وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز نے بیجنگ کے معروف Zhongguancun Innovation Demonstration Zone کا دورہ کیا۔ یہ علاقہ دنیا بھر میں“Silicon Valley of China”کے طور پر جانا جاتا ہے، جہاں جدید ترین سائنسی، ٹیکنالوجی اور معاشی ماڈلز کی ترقی کا مرکز قائم ہے۔اس دورے میں Artificial Intelligence، Robotics، Biotechnology، Digital Economy، اور Smart Governance سے متعلق منصوبہ جات کا براہِ راست مشاہدہ کیا گیا۔ یہ تجربہ واضح کرتا ہے کہ کس طرح چین کی حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر باہمی اشتراک سے deep-tech ecosystems کو مؤثر انداز میں وسعت دے رہے ہیں۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا میں بھی جدید ٹیکنالوجی، نوجوانوں کی مہارت سازی، اور ڈیجیٹل ا ایکانومی کے فروغ کے لیے ایسے ماڈلز سے رہنمائی لی جائے گی۔اس موقع پر ان کے ہمرا سابق مرکزی سینئر نائب صدر انصاف یوتھ ونگ پاکستان احمد عباسی بھی موجود تھے۔
جعلی وفاقی حکومت نے مہنگائی کا منی بجٹ عوام پر مسلط کر دیا، پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ فارم 47 حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، وزیر خوراک خیبرپختونخوا
وزیر خوراک خیبرپختونخوا ظاہر شاہ طورو نے وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی وفاقی حکومت نے جولائی کے پہلے دن ہی عوام کو مہنگائی کے منی بجٹ کا تحفہ دے دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے مہنگائی کی نئی اور شدید لہر آئے گی، جس کا براہِ راست اثر غریب عوام اور متوسط طبقے پر پڑے گا۔ ظاہر شاہ طورو نے خبر دار کیا کہ یہ اضافہ نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ زرعی شعبے پر بھی شدید منفی اثر ڈالے گا۔ کھاد، بیج اور دیگر زرعی اشیاء مہنگی ہونے سے کسانوں کی کمر ٹوٹ جائے گی۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ فارم 47 کے ذریعے مسلط کی گئی حکومت کے ہر فیصلے کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں، اور پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ان کی بدانتظامی اور نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ظاہر شاہ طورو کا کہنا تھا کہ یہ جعلی حکومت ملک کی ترقی کے صرف نعرے لگاتی ہے، جبکہ عملی طور پر عوام کے منہ سے نوالہ چھینا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں عالمی سطح پر مہنگائی اور بحران کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا گیا، جبکہ موجودہ حکومت عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال کر خود عیاشیوں میں مصروف ہے۔
صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال کا زرعی تحقیقی ادارہ ترناب کا دورہ، جدیدزرعی مشینری مختلف ڈائریکٹوریٹ کے افسران کے حوالے کی
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے زراعت میجر (ر) سجاد بارکوال نے پشاور میں واقع زرعی تحقیقی ادارہ ترناب کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے دوست ملک چین سے زرعی شعبہ میں تعاون کے تحت ملنے والی جدید مشینری کا تفصیلی معائنہ کیا۔ صوبائی وزیرکے ہمراہ محکمہ زراعت کے سیکرٹری عطاء الرحمن خلیل، ڈائریکٹر جنرل زرعی تحقیق ڈاکٹر عبدالروف، ڈائریکٹر جنرل زرعی توسیع مراد علی، ڈائریکٹر جنرل زرعی انجنئیرنگ نسیم جاوید اور محکمہ زراعت کے دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر سجاد بارکوال نے اس موقع پر جدید مشینری محکمہ زراعت کے ڈائریکٹوریٹ آف زرعی تحقیق، زراعت توسیع اور زرعی انجینئرنگ کے متعلقہ افسران کے حوا لے کی۔ دورے کے دوران صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال کو چین سے ملنے والی زرعی مشینری پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ مشینری بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے میں مددگار ثابت ہوگی اور اس جدید زرعی مشینری سے زمینوں کی لیولنگ بھی کی جائے گی۔ یہ مشینری تحقیقی مراکز، سیڈ پروڈکشن فارم اور زرعی انجینئرنگ کے شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کیلئے فراہم کی جارہی ہے۔