پراجیکٹ مینجمنٹ اینڈ ایمپلیمنٹیشن یونٹ (PMIU)، محکمہ صحت خیبر پختونخوا میں سیکنڈری ہیلتھ کیئر ہسپتالوں کی تجدیدکاری کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈاکٹر شہزاد فیصل، پروجیکٹ ڈائریکٹر PMIU نے کی۔اجلاس میں محکمہ صحت، مواصلات و تعمیرات (C&W)، نیسپاک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک (ADB) کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں جاری منصوبوں کی پیش رفت اور نیسپاک کی جانب سے پیش کردہ ٹائم لائنز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیسپاک PC-1(3) اورPC-1(4) کے تحت مختلف ضلعی ہسپتالوں کے ڈیزائن تیار کرے گا جن میں کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال مانسہرہ، ڈی ایچ کیو بٹ خیلہ، ڈی ایچ کیو چترال لوئر، ڈی ایچ کیو ٹانک، ڈی ایچ کیو ہنگو، ڈی ایچ کیو بٹگرام، ڈی ایچ کیو (بونیر)، ڈی ایچ کیو لکی مروت، سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال سوات، ڈی ایچ کیو مردان، ڈی ایچ کیو کوہستان، ڈی ایچ کیو الپوری شانگلہ، ڈی ایچ کیو باجوڑ (خار)، ڈی ایچ کیو لنڈی کوتل، ڈی ایچ کیو وانا ساوتھ وزیرستان، ڈی ایچ کیو پاراچنار، ڈی ایچ کیو میران شاہ، ڈی ایچ کیو مشتی میلہ اور ڈی ایچ کیو غلنئی (مہمند) شامل ہیں۔ڈاکٹر شہزاد فیصل نے اس موقع پر کہا کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل اور محکموں کے درمیان قریبی رابطہ ہی بہتر اور معیاری صحت سہولیات کی فراہمی کی ضمانت ہے۔
پشاورکی خوبصورتی کے لئے پیڈو کا پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ساتھ تعاون پراتفاق
سیکرٹری توانائی وبرقیات خیبرپختونخوا کی ہدایت پرچیف ایگزیکٹو پیڈو سید حبیب اللہ شاہ نے ڈائریکٹرجنرل پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی(پی ڈی اے) شاہ فہد سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ا س موقع پرڈائریکٹر جنرل پی ڈی اے نے خیبر پختونخوا میں پائیدار ترقی کے لیے پیڈو کے جاری تعاون کو سراہا اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) فریم ورک کے تحت پشاورکے پوش رہائشی علاقوں حیات آباد اور ریگی ماڈل ٹاؤن کی خوبصورتی کے لئے جاری اقدامات میں پیڈو کے تعاون کی درخواست کی۔چیف ایگزیکٹو پیڈونے مذکورہ تجویز کا خیرمقدم کیا اور پیڈو کے کمیونٹی پر مبنی اور ماحولیاتی ذمہ دار منصوبوں کی حمایت کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اورفیصلہ کیا کہ پہلے مرحلے میں، پیڈو حیات آباد میں قائم گول چکروں (چوکوں) کی خوبصورتی کی ذمہ داری لیتے ہوئے ا نکی تزئین وآرائش کے لئے اقدامات کئے جائیں گے، اسی طرح دوسرے مرحلے میں پیڈو اور پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی باہمی تعاون سے سر سبز، صاف اور ماحول دوست سرگرمیوں کوجاری رکھتے ہوئے پشاور شہرکی خوبصورتی کے لئے مزید اقدامات کرینگے۔ملاقات کے دوران چیف ایگزیکٹو پیڈوانجینئرحبیب اللہ شاہ نے پشاورمیں قائم سرکاری رہائشی کالونی ریگی ماڈل ٹاؤن میں پیڈو ملازمین کی رہائشی کالونی کے لیے زمین مختص کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی، جس کا مقصد ملازمین کے لیے زندگی کی بہتر سہولیات اور حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی اے نے پیڈوملازمین کی فلاح و بہبود کے حوالے سے سی ای او پیڈوکے مستقبل کے حوالے سے وژن کی تعریف کی اور اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ملاقات میں باہمی تعاون اور پشاور کو ایک سرسبز، صاف ستھرا اور خوبصورت شہر بنانے کے مشترکہ کوششوں کوجاری رکھنے کے عزم کااعادہ کیاگیا۔
