Home Blog Page 14

The Khyber Pakhtunkhwa Minister fo Public Health Engineering Department (PHED) Fazal Shakoor Khan on Thursday chaired a high-level meeting on policy, administrative matters and reforms in the PHED.

Secretary PHED Masood Younas, Additional Secretary, Chief Engineers, Superintending Engineers participated in the meeting, while the Executive Engineers joined through video link.

The meeting took important decisions to ensure strict compliance with the departmental mandate, effective monitoring of development schemes, and transparency in financial and administrative matters. Various proposals aimed at improving departmental performance and service delivery were also discussed.

The meeting was informed that no tendering process would be initiated before obtaining Administrative Approval. The procurement process would be carried out transparently in accordance with the rules and regulations of the Khyber Pakhtunkhwa Public Procurement Regulatory Authority (KPPRA).

The meeting emphasized that tubewells should be utilized exclusively for drinking water purposes. It was also stressed that the installation of flow meters, groundwater recharge measures and rainwater harvesting should be incorporated into departmental schemes.

It was further decided that no borehole or tubewell would be drilled in any area without prior completion of a hydrogeological and water quality feasibility study. Such assessment would be conducted through a certified or accredited agency, and drilling would not be permitted without completion of the required technical assessment.

The Provincial Minister directed that no work falling outside the departmental mandate should be included in PHED schemes. He urged strict adherence to the prescribed scope and departmental responsibilities.

The Provincial Minister also directed officers to ensure their regular presence in the field, effective monitoring of development schemes and timely identification of non-functional schemes. Decisions regarding the rehabilitation, upgradation or decommissioning of inactive schemes would be taken only after a proper technical assessment.

He said that the resources of the PHED would be utilized solely for providing clean drinking water and improved sanitation facilities to the people. He made it clear that there would be no compromise on violations of rules, transparency or the inclusion of works unrelated to the departmental mandate.

محکمہ ایکسائز کا پشاور میں منشیات کے خلاف تازہ کارروائیاں، چرس و ہیروئن برآمد، چار ملزمان گرفتار

محکمہ ایکسائز وٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا نے پشاور شہر میں منشیات کے خلاف تازہ کارروائیوں میں بھاری مقدار میں منشیات برامد کرکے ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔ صوبائی حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور وزیر ایکسائز سید فخرجہان کی ہدایات کے تحت صوبہ بھر میں جاری کارروائیوں کے تحت ایکسائز انٹیلیجنس اور تھانہ ایکسائز پشاور کی جانب سے منشیات سپلائرز کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 5800 گرام منشیات برآمد کرکے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔محکمہ ایکسائز سے موصولہ تفصیلات کے مطابق ایکسائز انٹیلیجنس سکواڈ B-I نے جوائنٹ چیک پوسٹ پر کارروائی کرتے ہوئے گاڑی نمبر CAG-868 کی تلاشی کے دوران 1200 گرام چرس برآمد کی۔ کارروائی کے دوران ملزم دانش سفطین ملک ولد محمد سفطین ملک کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا جس کے خلاف مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے تھانہ ایکسائز پشاور میں مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔ایک اور کارروائی کے دوران ایکسائز انٹیلیجنس سکواڈ B-I نے ایچ گول چوک کے مقام پر کارروائی کرتے ہوئے 1000 گرام ہیروئن اور 1200 گرام چرس برآمد کی۔ کارروائی کے دوران دو ملزمان جلات خان ولد شہزادہ اور فضل ہادی ولد سلام بر خان کو گرفتار کر لیا گیا۔ ملزمان کے خلاف تھانہ ایکسائز پشاور میں مقدمہ درج کر کے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔اسی طرح تھانہ ایکسائز پشاور نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ایچ گول چوک کے مقام پر اسکول بیگ کی آڑ میں منشیات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔ دوران تلاشی 2400 گرام چرس برآمد کرکے ملزم کمین خان ولد آدم خان کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم کے خلاف تھانہ ایکسائز پشاور میں مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔

