محکمہ خوراک خیبرپختونخوا نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں گراں فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کر دیاہے۔ گزشتہ روز صوبہ بھر میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے 1136 خوراک سے وابستہ کاروباروں کی چیکنگ کی گئی، جس کے دوران قوانین کی خلاف ورزی پر 8 گراں فروشوں کو گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا گیا، جبکہ 27 کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے۔ اس کے علاوہ خلاف ورزی کے مرتکب دکانداروں پر مجموعی طور پر 3 لاکھ 47 ہزار روپے کے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ محکمہ خوراک کی جانب سے جاری تفصیلات کیمطابق ایک روزہ انسپکشن کے دوران 196 جنرل اسٹورز، 94 نانبائی، 182 قصاب، 127 مرغی فروش، 157 سبزی فروش، 124 پھل فروش، 77 دودھ فروش، 64 مٹھائی و بیکری، 41 ہوٹل، 28 کباب و تکہ فروش، 14 مچھلی فروش اور 32 پکوڑے فروشوں کے کاروباروں کی جانچ پڑتال کی گئی۔ اس دوران 67 کاروباری مراکز کو چالان بھی جاری کیے گئے۔وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے گران فروشی اور ناقص اشیاء خوردونوش کی فروخت پر سخت کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر قصائیوں اور دیگر ضروری اشیاء فروخت کرنے والے کاروباروں کی چیکنگ کی جائے اور قانون توڑنے والوں کو فوری طور پر جیل بھیجا جائے۔
پیراپلیجک سنٹر پشاور میں وہیل چیئر کے عالمی دن کی تقریب
بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف کی بحثیت مہمان خصوصی شرکت
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے افراد باہم معذوری کی جسمانی بحالی میں وہیل چیئرز کی اہمیت اور ملکی سطح پر ان کی تیاری کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے پیراپلیجک سنٹر کے زیرِاہتمام حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ میں قائم ملک کے واحد وہیل چیئر مینوفیکچرنگ یونٹ کو سراہا جہاں معذور افراد کی عمر، حالت اور جسامت کے مطابق کسٹمائزڈ وہیل چیئرز تیار کی جاتی ہیں اور کہا کہ یہ پیراپلیجک سنٹر کے علاؤہ صوبائی حکومت کیلئے بھی بڑا اعزاز ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت اس ضمن میں ادارے کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کرے گی۔ وہ پیراپلیجک سنٹر پشاور میں وہیل چیئر کے عالمی دن کے موقع پر تقریب سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ وہیل چیئر معذوری نہیں بلکہ خود مختاری کی پہچان ہے۔انہوں نے معذور افراد کے مسائل کے حل کے لیے حکومتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت پر یہ عوام کا حق ہے کہ وہ ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے بلخصوص ان شعبوں میں جہاں انسانیت ہماری مداخلت کی متقاضی ہے۔ انہوں نے کسٹمائزڈ وہیل چیئرز کی مقامی تیاری کو سراہتے ہوئے پیراپلیجک سنٹر کے سربراہ ڈاکٹر سید محمد الیاس کو خراج تحسین پیش کیا اور بتایا کہ ملک میں کسٹمائزڈ وہیل چیئرز کی تیاری کے علاؤہ اس قومی ادارے کے احیاء اور افراد باہم معذوری کی جامع جسمانی و نفسیاتی بحالی کیلئے مثالی خدمات پر اللہ تعالیٰ انہیں اجر عظیم دے گا۔ پیراپلیجک سنٹر پشاور کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر سید محمد الیاس نے ملکی سطح پر صحت و علاج کی کمزور صورتحال کا سبب بیان کرتے ہوئے کہا کہ شروع دن سے میڈیسن کے پانچ ستونوں میں سے صرف کیوریٹیو میڈیسن پر زیادہ توجہ دی گئی ہے حالانکہ باقی چار ستونوں بالخصوص ری ہیبیلیٹیشن میڈیسن پر بھی بھرپور توجہ دینے اور نظام صحت میں انٹیگریشن کی ضرورت ہے تاکہ قومی صحت کا معیار بلند ہو۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی معیار کے مطابق دنیا کی کم از کم ایک فیصد آبادی کو وہیل چیئرز کی ضرورت ہے چنانچہ پاکستان میں ساڑھے تئیس لاکھ اور خیبرپختونخوا میں ساڑھے تین لاکھ کسٹمائزڈ وہیل چیئرز مینوفیکچرنگ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پیراپلیجک