ریڈیو کی بحالی عوامی اعتماد کی نئی کہانی
ریڈیو ایک ایسا ذریعہ ابلاغ ہے جو آج کے ڈیجیٹل دور میں بھی اپنی افادیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ ریڈیو سنتے ہیں اور یہ میڈیم اب بھی عوامی سطح پر تیز ترین، سستا اور قابلِ اعتماد ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا میں ریڈیو کی تاریخ نہایت اہم رہی ہے۔ کبھی یہی ریڈیو جنگی حالات میں عوام کا واحد سہارا تھا کبھی تعلیم و آگاہی کی بنیادی کھڑکی۔ مگر افسوس کہ بد انتظامی، فنڈز کی کمی اور حکومتی عدم توجہی کے باعث یہ اہم ادارہ رفتہ رفتہ زوال کا شکار ہوتا گیا۔
اب حکومت خیبر پختونخوا نے یہ خوشخبری دی ہے کہ صوبے کے تمام ایف ایم ریڈیو اسٹیشن مکمل طور پر بحال ہو کر دوبارہ آن ایئر ہو گئے ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز خیبرپختونخوا کی شب و روز محنت، انجینیئرز اور پروڈیوسرز کی قربانیوں اور نئی انتظامی حکمتِ عملی کی بدولت یہ ممکن ہو پایا۔ یہ اقدام نہ صرف ایک ادارے کی بحالی ہے بلکہ اس سے عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی جُڑتا ہے۔
خیبر پختونخوا کے زیادہ تر علاقے پسماندہ ہیں۔ نئے ضم شدہ اضلاع میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کی سہولت محدود ہے۔ ایسے میں ریڈیو ان علاقوں کے عوام کے لیے معلومات اور آگاہی کا سب سے سستا اور تیز ذریعہ ہے۔ ریڈیو کے ذریعے لوگ نہ صرف حکومتی پالیسیوں سے باخبر ہوتے ہیں بلکہ صحت، تعلیم، کاشتکاری، موسمی حالات اور دیگر عوامی امور کے حوالے سے رہنمائی بھی حاصل کرتے ہیں۔
پروگرامنگ کی بحالی کے بعد پختونخوا ریڈیو نے دوبارہ تفریحی، تعلیمی اور عوامی آگاہی پر مبنی نشریات کا آغاز کیا ہے۔ پروڈیوسرز نے صحت، تعلیم، کرنٹ افیئرز اور انفوٹینمنٹ پر نئے پروگرام ترتیب دیے ہیں۔ یہ پروگرام عوام کے مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے ہیں تاکہ ہر طبقے کو اپنی دلچسپی کے مطابق مواد میسر آ سکے۔
ریڈیو نیٹ ورک کی بحالی میں سب سے بڑا کردار انہی لوگوں نے ادا کیا جو برسوں سے گمنام محنت کر رہے تھے۔ انجینیئرز نے ناکارہ ٹرانسمیٹر اور مشینری مقامی سطح پر مرمت کی، بجائے اس کے کہ کروڑوں روپے خرچ کر کے نئے آلات درآمد کیے جائیں۔ یہ عمل ایک طرف اخراجات میں کمی کا باعث بنا تو دوسری طرف یہ ثابت کر دیا کہ اگر سرکاری ملازمین کو عزت، اعتماد اور موقع دیا جائے تو وہ غیر معمولی نتائج دے سکتے ہیں۔
دوسری طرف پروڈیوسرز نے فوری طور پر نئے پروگرام لانچ کر کے یہ ثابت کر دیا کہ ریڈیو صرف ایک تکنیکی مشین نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی آواز ہے جو عوام کی سوچ اور طرزِ زندگی کو متاثر کرتی ہے۔
یہ درست ہے کہ ریڈیو نیٹ ورک کی بحالی ایک بڑی کامیابی ہے لیکن یہ صرف پہلا قدم ہے۔ اصل چیلنج اس کامیابی کو برقرار رکھنا ہے۔ ماضی میں کئی بار ایسے اعلانات کیے گئے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ادارے پھر بد حالی کا شکار ہو گئے۔ اس بار بھی خدشہ یہی ہے کہ اگر حکومت نے بجٹ اور سروس سٹرکچر کی طرف توجہ نہ دی تو یہ کامیابی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکے گی۔
ریڈیو انجینیئرز اور پروڈیوسرز بارہا یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ ان کے لیے واضح سروس سٹرکچر بنایا جائے ترقی اور تنخواہوں میں برابری دی جائے تاکہ ان کا مورال بلند رہے۔ بصورتِ دیگر یہ محنت کش طبقہ پھر سے مایوسی کا شکار ہو سکتا ہے۔