کوہاٹ میڈیا کالونی پر کام تیز کیا جائے، وزیر اطلاعات شفیع جان کی فوری اجلاس بلانے کی ہدایت

خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات، سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے کوہاٹ میڈیا کالونی کے منصوبے کو حتمی شکل دینے کیلئے متعلقہ حکام کا فوری اجلاس طلب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ منصوبے پر مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ ہدایات انہوں نے کوہاٹ پریس کلب کے صدر نور محمد بنگش کی قیادت میں صحافتی وفد سے ملاقات کے دوران دیں۔ ملاقات میں کوہاٹ کی صحافتی برادری کو درپیش مسائل، میڈیا کالونی کے منصوبے، سالانہ گرانٹ اور دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ریجنل آفیسر انفارمیشن ارشاد آفریدی بھی موجود تھے۔وفد نے صوبائی وزیر کو میڈیا کالونی منصوبے کی موجودہ پیشرفت اور صحافیوں کے دیگر مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے ان کے حل کیلئے مؤثر حکومتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ شفیع جان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ میڈیا کالونی کے معاملے پر فوری اجلاس منعقد کرکے تمام ضروری امور کا جائزہ لیا جائے اور منصوبے کو عملی شکل دینے کیلئے پیشرفت تیز کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں سے متعلق منصوبے کو غیر ضروری طور پر زیرالتوا رکھنا مناسب نہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ میڈیا ریاست کا اہم ستون ہے اور صحافی عوامی مسائل اجاگر کرنے، حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے اور عوامی مفاد کے معاملات سامنے لانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ کوہاٹ کے صحافیوں کو درپیش جائز مسائل، خصوصاً میڈیا کالونی اور سالانہ گرانٹ سے متعلق امور کے حل کیلئے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔ وفد نے صحافتی برادری کے مسائل کے حل کیلئے صوبائی وزیر کے تعاون کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ میڈیا کالونی منصوبے کو جلد عملی شکل دینے کیلئے حکومتی سطح پر مؤثر پیشرفت سامنے آئے گی۔

وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کا پاکستان تحریک انصاف پشاور کے دیرینہ کارکن ماجد خان کی وفات پر اظہار تعزیت

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات و سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے پاکستان تحریک انصاف پشاور کے دیرینہ کارکن ماجد خان کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اپنے تعزیتی بیان میں وزیر اطلاعات نے مرحوم کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غم کی اس گھڑی میں وہ سوگوار خاندان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔شفیع جان نے کہا کہ ماجد خان پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کا ایک مخلص اور وفادار کارکن تھے جنکی پارٹی کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انھوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ ناقابل تلافی صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے

وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت صحت کے شعبے میں الائیڈ ہیلتھ سروسز کو مزید مضبوط بنانے، نوجوان ہیلتھ پروفیشنلز کے لیے پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع پیدا کرنے اور عوام کو معیاری صحت کی سہولیات ان کی دہلیز کے قریب فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے

وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت صحت کے شعبے میں الائیڈ ہیلتھ سروسز کو مزید مضبوط بنانے، نوجوان ہیلتھ پروفیشنلز کے لیے پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع پیدا کرنے اور عوام کو معیاری صحت کی سہولیات ان کی دہلیز کے قریب فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔وہ آل پاکستان فزیوتھراپی ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ خیبر پختونخوا نوجوانوں کی بڑی تعداد کے حوالے سے خوش قسمت صوبہ ہے، اور فزیوتھراپی ایک ایسا شعبہ ہے جس میں مستقبل میں ماہر اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت مزید بڑھنے والی ہے۔خلیق الرحمن نے کہا کہ فزیوتھراپی اور بحالیِ صحت کی خدمات کو مؤثر انداز میں فروغ دے کر غیر ضروری ادویات کے استعمال کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس شعبے کو ماضی میں وہ توجہ نہیں مل سکی جس کا یہ مستحق تھا۔ موجودہ حکومت فزیوتھراپسٹس کے مسائل اور تحفظات کو دور کرنے اور انہیں سرکاری نظامِ صحت میں مزید مؤثر کردار دینے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ فزیکل تھراپی کے گریجویٹس کے لیے ہاؤس جاب کی منظوری ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے نوجوان فزیوتھراپسٹس کو عملی تربیت اور پیشہ ورانہ تجربہ حاصل کرنے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔ اسی طرح فزیوتھراپسٹس کے لیے سروس اسٹرکچر کی منظوری ان کے دیرینہ پیشہ ورانہ مسائل کے حل کی جانب اہم قدم ہے۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ محکمہ صحت فزیوتھراپسٹس سے متعلق تمام جائز مسائل اور تحفظات کے حل کے لیے کام کر رہا ہے اور یقین دلاتا ہوں کہ ان کے جائز
مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوٹہ نشستوں اور بامعاوضہ انٹرن شپ کے مواقع میں اضافے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ نوجوان فزیوتھراپسٹس کو عملی میدان میں آگے بڑھنے کے مزید مواقع حاصل ہوں۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا محکمہ صحت بنیادی اور ثانوی صحت کے نظام میں نئی آسامیوں کی تخلیق پر بھی کام کر رہا ہے تاکہ BHU اور THQ ہسپتالوں میں مطلوبہ افرادی قوت کو یقینی بنایا جا سکے۔ مریضوں کی تعداد اور مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منتخب BHU، THQ اور DHQ ہسپتالوں میں باقاعدہ فزیوتھراپی سروسز کے قیام کے لیے بھی منصوبہ بندی کی جائے گی۔خلیق الرحمن نے کہا کہ جن مراکزِ صحت میں اس وقت بحالیِ صحت کی سہولیات دستیاب نہیں، وہاں مرحلہ وار فزیوتھراپی کی آسامیوں اور خدمات میں اضافہ کیا جائے گا۔ فزیوتھراپسٹس کو بحالیِ صحت، معذوری سے متعلق خدمات، حادثات کے بعد بحالی اور دائمی بیماریوں کے علاج و بحالی سمیت مختلف شعبوں میں صحت کے سرکاری نظام کا مزید مؤثر حصہ بنایا جائے گا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ جدید فزیوتھراپی اور بحالیِ صحت کے طریقہ کار کو فروغ دینے کے لیے تربیتی اور استعدادِ کار بڑھانے کے پروگراموں پر بھی کام کیا جائے گا۔ حکومت کا مقصد یہ ہے کہ شہریوں کو بنیادی فزیوتھراپی اور بحالیِ صحت کی سہولیات کے حصول کے لیے بڑے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے بلکہ یہ خدمات ان کے قریب دستیاب ہوں۔انہوں نے کہا کہ “ہماری اصلاحات صرف کاغذی منظوریوں تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ ہمارا اگلا مرحلہ ان فیصلوں پر عملی عملدرآمد، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور بنیادی سطح تک صحت کی سہولیات کو وسعت دینا ہے۔”صوبائی وزیر صحت نے فزیوتھراپسٹس پر زور دیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ایمانداری، محنت اور لگن کے ساتھ ادا کریں اور اپنی صلاحیتوں اور خدمات کو پاکستان اور خیبر پختونخوا کے بہتر مستقبل کے لیے بروئے کار لائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی ترجیح تعداد کے بجائے معیار ہے اور صحت کے شعبے میں ایسے اقدامات کیے جائیں گے جو عوام کو بہتر، مؤثر اور معیاری خدمات کی فراہمی یقینی بنائیں۔تقریب کے اختتام پر منتظمین کی جانب سے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن کو شیلڈ پیش کی گئی، جبکہ صوبائی وزیر نے تقریب کے انعقاد میں کردار ادا کرنے والی آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین کو بھی شیلڈز پیش کیں۔