سنٹر پشاور کے پیداواری یونٹ میں وہیل چیئرز کی تیاری کیلئے صوبائی اور وفاقی حکومت کی معاونت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے پیراپلیجک سنٹر کے دوروں اور حکومتی سرپرستی پر مشیر اطلاعات کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر بیرسٹر سیف نے وہیل چیئرز کی تیاری اور فروغ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں کو شیلڈ بھی دیں جبکہ پیراپلیجک سنٹر آمد پر سنٹر میں زیرعلاج سعودی نوجوان عبداللہ نے مہمانِ خصوصی کو گلدستہ پیش کیا۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ نے کہا ہے کہ
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں موجودہ حکومت نے نشے سے پاک پشاور فیز تھری مہم کا آغاز کر دیا ہے جس میں 2000 افراد کو مفت علاج فراہم کیا جارہا ہے اور منشیات کے تدارک کے لیے مہم کے دوران ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے خواجہ یونس سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن سنٹر کے اچانک دورے کے دوران کیا صوبائی وزیر نے سنٹر کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس میں موجود عملے اور نشے کے عادی افراد سے ملے اور حکومت کی جانب سے فراہم کردہ علاج کی سہولیات اور بحالی کے اقدامات کے بارے میں دریافت کیا اس موقع پر صوبائی وزیر نیاظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نشے سے پاک پشاور موجودہ حکومت کا مشن ہے اور ان اہداف کے حصول کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے کیونکہ یہ منصوبہ پشاور کے عوام اور رہاشیوں کے لیے اہمیت کا حامل ہے انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت ہر شعبے میں نمایاں اور شاندار کارکردگی کا عملی مظاہرہ کررہی ہے اور ہمارے قائد عمران خان کی ہدایت کے تحت عوام کوترقی اور خوشحالی سے ہمکنار کرنے کے لئے بھر پور اقدامات جاری ہیں انہوں نے کہا کہ ڈرگ فری پشاور مہم کے ذریعے معاشرے کے نظر انداز کیے گئے افراد کو دوبارہ قومی دھارے میں شامل کر نے کی عملی کوشش کی جارہی ہے۔
ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی ثریا کی زیر صدارت اپر چترال میں نرسنگ کالج کے قیام سے متعلق اجلاس
ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی ثریا کی زیر صدارت اپر چترال میں نرسنگ کالج کے قیام اور صحت کے دیگر مسائل کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری صحت شاہداللہ، ڈی جی ہیلتھ سروسز ڈاکٹر سلیم، ڈی جی پی ایچ ایس اے ڈاکٹر وحید، اسپیشل سیکرٹری صحت خیبر پختونخوا حبیب اللہ، چیف پلاننگ آفیسر جاوید، رجسٹرار خیبر میڈیکل یونیورسٹی، ایکسئین سی اینڈ ڈبلیو اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں اپر چترال میں نرسنگ کالج کے قیام کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں کالج کے لیے مناسب جگہ، درکار فنڈنگ، انفراسٹرکچر اور عملے کی تعیناتی جیسے امور زیر بحث آئے۔ ڈپٹی اسپیکر نے اس منصوبے کو علاقے کے عوام کے لیے ایک انقلابی اقدام قرار دیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس پر فوری پیش رفت یقینی بنائی جائے۔سیکرٹری صحت شاہداللہ نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نرسنگ کالج کے قیام سے علاقے میں معیاری نرسنگ تعلیم کو فروغ ملے گا اور مقامی سطح پر تربیت یافتہ طبی عملے کی دستیابی میں بہتری آئے گی۔ ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر سلیم نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف اپر چترال بلکہ ملحقہ علاقوں کے لیے بھی ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔اسپیشل سیکرٹری صحت حبیب اللہ نے اجلاس میں یقین دہانی کرائی کہ اس منصوبے کو جلد از جلد عملی جامہ پہنایا جائے گا اور تمام تکنیکی و مالی پہلوؤں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔ چیف پلاننگ آفیسر جاوید نے کہا کہ نرسنگ کالج کے قیام کے لیے پی سی ون جلد تیار کیا جائے گا اور درکار فنڈز کی بروقت دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔ڈپٹی اسپیکر ثریا نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ نرسنگ کالج کے قیام کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں تیز رفتاری سے مکمل کریں تاکہ علاقے کے نوجوانوں کو جلد از جلد معیاری طبی تعلیم فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے اس منصوبے کو صحت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے اپر چترال میں صحت کی سہولیات میں نمایاں بہتری آئے گی۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ اور آئی جی پی ذوالفقار حمید کے ہمراہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال بنوں کا دورہ کیا جہاں انہوں نے گزشتہ روز دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی انہوں نے مریضوں کے مسائل سنے اور انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور ان میں تحائف بھی تقسیم کئے اس موقع پر کمشنر بنوں ڈویژن، ریجنل پولیس آفیسر بنوں، ڈپٹی کمشنر بنوں، ضلعی پولیس آفیسر بنوں اور ہسپتال انتظامیہ بھی موجود تھی صوبائی وزیر پختون یار خان نے میڈیا کے نمائندوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت بنوں عوام کے غم و دکھ میں برابر کی شریک ہے دھماکے سے ہونے والے نقصانات کا ڈیٹا اکھٹا کیا جا رہا ہے شہداء اور زحمیوں میں امدادی پیکج تقسیم جبکہ نقصان زدہ گھروں کا فوری ازالہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بنوں کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے حکومت اور عوام مل کر کام کریں گے تب بنوں میں امن آئے گا معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے مسلمان نہیں ہیں۔ اسلام امن کا درس دیتا ہے صوبائی حکومت بنوں عوام کو اس مشکل گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑے گی۔
ضلع مردان کے ایم پی ایز کا مشیر صحت کی سربراہی میں اجلاس، صحت کے مسائل اور ترقیاتی منصوبوں پر غور
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر صحت کی سربراہی میں مردان کے ایم پی ایز کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع مردان میں صحت کے مسائل اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو، مشیر برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم، ایم پی اے افتخار مشوانی، ایم پی اے عبدالسلام آفریدی، ایم پی اے زرشاد، سپیشل سیکرٹری ہیلتھ حبیب اللہ، ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ منظور آفریدی، ڈی ایچ او مردان ڈاکٹر شعیب، ایم ایس ڈی ایچ کیو ڈاکٹر جاوید سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں مردان کے ضلعی سطح کے صحت کے مسائل، ترقیاتی منصوبوں، اور آئندہ مالی سال کے لیے مقامی سکیموں کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ ضلعی مسائل کے حل کے لیے جامع گفتگو اور لائحہ عمل ناگزیر ہے۔ ایم پی اے افتخار مشوانی نے تجویز دی کہ مردان کے صحت سے متعلق مسائل پر ماہانہ بنیادوں پر اجلاس منعقد کیا جائے اور پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ڈی ایچ کیو مردان کے ترقیاتی امور بارے اجلاس کو روشناس کرتے ہوئے ایم ایس ڈی ایچ کیو ڈاکٹر جاوید نے بتایا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال مردان 1000 بستروں پر مشتمل ہسپتال ہے، جس میں ترقیاتی کام جاری ہے۔ سکائی برج اور ایڈمنسٹریشن بلاک کی تکمیل جلد متوقع ہے، تاہم ریونیو کمپوننٹ میں کچھ تکنیکی مسائل درپیش ہیں۔ اس پر سی پی او نے ہدایت کی کہ ڈی ایچ کیو کے لیے نیا پی سی ون تیار کیا جائے، کرنٹ سائیڈ سے گرانٹ یا سپلیمنٹری گرانٹ دی جائے۔مشیر صحت نے ہدایت کی کہ ہسپتال کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے، لہٰذا جلد از جلد اسے فنکشنل بنایا جائے۔ مزید برآں، سی پی او کو ہسپتال کا دورہ کرکے گراؤنڈ صورتحال سے آگاہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ ریلیز میں ڈی ایچ کیو مردان کے لیے 10 ملین روپے جاری کیے جائیں گے۔