یہ تصور غلط ہے کہ ریڈیو حکومت کے لیے محض ایک بوجھ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس ادارے کو درست انداز میں چلایا جائے تو یہ خود کفیل بھی ہو سکتا ہے۔ حکومت ہر سال اشتہارات اور آگاہی مہمات پر اربوں روپے خرچ کرتی ہے۔ اگر انہی مہمات کو اپنے ریڈیو نیٹ ورک کے ذریعے چلایا جائے تو یہ اخراجات بڑی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ مقامی سطح پر کمرشل اشتہارات سے بھی ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح ریڈیو نیٹ ورک نہ صرف اپنی بقا قائم رکھے گا بلکہ حکومت کے لیے آمدنی کا ذریعہ بھی بنے گا۔
ریڈیو کی بحالی کا ایک اور اہم پہلو عوامی اعتماد ہے۔ لوگ ریڈیو کو ہمیشہ ایک سچائی اور حقیقت پر مبنی پلیٹ فارم سمجھتے رہے ہیں۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر جعلی خبروں اور افواہوں کا طوفان ہے۔ ایسے میں ریڈیو کی نشریات ایک توازن فراہم کر سکتی ہیں۔ اگر پروگرامنگ معیاری اور غیر جانبدارانہ رہی تو لوگ ایک بار پھر ریڈیو پر بھروسہ کریں گے۔
پختونخوا ریڈیو نیٹ ورک کی ویب سائٹ کا قیام بھی ایک انقلابی قدم ہے۔ اب نہ صرف صوبے کے لوگ بلکہ دنیا بھر میں بسنے والے پختون اور دیگر سامعین بھی پختونخوا ریڈیو کو سن سکتے ہیں۔ اس اقدام سے صوبے کی ثقافت، موسیقی اور عوامی مسائل عالمی سطح پر اجاگر ہوں گے۔ یہ نہ صرف ایک معلوماتی سہولت ہے بلکہ صوبے کے تشخص کو بہتر بنانے کا بھی ذریعہ ہے۔
حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ جلد ہی ریڈیو میرانشاہ اور ریڈیو خیبر کو بھی نیٹ ورک میں شامل کیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کے لیے ایک بڑا تحفہ ہوگا۔ وہاں کے لوگوں کو مقامی زبان میں معلومات، تفریح اور تعلیم کی سہولت میسر آئے گی۔ یہ اقدام ان علاقوں میں قومی ہم آہنگی اور ترقی کو فروغ دے گا۔
پختونخوا ریڈیو نیٹ ورک کی بحالی ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ مگر اصل کامیابی تب ہوگی جب یہ ادارہ تسلسل کے ساتھ چلتا رہے۔ اس کے لیے حکومت کو بجٹ کی بروقت فراہمی، ملازمین کے مسائل کا حل اور معیاری پروگرامنگ کو یقینی بنانا ہوگا۔ ریڈیو صرف ایک تفریحی میڈیم نہیں بلکہ یہ حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کی ایک مضبوط زنجیر ہے۔ اگر اسے سنجیدگی سے چلایا گیا تو یہ نہ صرف صوبے کی ترقی کا ذریعہ بنے گا بلکہ قومی سطح پر بھی ایک مثال قائم کرے گا۔
تحریر: اطہر سوری,سٹیشن منیجر,پختونخوا ریڈیو کوہاٹ
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمے میں جاری گڈ گورننس اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمے میں جاری گڈ گورننس اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں اسٹریٹیجک پلاننگ، ڈیزائن اور سپروژن یونٹ کے قیام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں فنی مہارت بڑھانے کے لئے ایک اسٹریٹجک پلاننگ ڈیزائن اینڈ سپروژن یونٹ (ایس پی ڈی ایس یو) قائم کرنے کی تیاریاں مکمل ہیں جو کام کے معیار اور منصوبہ بندی میں بہتری لائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں اسٹریٹیجک پلاننگ، ڈیزائن اور سپروژن یونٹ کے قیام کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا، منصوبوں کی لاگت میں کمی، اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنانا ہے۔ یونٹ کا قیام حکومت خیبرپختونخوا کی ترجیحات میں شامل ہے اور گڈ گورننس روڈ میپ کے اہداف کا حصہ ہے۔ اجلاس میں یونٹ کے قیام کیلئے مختلف آپشنز زیر غور آئے اور ان پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ تعمیرات میں لائٹ گیج اسٹرکچر متعارف کرانے پر کام جاری ہے تاکہ کم لاگت اور کم وقت میں منصوبے مکمل ہوں۔ اس کیلئے ابتدائی طور پر خیبرپختونخوا کے پانچ اضلاع میں آٹھ سکولوں کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں لائٹ گیج اسٹرکچر کے تحت تعمیر کیا جائے گا۔ اس طریقے سے یہ سکول ایک تہائی کم وقت میں مکمل ہوں گے اور پچاس سال تک پائیدار رہیں گے۔ مزید برآں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے 100 فیصد ای پیڈز پر منتقلی مکمل کرلی ہے اور اب بولی جمع کرانے، کال ڈپازٹ اور کام کے تجزیے کا نظام آن لائن ہوگا۔ ای پروکیورمنٹ کے اس نظام سے شفافیت کو یقینی بنایا جارہا ہے۔محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں سڑکوں کے معائنہ و تجزیہ کے لئے روڈ ایسٹ مینجمنٹ سسٹم بھی فعال ہوچکا ہے۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق تعمیرات میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں گڈ گورننس اقدامات کے نفاذ سے محکمہ کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ کی زیرِ صدارت ڈویژنل نفاذ و نگرانی کمیٹی برائے انسدادِ تمباکو نوشی کا اجلاس
کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ کی زیرِ صدارت ڈویژنل نفاذ و نگرانی کمیٹی برائے انسدادِ تمباکو نوشی کا اجلاس کمشنر آفس ایبٹ آباد میں منعقد ہوا، جس میں تمام اضلاع کے افسران نے بذریعہ ویڈیو رابطہ شرکت کی۔
اجلاس میں محکمہ صحت کے کوآرڈینیٹر نے تمباکو نوشی کے نقصانات اور جاری اقدامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
کمشنر ہزارہ فیاض علی شاہ نے کہا کہ نوجوان نسل کو تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ محکمہ خصوصی تعلیم سمیت متعلقہ اداروں کے تعاون سے اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں آگاہی نشستوں کا اہتمام کریں۔مزید ہدایت دی گئی کہ تعلیمی اداروں کے پچاس میٹر کے اندر تمباکو مصنوعات کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ ابتدائی مرحلے میں دکانداروں کو انتباہ جاری کیا جائے اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔کمشنر ہزارہ فیاض علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اضلاع کے بڑے عوامی پارکس کو “تمباکو سے پاک پارکس” قرار دیتے ہوئے باقاعدہ اعلامیہ جاری کریں اور پارکس کے داخلی دروازوں پر “یہاں تمباکو نوشی ممنوع ہے” کے بورڈ نمایاں طور پر آویزاں کریں۔مزید یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تمام اضلاع میں ضلعی نفاذی کمیٹیوں کے اجلاس فوری طور پر بلائے جائیں اور اسسٹنٹ کمشنرز کو قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت کیجائے۔
کمشنر مردان ڈویژن نثار احمد نے محکمہ سماجی بہبود و ترقی خواتین کے زیر اہتمام منشیات بحالی مرکز مردان کا دورہ کیا
کمشنر مردان ڈویژن نثار احمد نے محکمہ سماجی بہبود و ترقی خواتین کے زیر اہتمام منشیات بحالی مرکز مردان کا دورہ کیا۔ بحالی مرکز پہنچنے پر ڈسٹرکٹ آفیسر سوشل ویلفیئر محمد شعیب، ری ہیبیلٹیشن آفیسر جمشید خان، سائیکالوجسٹ عمر زاہد اور مرکز کے عملے نے کمشنر کا استقبال کیا۔ سیکرٹری ٹو کمشنر فضل واحد بھی اس موقع پر موجود تھے۔ کمشنر مردان نے مرکز کے مختلف شعبوں بشمول میڈیکل روم، ڈی ٹاکس سنٹر، جوینائل سمیت دیگر وارڈز، پلے گراونڈ اور کچن کا معائنہ کیا اور بحالی مرکز میں داخل افراد کو سہولیات کے بارے معلومات حاصل کیں۔ کمشنر مردان کو بتایا گیا کہ بحالی مرکز میں فی الوقت 117 افراد داخل ہیں جن کو سائیکالوجسٹ، مذہبی ٹیچر اور ڈاکٹر کی خدمات حاصل ہیں جبکہ داخل افراد کو مختلف انڈور اور آؤٹ ڈور کھیلوں کی سہولیات سمیت تین وقت بہترین کھانے کی سہولتیں میسر ہیں۔ کمشنر مردان نثار احمد نے سنٹر میں موجود سہولیات کے معیار اور عملے کی دلچسپی و کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے بحالی مرکز کے کرکٹ گراؤنڈ میں پچ کی تعمیر سمیت دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کر دی۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کی لعنت معاشرے میں تیزی سے پھیل رہی ہے جس کو روکنے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں منشیات کے تباہ کن اثرات کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے سیمینارز اور ورکشاپس کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے تاکہ اپنی نئی نسل کو منشیات کی لت میں مبتلا ہونے سے بچایا جا سکے۔ کمشنر مردان نے اس موقع پر بحالی مرکز میں داخل افراد کے مابین رسہ کشی کا مقابلہ بھی دیکھا
عوامی مسائل سے آگاہی اور فوری پائدار حل کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کا ازخود عوام سے ٹیلیفونک رابطہ، مسائل کے فوری ازالے کے لئے متعلقہ افسران کو احکامات جاری
تفصیلات کے مطابق چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا سید شہاب علی شاہ کی ہدایات پر سیٹیزن پورٹل پر پشاور ڈویژن کے حوالے سے موصول ہونے والے شکایات پر کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے ازخود شکایات کنندگان سے بذریعہ ٹیلیفون رابطہ کیا اور ان سے مسائل کے حوالے سے تفصیلات دریافت کیں، مسائل سے تفصیلی آگاہی کے بعد کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے موقع پر ہی متعلقہ افسران کو مسائل کے حل کے لیے احکامات جاری کرتے ہوئے 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کرلی اس ہفتے موصول ہونے والی شکایات میں زیادہ تر محکمہ مال، غیر قانونی ٹرانسپورٹ اڈوں، غیر قانونی پارکنگ سٹینڈز، سٹریٹ لائٹس، نکاسی آب، گرانفروشی اور تجاوزات سے متعلق تھیں جن کے فوری ازالے کے لئے متعلقہ افسران کو احکامات جاری کیے گئے اس حوالے سے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے انفرادی اور اجتماعی مسائل کے حوالے سے سیٹیزن پورٹل کا استعمال کریں تاکہ ان کی شکایات کا فوری ازالہ کیا جاسکے
Speed Up the Restoration and Repair Work on Hazara Motorway, Directs Commissioner Hazara Fayaz Ali Shah
A key meeting regarding the restoration and repair of the Hazara Motorway, and in compliance with the directives of the Honorable Peshawar High Court, was held under the chairmanship of Commissioner Hazara Division, Fayaz Ali Shah, at the Commissioner’s Office, Abbottabad.
The General Manager of the National Highway Authority (CPEC Burhan) gave a detailed briefing on the ongoing repair work across various sections of the motorway. He informed the meeting that repair work is in progress at five major locations, three of which have already been completed, while work at the remaining two sites is being carried out on a fast track.
Addressing the meeting, Commissioner Fayaz Ali Shah stated that certain sections of the motorway still suffer from road depressions, sinkholes, bumps, and potholes, all of which require immediate attention to ensure safe, comfortable, and high-quality travel facilities for the public.
He directed that all affected areas of the motorway be thoroughly inspected and repair work be completed without delay, especially on the stretches connecting Hazara Motorway with Peshawar Motorway.
