد میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر عمار جدون کی نگرانی میں قلندر آباد کے علاقے میں بڑے پراپرٹی ٹیکس نادہندگان کے خلاف خصوصی مہم چلائی گئی۔ متعدد بار نوٹسز جاری کرنے کے باوجود واجبات ادا نہ کرنے والے کئی ٹیکس یونٹس کو قانونی کارروائی کے تحت سیل کر دیا گیا۔اسی طرح ضلع صوابی میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر شکیل خان کی ہدایت پر پراپرٹی ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی جہاں بارہا نوٹسز کے باوجود عدم ادائیگی پر متعدد ٹیکس یونٹس سیل کیے گئے۔محکمہ ایکسائز نے جائیداد مالکان کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے پراپرٹی ٹیکس واجبات بروقت ادا کریں تاکہ قانونی کارروائی، جرمانوں اور ممکنہ سیلنگ سے بچا جا سکے۔ محکمہ کے مطابق صوبہ بھر میں ٹیکس وصولی یقینی بنانے کے لیے ایسی کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔

خیبر پختونخواکے وزیر برائے ابتدائی وثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایت پر صوبے کے 7ماڈل تعلیمی اداروں کہ عظمت رفتہ کو اصلی حالت میں بحال کرنے کے لیے موجودہ حکومت تمام تر ضروری اقدامات اٹھائے گی

خیبر پختونخواکے وزیر برائے ابتدائی وثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایت پر صوبے کے 7ماڈل تعلیمی اداروں کہ عظمت رفتہ کو اصلی حالت میں بحال کرنے کے لیے موجودہ حکومت تمام تر ضروری اقدامات اٹھائے گی اور ان اداروں کو ایک بار پھر صوبے کے عوام کے لیے مثالی تعلیمی اداروں کے طور پر بحال کرے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز پشاور میں صوبے کے 7 نامور اور مثالی تعلیمی اداروں کے حوالے سے منعقدہ ان لائن اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن محمد خالد ،سپیشل سیکرٹری محمد صالح خان اور بورڈ کے دیگر افسران نے ان لائن اجلاس میں شرکت کی اس موقع پر صوبے کے نامور تعلیمی اداروں فضل حق کالج مردان،ایبٹ آباد پبلک سکول،اکرم خان درانی کالج بنوں،پشاور پبلک سکول،ایکزلر کالج سوا ت ،سنگوٹہ پبلک سکول سوات ،یونیورسٹی وینسم کالج ڈی آئی خان کی بحالی کے لیے درکار فنڈز کی فراہمی،انفراسٹرکچر،لیب،سپورٹس کی سہولت،اساتذہ کو جدید تربیت کی فراہمی اور دیگر ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کے لیے دو سب کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو کہ فزیکل طور پر ان اداروں کا وزٹ کریں گی اور وہ ہر ایک ادارے کا جائزہ لےکر اپنی رپورٹ اجلاس میں پیش کریں گی اجلاس میں صوبائی وزیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت ان مشہور نامور تعلیمی اداروں کی عظمت رفتہ بحال کرنے کے لیے تمام تر دستیاب وسائل کو بروئے کار لائے گی اور ان اداروں کے لیے ایک جیسی یونیفارم پالیسی وضع کی جائے گی جس میں ان کی کپیسٹی بلڈنگ کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کے معیار کومزید بہتر کرنے اور تمام اداروں کو ڈیجیٹائزیشن کی طرف راغب کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ان تعلیمی اداروں کی بحالی سے صوبے کے بچے اپنے علاقوں میں معیاری تعلیم حاصل کر سکیں گے اور تعلیم کے لیے دور دراز علاقوں میں جانا نہیں پڑے گا صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ سب تعلیمی ادارے صوبے کا سرمایہ ہیں ان کو اصلی حالت میں لانے کاپلان تیار کیا جائے گا اور انشاءاللہ ایک بار پھر ان تعلیمی اداروں میں ہمارے صوبے کے بچے معیاری تعلیم حاصل کر کے اچھے اچھے عہدوں پر فائض ہو سکیں گے

صنفی مساوات پر مبنی پولیسنگ یک روزہ تربیتی سیشن کا انعقاد اچھا اقدام ہے، ڈی جی انسانی حقوق غلام علی