صوبائی وزیر زراعت نے تحقیقی اداروں کے سائنس دانوں اور افسران کو ہدایت کی کہ مشینری کا بہترین استعمال کرتے ہوئے صوبے کی زراعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کے جدید آلات کی فراہمی سے کسانوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور زرعی شعبہ ترقی کی نئی منزلیں طے کرے گا۔ جدید زرعی مشینری کاشتکاری میں ریڑھ کی ہڈی ہے کیونکہ یہ بوائی، نگہداشت اور فصل کی کٹائی جیسے اہم کاموں میں وقت اور جسمانی محنت کو نمایاں طور پر کم کرتی ہے۔ بیج یا کھاد جیسے وسائل کے ضیاع کو روکتے ہوئے مشینری مجموعی لاگت میں کمی لاتی ہے۔ جس سے کاشتکاروں کی آمدنی میں دیرپا اضافہ ہوتا ہے۔ جدید زرعی آلات پائیدار کاشتکاری کے فروغ کے لیے ناگزیر ہیں۔وزیر زراعت سجاد بارکوال نے چینی حکومت اور متعلقہ اداروں کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے صوبے کی زراعت میں جدت لانے کے لیے آلات اور مشینری فراہم کی۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی تعاون سے خیبر پختونخوا کی زرعی ترقی کو نئی رفتار ملے گی۔
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ وکالت نہ صرف ایک معزز اور مقدس پیشہ ہے بلکہ یہ معاشرے میں انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ نوجوان وکلاء اگر جذبہ خدمت اور پیشہ ورانہ دیانتداری کو اپنا شعار بنائیں تو کامیابی خود اُن کے قدم چومے گی۔
وہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن مردان کے نو منتخب عہدیداران کی حلف برداری کی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں خیبر پختونخوا بار کونسل کے نمائندگان، وکلاء برادری، وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے فنی تعلیم طفیل انجم، اور بڑی تعداد میں سینئر و جونیئر وکلاء شریک تھے۔
تقریب سے بار کے نو منتخب صدر آصف اقبال ایڈوکیٹ، جنرل سیکرٹری ذوالفقار علی ایڈوکیٹ اور سٹی مئیر مردان حمایت اللہ مایار نے بھی خطاب کیا اور وکلاء برادری کو درپیش مسائل اور ان کے حل پر روشنی ڈالی۔
بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے نو منتخب کابینہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا وکلاء برادری کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کے دیرینہ مطالبات کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مردان بار کے مسائل پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور اور صوبائی وزیر قانون سے مشاورت مکمل ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مردان جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر، جونیئر وکلاء کے لیے شیڈز، بار رومز کی سولرائزیشن اور مالی گرانٹس سمیت دیگر مطالبات پر جلد پیش رفت متوقع ہے۔ بیرسٹر سیف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وکلاء کے لیے سازگار اور سہل کاری کا ماحول فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے سپاسنامہ میں پیش کیے گئے مطالبات پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان وکلاء کی پیشہ ورانہ تربیت اور اسکل ڈویلپمنٹ کے لیے بار کونسلز کو جامع منصوبہ بندی کرنی چاہیے تاکہ وکلاء کی معاشی مشکلات میں کمی آئے اور وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بہتر طریقے سے نبھا سکیں۔
مشیر اطلاعات نے مردان بار کی جانب سے ملک میں آئین و قانون کی بالادستی، جمہوریت کے استحکام اور شہریوں کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کے لیے کی جانے والی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ دریں اثناء مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے رستم میں تحصیل پریس کلب کے نو منتخب عہدیداروں کی تقریب حلف برداری میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے کلب کے عہدیداروں سے حلف لیا۔ تقریب میں وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی طفیل انجم، ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن انصاراللہ خلجی، اسسٹنٹ کمشنر رستم نعمان پرویز، معززین علاقہ اور صحافیوں نے شرکت کی۔ مشیر اطلاعات نے صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مختلف حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالی اور رستم کے صحافیوں کے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔
دیر بالا میں دریاؤں، ندی نالوں اور آبی گزرگاہوں کے تحفظ اور تجاوزات کے خاتمے کیلئے مؤثر اقدامات سے متعلق اجلاس کا انعقاد۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے عوامی ایجنڈا کے تحت چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر نویداکبر کےزیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سید بلال محمد ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریلیف اینڈ ہیومن رائٹس)، اسسٹنٹ کمشنرز، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنرز، ایگزیکٹیو انجینئر ایریگیشن، ایگزیکٹیو انجینئر سی اینڈ ڈبلیو، ٹی ایم اوز اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں دریاؤں، ندی نالوں اور قدرتی آبی گزرگاہوں سے تجاوزات کے فوری خاتمے سے متعلق جامع حکمتِ عملی مرتب کی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیاکہ تمام غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف بلا تاخیر آپریشن شروع کردیا گیا ہے جو کہ جاری رہے گا۔ ڈپٹی کمشنر دیر بالا نے ہدایت کی کہ تمام دریاؤں اور ندی نالوں کی حدود کی نقشہ سازی (Mapping) اور حد بندی (Demarcation) کی جائے تاکہ مستقبل میں تجاوزات کی روک تھام ممکن ہو سکے اور باقاعدہ ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔ تمام کارروائی کی تفصیلی رپورٹ جیو ٹیگڈ تصاویر، ایکشن ریکارڈ اور محکمانہ توثیق (Verification) سرٹیفکیٹ کے ساتھ جمع کروانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام ٹی ایم ایز ،اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز لوکل گورنمنٹ کی طرف سے دریا کے کنارے عمارتوں کی تعمیر کے لیے جاری کردہ NOCS کی تفصیلات/ فہرستیں دو دن کے اندر اندر فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے علاوہ تمام اسسٹنٹ کمشنرز ،ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کو اینٹی انکروچمنٹ آپریشن کا ایکشن ریکارڈ محکمانہ ویری فکیشن سرٹیفکیٹ جیو ٹیگ تصاویر متعلقہ سیکشن پی ایم آر یو برانچ ڈپٹی کمشنر آفس دیر بالا کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر جمع کروانے کی ہدایت کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر دیر بالا نوید اکبر نے واضح کیا کہ اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لیا جائے گا اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر کی صورت میں ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اپر چترال میں ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخوا ثریا بی بی کی ریلیز کردہ فنڈز سے گاؤں درو (تریچ) میں
اپر چترال میں ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخوا ثریا بی بی کی ریلیز کردہ فنڈز سے گاؤں درو (تریچ) میں پروٹیکشن وال کی تعمیر جاری ہے۔ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی ثریا بی بی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور قدرتی آفات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر شعبے میں سرگرم عمل ہے۔ خواہ ترقیاتی منصوبے ہو، سیلاب سے متاثرہ علاقے ہو یا قدرتی آفات سے مستقل تحفظ کے لیے حکمت عملی تحریک انصاف کی حکومت بلا تفریق خدمات انجام دے رہی ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہاہے کہ گاؤں درو،جو دریائے تورکہو اور دریائے تریچ کے سنگم واقع ہے میں ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے زیرنگرانی پروٹیکشن وال کی تعمیر جاری ہے۔ اس پروٹیکشن وال کی تکمیل سے گاؤں درو،کو دریا کی کٹائی اور سیلاب جیسی قدرتی آفات سے تحفظ حاصل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف میرٹ پر مبنی اور بلا امتیاز ترقیاتی کاموں پر یقین رکھتی ہے۔ حالانکہ جنرل الیکشن 2024 میں پولنگ اسٹیشن درو (تریچ) سے پی ٹی آئی کو صرف 26 ووٹ ملے جبکہ جمعیت علمائے اسلام اور دیگر جماعتوں کو 95 فیصد سے زائد ووٹ پڑے اس کے باوجود پاکستان تحریک انصاف نے علاقے کی ترقی کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔اس سے قبل مشیر برائے اقلیتی امور وزیر زادہ کے فنڈز سے گاؤں درو کے لیے لنک روڈ کی تعمیر بھی مکمل کی جا چکی ہے جبکہ گاؤں سوروحت میں بھی پی ٹی آئی کی سابق صوبائی حکومت کے تحت متعدد ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ چکے ہیں۔ اس سال ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخواہ کی فراہم کردہ فنڈز سے سول ایریگیشن چینلز کے منصوبے بھی مکمل ہو چکے ہیں۔جبکہ پروٹیکشن وال کی تعمیر کے لیے ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخواہ اسمبلی ثریا بی بی نے انتھک محنت کے بعد فنڈز ریلیزکو ممکن بنایا۔ اس منصوبے کو منظوری اور عملی شکل دینے میں ایم این اے چترال عبداللطیف، مشیر برائے اقلیتی امور وزیر زادہ، اور پاکستان تحریک انصاف تریچ و چترال کی قیادت اور کارکنان داد کے مستحق ہیں جنہوں نے منصوبے کی نشاندہی اور تکمیل میں بھرپور کردار ادا کیا۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے سوات واقعہ میں سیاحوں کی جان بچانے والے
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے سوات واقعہ میں سیاحوں کی جان بچانے والے مقامی نوجوانوں محمد ہلال خان اور عصمت علی نے پیرکے روزاسلام آباد میں ملاقات کی۔گورنر خیبرپختونخوا نے محمد ہلال خان اور عصمت علی کو مصنوعی کشتی کے ذریعے سیاحوں کی جان بچانے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا اوردونوں نوجوانوں کی بہادری اور انسانی امداد کے جذبہ کو سراہا۔گورنرنے دونوں نوجوانوں کو اپنی جانب سے عمرہ پر بھیجنے کا اعلان بھی کیااور انکی بہادری اور انسانی خدمت کے جذبہ پر تعارفی شیلڈ پیش کی۔گورنرنے اس موقع پر محمد ہلال خان اور عصمت علی کو سول ایوارڈ دینے کیلئے وزیراعظم کو سفارش بجھوانے کا بھی اعلان کیا اور کہاکہ مقامی بہادر نوجوانوں نے اپنی جان پر کھیل کر مصنوعی کشتی کے ذریعے سیاحوں کی جان بچائی۔انہوں نے کہاکہ مقامی نوجوانوں کی یہ بہادری اور انسانی امداد کا جذبہ قابل تعریف ہے، گورنر خیبر پختونخوا نے چیئرمین ہلال احمر کو سوات آفس کو ایمرجنسی خدمات کی فراہمی کیلئے مزید مستحکم کرنے اور ہلال احمر سوات آفس کو دستیاب ایمبولینسز کیساتھ کشتی لگانے کی بھی ہدایت کی۔گورنرنے کہاکہ ہلال احمر سوات ایمبولینسز کیساتھ کشتی لگا کر ہنگامی صورتحال میں سیلابی صورتحال میں لوگوں کو بروقت ریسیکیو کر سکتے ہیں
انفارمیشن کمیشن خیبر پختونخوا کی چیف انفارمیشن کمشنر فرح حامد خان اپنی 3 سالہ
انفارمیشن کمیشن خیبر پختونخوا کی چیف انفارمیشن کمشنر فرح حامد خان اپنی 3 سالہ آئینی مدت پوری کرکے ریٹائرڈ ہوگئیں۔ اس سلسلے میں خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن میں الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں انفارمیشن کمشنرز، کمیشن کے افسران اور ملازمین نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف انفارمیشن کمشنر فرح حامد خان نے کہا کہ انہوں نے جب کمیشن سنبھالا تو شہریوں کی شکایات کی بڑی تعداد زیر التوا تھی۔ ہم نے چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے شہریوں کی شکایات کا ازالہ کیا اور زیر التوا کیسز میں بہت حد تک کمی لائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے محدود وسائل کے باوجود بڑی حد تک آر ٹی آئی قانون سے متعلق نہ صرف شہریوں کو آگاہی دی بلکہ اداروں میں پبلک انفارمیشن آفیسرز کوبھی اس قانون سے متعلق تربیت دی۔ جس سے اداروں کی جانب سے معلومات کی فراہمی کا سلسلہ کافی حد تک ہموار ہوا۔ تقریب کے موقع پرڈپٹی ڈائریکٹرکمیونیکیشن سید سعادت جہان نے فرح حامد خان کے دور میں کمیشن کیلئے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ جن میں آرٹی آئی ایکٹ میں ترامیم، کمیشن کے ملازمین کیلئے سی پی فنڈ کا اجراء، کمیشن کے بجٹ میں اضافہ، اور ملازمین کی پروموشن قابل ذکر تھیں۔ اس موقع پر انفارمیشن کمشنرز ارشد احمد اور محمد ارشاد نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا انہوں نے کمیشن کیلئے فرح حامد خان کی خدمات کو نہ صرف سراہا بلکہ ان کے جذبے اور طریقہ کار کو کمیشن میں آگے جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ پروگرام کے آخر میں کمشنر فرح حامد خان کو کمیشن کی جانب سے سونئیر اور گلدستہ پیش کیا گیا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ فرح حامد خان اس سے پہلے سیکرٹری فیڈرل ایجوکیشن، اور اسسٹنٹ کمشنر ایبٹ آباد کے علاوہ کئی اہم عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز کا چینی حکومت کی دعوت پر چین کا اہم دورہ