Later, Commissioner Hazara, accompanied by the General Manager of NHA, visited various sections of the motorway. On-site, he instructed officials to complete the ongoing work in accordance with quality standards, eliminate bumps and sinkholes, and ensure all necessary safety measures for the public during the construction process.
He further emphasized that all repair works must be completed within the stipulated time frame and that close coordination with Motorway Police should be maintained for effective management of the operations.
The Commissioner also directed that the Motorway Police be allowed to check overloaded vehicles in accordance with the law, noting that such vehicles cause severe damage to the roads.
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرصدارت اجلاس،گورننس امور، تجاوزات کے خاتمے کے لئے جاری اقدامات کا جائزہ
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرصدارت گورننس امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں تجاوزات کے خاتمے، اشیائے خورونوش کی قیمتوں، صوبائی دارالحکومت کی اپ لفٹ، الیکٹرک وہیکلز اصلاحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے جبکہ ڈپٹی کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس کو تجاوزات ہٹانے کے حوالے سے اعدادوشمار پر بریفنگ دی گئی۔ ڈائریکٹر پی ایم آر یو کی جانب سے اجلاس کو بتایا گیا کہ چیف سیکرٹری کی ہدایت پر تجاوزات آپریشن کی ٹریکنگ کے لئے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ بنایا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنرز نے اپنے اضلاع میں تجاوزات کیخلاف کاروائیوں کے بارے میں بتایا کہ پشاور میں 64 کنال اراضی واگزار کروائی گئی ہے۔ مردان میں 32 کنال، بنوں میں 120 کنال، ایبٹ آباد میں 40 کنال، ہری پور میں 39 کنال، چارسدہ میں 437 کنال اورٹانک میں 47 کنال اراضی واگزار کروائی گئی ہے۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کا کہنا تھا کہ تجاوزات کیخلاف بلا تفریق کاروائیاں جاری رکھی جائیں۔ ڈی جی پی ڈی اے نے بتایا کہ پشاور نیو جنرل بس سٹینڈ پر رات کی شفٹ میں بھی کام شروع کردیا گیا ہے۔ 31 اکتوبر تک منصوبے کے گرے اسٹرکچر پر کام مکمل کرلیا جائے گا۔ اس منصوبے سے پشاور شہر میں ٹریفک کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی کے تحت نجی شعبے سے ایم او یوز کئے جارہے ہیں جس کے تحت صوبائی دارالحکومت کی بیوٹیفکیشن میں مدد ملے گی۔ جی ٹی روڈ اور رنگ روڈ کے روڈ فرنیچر، بیوٹیفکیشن، ہارٹیکلچر منصوبے کے تحت صوبائی دارالحکومت کی اپلفٹ پر کام شروع کیا جارہا ہے۔ اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ٹھنڈیانی سیاحتی منصوبہ، گھنول انٹیگریٹڈ ٹورازم زون، درابن اکنامک زون پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری خوراک نے اجلاس کو اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر بریفنگ دی۔اجلاس میں حکومت خیبرپختونخوا کا الیکٹرک وہیکل اصلاحات متعارف کرانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جس کے تحت پہلے مرحلے میں الیکٹرک رکشہ اور الیکٹرک ٹیکسی پر کام کیا جائے گا۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ حکومت اس حوالے سے فریم ورک پر کام کرے گی۔ الیکٹرک وہیکلز کی حوصلہ افزائی سے ماحولیاتی تحفظ یقینی بنایا جاسکے گا اور اس سے مقامی روزگار کو فروغ ملے گا۔
پولیو فری پاکستان — ایک عزم، ایک خواب جو کوہاٹ ڈویژن میں حقیقت بن رہا ہے