منی مائیکروہائیڈل سٹیشنز کی عدم تکمیل وسست روی کے معاملے پر انکوائری کے احکامات

خیبرپختونخواکے وزیر توانائی وبرقیات نذیراحمدعباسی نے صوبے میں بجلی کی نعمت سے محروم اضلاع میں صوبائی حکومت کے جاری بعض منی مائیکروہائیڈل سٹیشنز(پن بجلی کے چھوٹے منصوبوں)کی عدم تکمیل اورکام کی سست روی پر سخت برہمی کااظہارکرتے ہوئے سیکرٹری توانائی وبرقیات سمیت چیف ایگزیکٹو پیڈوسے معاملے کی انکوائری کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں اور ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔پی ٹی آئی حکومت کے فلیگ شپ منصوبوں کے حوالے سے موصولہ عوامی شکایات پر صوبائی وزیر توانائی نے سخت نوٹس لیتے خبردارکیا ہے کہ اب آئیں،بائیں،شائیں نہیں چلے گا،ہنی مون کا وقت اب ختم ہوچکا ہے جس اہلکارنے کام نہیں کیا یا کوئی بھی غفلت وبدعنوانی میں ملوث پایا گیا توفارغ کیا جائے گااورقانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔خیبرپختونخواکے ضم اضلاع میں 13شمسی توانائی کے منی گرڈ سٹیشن تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہوچکے ہیں جن کا افتتاح آئندہ ماہ کیا جائے گا۔جس سے عوام کو گھریلواورکمرشل بنیادوں پر سستی ترین ماحول دوست بجلی فراہم کی جائیگی۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے محکمہ توانائی وبرقیات میں توانائی کے جاری منصوبوں کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمد سمیت چیف ایگزیکٹو پیڈو اورمحکمے کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں منی مائیکروہائیڈل سٹیشنزکے فیزون میں مکمل ہونے والے 16منصوبوں اور2022میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ75منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سیلاب سے تباہ ہوئے والے 58منصوبوں کو بحالی پروگرام کے تحت مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ 17منصوبوں پر کام جاری ہے جورواں سال مکمل کرلئے جائیں گے۔ ان منصوبوں کوکمیونٹی بیسڈ پروگرام کے تحت مکمل کیا جارہا ہے جن پر 6ارب روپے لاگت آئے گی اوران سے مجموعی طورپر 29میگاواٹ بجلی پیداکی جائیگی۔اسی طرح دوسرے مرحلے میں 71منی مائیکرومنصوبوں پرکام جاری ہے۔ صوبائی وزیرتوانائی نذیراحمد عباسی نے منصوبوں پر کام کی سست روی اورعوامی شکایات پر متعلقہ پراجیکٹ ڈائریکٹر سے استفسارکیا کہ کس کی غفلت سے سیلاب کے دوران منصوبوں کے غلط ڈیزائن کے باعث تقریباًڈیڑھ ارب کا نقصان اٹھاناپڑاہے۔انہوں نے محکمے کو ہدایت کی کہ عوامی فلاحی منصوبوں کے تحت ہزارہ اورملاکنڈ ڈویژن میں سروے کیا جائے تاکہ نئی سائیٹس کی نشاندہی پر عوام دوست منصوبے شروع کئے جائیں۔

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں، جعلی مصالحہ جات، ملاوٹ شدہ دودھ اور غیر معیاری گوشت تلف