طبی سہولیات اور عملے کی کمی اجلاس میں ڈاکٹر جاوید نے ہسپتال میں لیپروسکوپک مشین کی فوری فراہمی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ٹیچنگ سٹیٹس برقرار رکھا جا سکے۔ اس کے علاوہ، ڈسٹرکٹ سپیشلسٹ کی پانچ پوسٹیں ایم ایم سی سے واپس ڈی ایچ کیو مردان منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ایم ایس تخت بھائی نے طبی آلات کی مرمت اور خریداری، سپیشلسٹ کی خالی پوسٹوں کی بھرتی، اور ہسپتال میں نکاسی آب کے مسائل حل کرنے پر زور دیا۔ضلعی صحت کے دیگر مسائل بارے ڈی ایچ او ڈاکٹر شعیب نے ضلع بھر میں ڈاکٹرز کی ریشنلائزیشن کی ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر خواتین ڈاکٹرز کی شدید کمی کو فوری پورا کرنے کی سفارش کی۔ انہوں نے کہا کہ کٹیگری ڈی ہسپتالوں میں سپیشلائزڈ پوسٹیں اور ضروری طبی آلات موجود نہیں، لہٰذا ہر ہسپتال کی ضروریات کے مطابق سپیشلسٹ تعینات کیے جائیں۔مشیر برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے کہا کہ ان کے حلقے کے چار دیہات میں ٹی بی، ہیپاٹائٹس، اور آنکھوں کی بیماریوں کے سدباب کے لیے فوری طور پر میڈیکل کیمپس قائم کیے جائیں اور رستم ہسپتال میں صحت کارڈ کو فعال کیا جائے۔ انہوں نے متعلقہ ہسپتال کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کی بھی درخواست کی۔ سپیشل سیکرٹری ہیلتھ حبیب اللہ نے اجلاس میں یقین دہانی کرائی کہ مالی امور کو جلد حل کیا جائے گا اور متعلقہ مسائل محکمہ خزانہ کے ساتھ فوری طور پر ٹیک اپ کیے جائیں گے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ چھ نئے آر ایچ سیز کی عمارتیں محکمہ صحت کے حوالے ہوچکی ہیں، جن کے ریونیو کمپوننٹ کو جلد از جلد مکمل کیا جائے گا تاکہ یہ مراکز فعال ہوسکیں۔مشیر صحت نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی ضلع میں میرٹ کی بنیاد پر تعیناتیوں کو یقینی بنائیں اور گوڈ گورننس کو محور بناتے ہوئے عوامی خدمات کی فراہمی کو فی الفور یقینی بنائیں۔
خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائی، 25 ہزار کلو ناقص اچار برآمد
خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے انڈسٹریل زون حیات آباد میں اچار بنانے والے یونٹ پر اچانک چھاپہ مار کر تقریباً 25 ہزار کلوگرام ناقص، غیر معیاری اور مضر صحت اچار برآمد کر لیا۔ ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایاکہ فوڈ سیفٹی ٹیم نے ڈائریکٹر آپریشنز اختر نواز کی نگرانی میں ضلع انتظامیہ کے ہمراہ گزشتہ روز اچار بنانے والی یونٹ پر چھاپہ مارا اور انسپکشن کے دوران برآمد شدہ ناقص اچار موقع پر ضبط کرکے تلف کر دیا گیا جبکہ غیر معیاری پیداوار اور صفائی کی ابتر صورتحال کے باعث فیکٹری کو سیل کر دیا گیا ہے۔ یونٹ کے خلاف فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت مزید کارروائی کا آغاز بھی کردیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے کامیاب کارروائی پر فوڈ سیفٹی ٹیم کو سراہتے ہوئے کہاکہ شہریوں کی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور کسی کو انسانی جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔دوسری جانب وزیر خوراک خیبر پختونخوا ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ ملاوٹ مافیا جیسے انسان دشمن عناصر کا مکمل صفایا کیا جائے گا تاکہ صوبے کے عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ملاوٹ اور غیر معیاری خوراک کے خلاف کریک ڈاؤن مزید سخت کیا جائے تاکہ کسی کو انسانی صحت کے ساتھ کھلواڑ کا موقع نہ ملے۔
برطانوی ہائی کمشنر جین ماریئٹ کی چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا سے ملاقات
برطانوی ہائی کمشنر محترمہ جین ماریئٹ نے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ سے پشاور میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