زندگی کی اصل مسکراہٹ بچوں کے چہروں سے جھلکتی ہے۔ ان کی ہنسی، ان کی شرارتیں اور ان کے دوڑتے قدم ہی زندگی میں خوشی کی روح پھونک دیتے ہیں۔ مگر جب انہی ننھے قدموں کو پولیو جیسی موذی بیماری مفلوج کر دیتی ہے تو یہ کسی سانحے سے کم نہیں لگتا۔ یہی احساس ایک قوم کی بیداری کا سبب بنااور اسی عزم نے جنم دیا اس جدوجہد کو جسے ہم کہتے ہیں: ”پولیو فری پاکستان”۔ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا سید شہاب علی شاہ نے صوبے بھر کے انتظامی افسران کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ پولیو کے خلاف جنگ محض ایک مہم نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں مؤثر نگرانی، عوامی آگاہی اور ہر سطح پر عوام کی شمولیت لازمی ہے۔ ان ہدایات کی عملی تصویر کوہاٹ ڈویژن میں دیکھی جا سکتی ہے جہاں کمشنر سید معتصم باللہ شاہ نے انسداد پولیو مہم کو ایک تحریک کی شکل دے دی ہے۔ ہر مہم کے دوران وہ علی الصبح مختلف اضلاع کے دورے کرتے ہیں، ڈپٹی کمشنرز اور فیلڈ ٹیموں کے ساتھ فیلڈ میں موجود ہوتے ہیں، پولیو ورکرز کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں، والدین سے براہِ راست گفتگو کرتے ہیں اور ہر قدم پر رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ یہی جذبہ ہے جس نے کوہاٹ، ہنگو، کرک، کرم اور اورکزئی کو صوبے کے اُن نمایاں اضلاع میں شامل کر دیا ہے جہاں کبھی پولیو ویکسین کی مخالفت ہوا کرتی تھی، اب تعاون کی مثالیں قائم ہو رہی ہیں۔ جہاں کبھی والدین اپنے بچوں کو ویکسین پلانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے، وہاں اب علما ء کرام اور آئمہ مساجد نے اپنی ذمہ داری کا حق ادا کیا ہے اور گاؤں گاؤں بھروسے کا ماحول پیدا کیا۔ عوام کو یہ احساس ہوا کہ یہ صرف حکومت کی مہم نہیں بلکہ ان کے اپنے بچوں کے مستقبل اور سلامتی کا مشن ہے۔انسداد پولیو مہم کو مزید مؤثر بنانے کیلئے گذشتہ روز ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) خیبر پختونخوا کے زیرِ اہتمام کوہاٹ پریس کلب میں ایک اہم میڈیا اورینٹیشن سیمینار کے علاوہ مختلف یونین کونسلز میں انفلوئنسر انگیجمنٹ اور اورینٹیشن سیشنز کا بھی انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر EOC کے ایڈووکیسی و کمیونیکیشن آفیسر میاں شہاب نے کہا کہ”پولیو کے خلاف جنگ صرف محکمہ صحت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک قومی فریضہ ہے اور میڈیا اس جدوجہد کا سب سے اہم پارٹنر اور مضبوط ہتھیار ہے”۔ ای پی آئی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محبت بنگش نے کہاکہ ”والدین کا اعتماد کامیابی کی بنیاد ہے۔ جب میڈیا حقیقت سامنے لاتی ہے تو معاشرے متحد رہتے ہیں اور والدین درست فیصلے کرتے ہیں۔پھر کوئی وائرس پھیل نہیں سکتا”۔ مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں سال 2025 کے دوران کوہاٹ ڈویژن کے تمام ماحولیاتی نمونے پولیو وائرس سے منفی آئے ہیں، یعنی کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ یہ کامیابی کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ اجتماعی شعور، تعاون اور عزم کی علامت ہے۔ جہاں کبھی مزاحمت تھی، اب وہاں والدین خود آگے بڑھ کر اپنے بچوں کو ویکسین پلوا رہے ہیں۔ پولیو سے انکار کرنے والوں کی شرح میں تیزی سے کمی آ رہی ہے، جو ایک حوصلہ افزا ء اشارہ ہے کہ پولیو کے خلاف یہ جنگ اپنی آخری کامیابی کے قریب پہنچ چکی ہے۔ پولیو فری پاکستان کا خواب محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے: کہ کوئی بچہ ویکسین سے محروم نہیں رہے گا،کوئی مستقل معذوری کے اندھیرے میں گم نہیں ہوگا، پاکستان کا سورج ہمیشہ صحت، اُجالے اور اُمید کے ساتھ طلوع ہوگا۔
تحریر: ارشاد محمد آفریدی، ڈپٹی ڈائریکٹر، ریجنل انفارمیشن آفس کوہاٹ