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرارخان کی ہدایات پر فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے صوبہ بھر میں غیر معیاری اشیاء خوردونوش کیخلاف کاروائیاں جاری رکھتے ہوئے فوڈ سیفٹی ٹیموں نے پشاور اور مانسہرہ میں چھاپے مارے اور جعلی و غیر معیاری خوراک کی تیاری، پیکنگ اور ترسیل کی کوشش ناکام بنادی۔ کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں غیر معیاری اشیاء تحویل میں لے کر تلف کردی گئیں جبکہ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی۔ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز پشاور میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے جعلی برانڈڈ مصالحہ جات اور کسٹرڈ کی پیکنگ کرنے والی یونٹ پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران تقریباً 2 ہزار کلوگرام مختلف اشیاء، مصالحہ جات، اسٹارچ، پیکنگ میٹریل، رولز اور دیگر سامان تحویل میں لیا گیا۔ جعلی اور غیر معیاری اشیاء کی پیکنگ میں ملوث یونٹ کے خلاف مزید قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ترجمان کے مطابق مانسہرہ میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے علی الصبح ضلع کے داخلی راستوں پر ناکہ بندی کرکے خوراک لے جانے والی گاڑیوں کی چیکنگ کی۔ جدید موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے ذریعے موقع پر دودھ اور دیگر خوراکی اشیاء کے نمونوں کی جانچ بھی کی گئی۔کارروائی کے دوران 150 لیٹر ملاوٹ شدہ دودھ کی نشاندہی ہوئی جسے موقع پر ہی تلف کردیا گیا، جبکہ پنجاب سے مانسہرہ لایا جانے والا 415 کلوگرام غیر معیاری گوشت بھی پکڑ کر تلف کردیا گیا۔ مذکورہ گوشت ضلع مانسہرہ کے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جانا تھا۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر مالکان کیخلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہے جبکہ بھاری جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں۔معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ خوراک میں ملاوٹ، جعلی برانڈز کی تیاری اور غیر معیاری اشیاء کی فروخت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ فوڈ سیفٹی ٹیمیں صوبہ بھر میں باقاعدگی سے کارروائیاں جاری رکھیں اور عوام کی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ جدید موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے ذریعے موقع پر خوراک کی جانچ ایک مؤثر اقدام ہے جس سے ملاوٹ اور غیر معیاری خوراک کی بروقت نشاندہی ممکن ہو رہی ہے۔ڈاکٹر محمد اسرار خان نے عوام سے بھی اپیل کی کہ غیر معیاری یا مشکوک خوراک کی فروخت کے حوالے سے متعلقہ حکام کو فوری اطلاع دیں تاکہ صحت عامہ کے تحفظ کے لیے بروقت کارروائی یقینی بنائی جاسکے۔

خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی میں آئل ملز مالکان کیلئے خوردنی تیل کی فورٹیفکیشن سے متعلق ایک روزہ تربیتی سیشن کا انعقاد