0

خیبرپختونخوا میں صنفی مساوات پر مبنی پولیسنگ کو مزید مستحکم کرنے کی غرض سے 19 خاتون پولیس اہلکاروں کی استعداد کار بڑھانے کا ایک روزہ تفصیلی تربیت کا اہتمام پشاور کے مقامی ہوٹل میں ہوا جس میں متاثرہ خواتین و لڑکیوں پر تشدد کے خلاف پولیس کی جانب سے پیشہ ور انداز میں حساس ردعمل اور کیسسز کو نمٹانے پر لیکچرز اور سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل انسانی حقوق خیبرپختونخوا غلام علی نے منعقدہ سیشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں خواتین و لڑکیوں پر صنفی بنیاد پر، گھریلو تشدد، جائے کار میں ہراسمنٹ کی روک تھام سمیت دیگر متعلقہ امور کے حوالے سے قانون سازی ہوئی ہے، جن پر مکمل عملدرامد کے سلسلے میں کئی چیلنجز اب بھی درپیش ہیں. انہوں نے کہا کہ محکمہ انسانی حقوق خیبرپختونخوا یو این وویمن، جرمن ایمبیسی اور شرکت گاہ جیسی معاون پارٹنرز کی تعاون سے ان چیلنجز پر قابو پانے میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ خواتین پولیس کی لڑکیوں و خواتین پر تشدد کے متعلق حساس واقعات کی بہترین انداز میں پولیسنگ کر سکیں گے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ خواتین پر تشدد کے واقعات کے متعلق ابتدائی رپورٹ کے اندراج اور تفتیشی عمل کا بھی اہم کردار ہوتا ہے جس کو بطریق احسن سرانجام دینے میں خواتین پولیس اپنا بھرپور کردار ادا کریں گی۔ شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صوبائی محتسب خیبرپختونخوا رخشندہ ناز نے کہا کہ پولیس، پراسیکیوشن اور عدلیہ جیسی اہم اداروں میں خواتین کی خدمات سرانجام دینے کے لیے آگے آنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں خواتین پولیس کا کردار صنفی تشدد اور گھریلو تشدد کی روک تھام میں انتہائی اہم ہے۔ اس ضمن ان کا استعداد کار بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔ شرکت گاہ تنظیم کی صوبائی سربراہ فوزیہ علی نے پروگرام کے اختتام پرمحکمہ انسانی حقوق، پولیس اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی معاونت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ صنفی بنیاد پر اور گھریلو تشدد کی روک تھام ادارہ جاتی تعاون اور متعلقہ اہلکاروں کی استعداد کار بڑھانے سے ممکن ہے۔

Khuli Kachehri held under the chairmanship of Provincial Minister for Public Health Engineering, Fazal Shakoor Khan

PESHAWAR: An online open court (Khuli Kachehri) was held under the chairmanship of the Provincial Minister for Public Health Engineering, Fazal Shakoor Khan, aimed at ensuring prompt resolution of public issues and strengthening public engagement.

Citizens from various parts of the province participated in the session through telephone calls and directly presented their concerns to the Provincial Minister and senior officials. During the proceedings, the Minister personally listened to public complaints and issued on-the-spot directives to the concerned officers for immediate resolution of several issues.

The session was attended by Secretary PHE Masood Younas, Additional Secretary Jahangir Azam, Chief Engineers, and other relevant officials. Participants also demanded timely completion of ongoing development projects of the PHE. In response, the Provincial Minister assured that efforts are being accelerated to ensure completion of all projects within the stipulated timeframe.

While taking notice of public grievances, contact numbers of complainants were also recorded to enable the concerned Executive Engineers (XENs) to follow up and resolve issues effectively.

Speaking on the occasion, the Provincial Minister said that resolving public issues at their doorstep is a top priority of the current KP government, and all available resources are being utilized in this regard. He emphasized that the Khuli Kachehri serves as an effective platform where citizens can directly access senior government officials and present their concerns without any intermediary.

Fazal Shakoor Khan further said that such open courts are bridging the gap between the public and government departments, thereby enhancing public trust. He added that citizens are able to ask questions directly, and relevant officials provide immediate responses, leading to quicker resolution of issues.

He maintained that, on the special directives of Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa, Sohail Afridi, open courts are being held across the province to ensure timely resolution of public issues and to promote good governance.

The Minister reaffirmed that the series of Khuli Kachehris will continue, and every effort will be made to resolve public issues at the earliest. He concluded by saying that the current provincial government is committed to public welfare and is taking all possible steps to improve service delivery alongside ensuring timely completion of development projects.

KP Minister Riaz Khan presided over important review meeting of the department

0

The Khyber Pakhtunkhwa for irrigation Riaz Khan chaired an important review meeting regarding various departmental schemes, in the committee room of the Irrigation department. The meeting included a detailed review of the progress on ongoing projects under the Pehur High Level Canal (PHLC) and the Emergency Flood Assistance Project (EFAP).

The meeting was attended by Project Director PHLC, Engineer Zar Gul Khan—who is also holding the additional charge of Project Director EFAP—along with relevant officials and technical experts.

The Provincial Minister was given a comprehensive briefing on the progress of projects under PHLC and EFAP. It is said in the meeting that several projects are nearing completion, while progress on others is satisfactory.

The PD also informed about the challenges being faced, including timely release of funds, technical issues, and field-level obstacles. Proposed measures to address these challenges were also discussed.

Expressing satisfaction over the ongoing progress, Provincial Minister Riaz Khan emphasized the importance of timely completion of projects while ensuring high quality standards. He directed the concerned authorities to further accelerate the pace of work on all ongoing schemes.

He also instructed that transparency and merit must be ensured in all projects, and that the monitoring system should be further strengthened to guarantee the effective utilization of funds. The Provincial Minister urged field officers to demonstrate seriousness in resolving public issues and to make timely decisions based on ground realities.

The Provincial Minister further said that the current KP government is utilizing all available resources to ensure timely completion of public welfare projects and to achieve sustainable development.