محکمہ خوراک خیبرپختونخوا کی صوبہ بھر میں کارروائیاں،881 مختلف خوردنی اشیاء کے کاروباروں کی چیکنگ، گرانفروشی پر 4 افراد جیل بھیج دیئیگئے جبکہ 19 افراد کے خلاف مقدمات درج
وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کی ہدایت پر محکمہ خوراک خیبرپختونخوا کی انسپکشن ٹیموں نے صوبہ بھر میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے ایک ہی دن میں 881 مختلف خوردنی اشیاء سے منسلک کاروباروں کی چیکنگ کی،گرانفروشی اور غیر معیاری اشیاء فروخت کرنے پر 45 افراد کو چالان کیا گیا، جبکہ 4 افراد کو موقع پر ہی گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ محکمہ خوراک نے مختلف کاروائیوں کے حوالے سے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ قوانین کی خلاف ورزی پر 19 افراد کے خلاف مقدمات درج کرکے متعلقہ دکانداروں کیخلاف قانونی کارروائی کا آغاز بھی کردیا ہے۔اور چیکنگ کے دوران 160 جنرل اسٹورز، 78 نانبائیوں اور 144 قصابوں، 107 کباب و تکہ فروش، 58 دودھ فروش اور 85 پھل فروش کی انسپکشنز کی گئیں علاوہ ازیں، 50 فروٹ فروش، 15 مٹھائی و بیکری مالکان، 24 پکوڑہ فروش اور 22 ہوٹلوں کو بھی چیک کیا گیا۔محکمہ خوراک کے مطابق غیر معیاری خوراک کی فروخت اور سرکاری نرخ نامے سے تجاوز کرنے پر تقریباً 2 لاکھ 24 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ اس موقع پر وزیر خوراک خیبرپختونخوا ظاہر شاہ طورو نے متعلقہ حکام کو ہدایت دکی کہ صوبہ بھر میں گرانفروشوں اور غیر معیاری خوراک فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کیاجائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو معیاری خوراک اور سرکاری نرخوں پر اشیاء کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور خلاف ورزی کرنے والے کاروباریوں کیخلاف سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے.
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ریونیو اینڈ سٹیٹ نزیر احمد عباسی کی زیرصدارت ہری پور میں
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ریونیو اینڈ سٹیٹ نزیر احمد عباسی کی زیرصدارت ہری پور میں دیرینہ مخنیال مسئلے کو حل کرنے، کینتھلہ اور کوٹ جیندہ کے مواضعات میں زمین کے حصول کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس پشاور میں منعقدہوا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبرپختونخوا پیر مصور خان، ایس ایم بی آر خیبر پختونخوا، سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی اور محکمہ جنگلات ماحولیات و جنگلی حیات خیبر پختونخوا، کمشنر ہری پور، ڈپٹی کمشنر ہری پور اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ ریونیو اور فارسٹ ریکارڈز کے حوالے سے زمینی مسائل کو حل کرنے، ریزرو جنگلات، گزارہ جنگلات اور نجی املاک کی واضح حد بندی کو یقینی بنانے پر غور کیا گیا۔ اجلاس کا مقصد تمام متعلقہ محکموں کے لئیقابل عمل ریکارڈ قائم کرنا تھا۔اجلاس کے شرکاء نے علاقے میں پائیدار ترقی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کو روکنے کے لیے ایک ریگولیٹری میکانزم کی تشکیل پر تبادلہ خیال کیا۔ مزید برآں، اجلاس میں کینتھلا اور کوٹ جیندہ میں زمین کے حصول کی ضرورت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر ہری پورنے دونوں معاملات پر ایک جامع رپورٹ پیش کی۔صوبائی وزیر برائے ریونیو اینڈ سٹیٹ نذیر احمد عباسی نے تمام ترقیاتی اقدامات میں ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت کی انہوں نے قدرتی ماحول کی حفاظت کرنے والے متوازن نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ حکومت ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھتے ہوئے ان اہم مسائل سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے اور اس بات کو یقینی بنارہی ہے کہ شہری توسیع ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔ اجلاس میں مسائل کاطویل مدتی حل تلاش کرنے کا اعادہ کیا گیا تاکہ جنگلات کے ذخائر کی حفاظت ہو سکے۔