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کے کمیٹی روم پشاور میں خوردنی تیل ملز مالکان کیلئے وٹامن اے اور ڈی کے ساتھ خوردنی تیل کی لازمی فورٹیفکیشن اور اسکی اہمیت کے حوالے سے ایک روزہ تربیتی سیشن کا انعقاد پشاور میں کیا گیا۔تربیتی سیشن کا اہتمام نیوٹریشن انٹرنیشنل (Nutrition International) کے تعاون سے کیا گیا، جس میں خوردنی تیل کے معیار، کوالٹی اشورنس، کوالٹی کنٹرول، فوڈ سیفٹی پروٹوکولز اور خوردنی تیل کی وٹامن اے اور ڈی کے ساتھ لازمی فورٹیفکیشن سے متعلق امور پر تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی۔تقریب کی صدارت ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی نے کی، جبکہ ڈائریکٹر آپریشنز حلال فوڈ اتھارٹی محمد یوسف خان، نیوٹریشن انٹرنیشنل کے پروانشل مینیجر امتیاز علی شاہ، ڈاکٹر یاسر درانی سمیت خوردنی تیل و گھی ملز کے نمائندگان اور متعلقہ شعبوں سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی۔ امتیاز علی شاہ نے خیبر پختونخوا میں غذائی قلت (Malnutrition) کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے صوبے میں غذائی قلت اور مائیکرونیوٹرینٹ کی کمی کے خاتمے کے لیے نیوٹریشن انٹرنیشنل کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات اور مختلف پروگرامز پر بھی روشنی ڈالی۔اس موقع پر یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور کے ایسوسی ایٹ پروفیسر یاسر درانی نے خوردنی تیل کی لازمی فورٹیفکیشن کی اہمیت، اس کے غذائی فوائد اور عوامی صحت پر اس کے مثبت اثرات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے بتایا کہ خوردنی تیل میں ضروری وٹامنز کی مناسب مقدار شامل کرنا غذائی کمی، خصوصاً وٹامن اے اور ڈی کی کمی کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس عمل میں معیار، درست تناسب، مؤثر کوالٹی کنٹرول اور فوڈ سیفٹی کے اصولوں پر عملدرآمد کی اہمیت بھی اجاگر کی۔تربیتی نشست کے دوران خوردنی تیل و گھی ملز کے نمائندگان کو کوالٹی اشورنس، کوالٹی کنٹرول اور فوڈ سیفٹی پروٹوکولز کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا تاکہ مارکیٹ میں محفوظ، معیاری اور غذائیت سے بھرپور خوردنی تیل کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔اس موقع پر شرکاء کی جانب سے مختلف تجاویز اور سفارشات بھی پیش کی گئیں۔ شرکاء نے فورٹیفکیشن کے عمل کو مؤثر بنانے، صنعت اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ مزید مضبوط کرنے اور عملی سطح پر درپیش مسائل کے حل کے لیے مختلف تجاویز دیں۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عوام کو محفوظ، معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی حکومت، متعلقہ اداروں، صنعت اور دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصاً خوردنی تیل چونکہ روزمرہ خوراک کا اہم حصہ ہے، اس لیے اس کے معیار، حفاظت اور غذائیت کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور صحت مند خوراک کی فراہمی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو فوڈ اتھارٹی کے ساتھ مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ صنعت اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے نہ صرف فوڈ سیفٹی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ عوام کو غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے شرکاء کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عملی مشکلات اور صنعت کی تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے مربوط حکمت عملی کے ذریعے فورٹیفکیشن کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ فوڈ اتھارٹی کا مقصد صرف نگرانی اور کارروائی تک محدود نہیں بلکہ صنعت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو آگاہی، تربیت اور تکنیکی معاونت فراہم کرتے ہوئے محفوظ اور معیاری خوراک کے نظام کو مزید مستحکم کرنا بھی ہے۔

اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی زیرِ صدارت منرل ڈویلپمنٹ کمپنی کے قیام سے متعلق اہم اجلاس

سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی زیرِ صدارت خیبر پختونخوا منرل ڈویلپمنٹ کمپنی کے قیام سے متعلق ایک اہم اجلاس صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس میں معاملے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں وزیرِ قانون، پارلیمانی امور آفتاب عالم، وزیرِ معدنیات و معدنی ترقی عارف احمدزئی، سیکرٹری منرلز اینڈ منرل ڈویلپمنٹ ڈاکٹر اسرار، ڈائریکٹر جنرل اور محکمہ کے دیگر اعلیٰ حکام کے علاوہ متعلقہ کمپنی کے اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل عتمانزئی اور سابق ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شمائل بٹ بھی موجود تھے۔اجلاس میں اراکینِ صوبائی اسمبلی عدنان خان، ثوبیہ شاہد، شیلہ بانو اور فائزہ ملک نے شرکت کی، جبکہ اراکینِ اسمبلی احمد کنڈی، ارباب عثمان اور نثار باز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کا مقصد خیبر پختونخوا منرل ڈویلپمنٹ کمپنی سے متعلق مجوزہ فیصلے کا پارلیمانی سطح پر تفصیلی جائزہ لینا اور اس کے صوبے کے مفاد پر ممکنہ اثرات کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لینا تھا۔ اس موقع پر محکمہ معدنیات اور متعلقہ حکام کی جانب سے معاملے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔اسپیکر بابر سلیم سواتی نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ صوبے کے معدنی وسائل سے متعلق کسی بھی اہم فیصلے کو تمام متعلقہ پہلوؤں، قانونی تقاضوں، صوبائی مفاد اور اراکینِ پارلیمان کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھایا جائے۔اجلاس میں طویل بحث و تمحیص کے بعد اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ معاملے کو پارلیمانی فورم پر اراکین کی متفقہ رائے اور مکمل اطمینان کے بعد حتمی منظوری کے مرحلے تک لے جایا جائے۔ اجلاس کے دوران بعض اراکین کی جانب سے تحفظات بھی سامنے آئے، جنہیں مزید غور کے لیے اہمیت دی گئی۔اسپیکر بابر سلیم سواتی نے فیصلہ کیا کہ معاملے کے تمام پہلوؤں پر مزید تفصیلی غور کے لیے اگلے ہفتے دوبارہ اجلاس منعقد کیا جائے گا، تاکہ اراکین کے تمام تحفظات اور آراء کا جائزہ لینے کے بعد پارلیمانی فورم کی سطح پر مکمل اطمینان کے ساتھ حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔اسپیکر نے واضح کیا کہ صوبے کے معدنی وسائل سے متعلق ہر فیصلہ وسیع تر عوامی و صوبائی مفاد، شفافیت اور پارلیمانی مشاورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

KP Own-Source Revenue Reaches Record Rs150.84 Billion for the First Time in Provincial History: Shafi Jan

Khyber Pakhtunkhwa Minister for Information and Science & Information Technology Shafi Jan has said that the provincial government’s own-source revenue has reached a record Rs150.84 billion, marking the first time in the province’s history that this level has been achieved. The own-source revenue target for the current financial year has been set at Rs182 billion.

In a his Statement Shafi Jan said the significant growth in own-source revenue reflected the provincial government’s effective financial management strategy, improved revenue collection and more efficient utilization of available resources. He appreciated the performance of the Finance Department, Excise Department, Khyber Pakhtunkhwa Revenue Authority, Information Department and other relevant departments for their commendable contribution to strengthening the province’s own-source revenue base.

The Information Minister said the provincial government, in line with the vision of founding chairman Imran Khan, was taking practical measures to enhance revenue generated through indigenous resources. “Under the leadership of Chief Minister Sohail Afridi, we are firmly committed to making Khyber Pakhtunkhwa financially self-reliant.

He said that Increasing revenue, reducing unnecessary expenditures and strengthening financial discipline remain key priorities of the government.

He emphasized that containing expenditures and increasing own-source revenue are central pillars of the government’s financial management strategy. Alongside improving revenue performance, the government was also ensuring transparency, accountability and the efficient utilization of public resources.

Shafi Jan said that strengthening own-source revenue was a crucial step towards greater fiscal autonomy and long-term financial sustainability. A stronger revenue base would enable the provincial government to create greater fiscal space for development, public welfare and the provision of essential services to citizens.

He said the government’s objective was not simply to increase revenue, but to establish a sustainable, transparent and efficient financial management system .

The Information Minister congratulated Secretary Information Matiullah Khan and his team on the Information Department’s outstanding performance in enhancing own-source revenue. He said the department’s improved revenue performance was the result of effective administrative measures, focused management and consistent efforts of entire Information Department.

Shafi Jan reiterated that financial discipline, transparency and optimal utilization of public resources are among the government’s key priorities. He said concerted efforts were underway to further strengthen the province’s resource base.

He added that Chief Minister Sohail Afridi had declared the current financial year a year of peace, development and prosperity, and the provincial government was pursuing this vision through practical measures aimed at promoting peace, economic stability, financial sustainability and inclusive development across Khyber Pakhtunkhwa.