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایازنے پڑوسی ملک چین کی حکومت کی جانب سے دی گئی دعوت پر چین کا اہم دورہ کیا۔دورے کے دوران حکومتِ خیبر پختونخوا اور چینی اداروں کے درمیان مختلف ایم او یوز MOUs پر دستخط ہوئے۔ اس دورے کا مقصد خیبرپختونخوا میں سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم اور نوجوانوں کی تربیت کے شعبے میں تعاون کو بڑھانا ہے۔ یہ دورہ چیئرمین عمران خان اور وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈا پور کے اس وژن کے مطابق کیا گیا ہے جس کے تحت صوبے کو تعلیم، ٹیکنالوجی اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا رہا ہے۔
حکومت خیبرپختونخوا نے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں طلبہ میں سکالرشپ چیکس
حکومت خیبرپختونخوا نے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں طلبہ میں سکالرشپ چیکس تقسیم کر کے تعلیمی شمولیت اور سماجی بااختیاری کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ ڈسٹرکٹ کونسل ہال پشاور میں منعقدہ ”مائنارٹی اسٹوڈنٹس اسکالرشپ ڈسٹری بیوشن پروگرام” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اس اقدام کو پاکستان تحریکِ انصاف کے دیرینہ عزم برائے انصاف، مساوات اور انسانی ترقی کی عملی مثال قرار دیا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ یہ اسکالرشپ پروگرام اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور شمولیت کے لیے پی ٹی آئی حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے جو بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیرِاعظم عمران خان کے وژن کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ہمیشہ ایک ایسے پاکستان کے حامی رہے ہیں جہاں ہر شہری، خواہ اس کا مذہب کچھ بھی ہو، قومی ترقی میں یکساں کردار ادا کرے اور برابری کے مواقع سے مستفید ہو۔ انہوں نے عمران خان کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران اقلیتوں کے مذہبی ورثے کے تحفظ اور بحالی کے لیے اٹھائے گئے عملی اقدامات کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ کرتارپور راہداری کا قیام اور مختلف علاقوں میں سکھ اور ہندو عبادت گاہوں کی بحالی، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے عمران خان کے وعدوں کی عملی تعبیر ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے محکمہ اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور کو اس تقریب کے کامیاب انعقاد پر خصوصی طور پر سراہا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کے فوکل پرسن برائے اقلیتی امور، وزیر زادہ کو بھی ان کی انتھک محنت، ثابت قدمی اور سیاسی و ذاتی مشکلات کے باوجود اقلیتی برادری کی خدمت کے جذبے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔تفصیلات کے مطابق ضلع پشاور میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے تقریباً 300 طلبہ میں اسکالرشپ چیکس تقسیم کیے گئے۔ پی ایچ ڈی کے طلبہ کو 10 لاکھ روپے، ایم فل کے طلبہ کو 2 لاکھ روپے، پروفیشنل ڈگری پروگرامز میں زیرِتعلیم طلبہ کو ایک لاکھ روپے، ماسٹرز کے طلبہ کو 70 ہزار روپے، بیچلرز کے طلبہ کو 60 ہزار روپے اور انٹرمیڈیٹ کے طلبہ کو 50 ہزار روپے فی کس دیے گئے۔ مجموعی طور پر خیبرپختونخوا بھر میں 800 اقلیتی طلبہ اس اسکالرشپ پروگرام سے مستفید ہوں گے اور مجموعی رقم 6 کروڑ 10 لاکھ روپے تقسیم کی جائے گی۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے ریاست کی اخلاقی اور آئینی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی وسائل پاکستان کے تمام شہریوں کا حق ہیں اور ان کی منصفانہ تقسیم اچھی طرزِ حکمرانی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کا تصور کبھی بھی سماجی یا معاشی محرومی کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے اسلامی سیاسی فلسفہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام تمام شہریوں کی فلاح اور تحفظ کا علمبردار ہے، خواہ ان کا مذہب کچھ بھی ہو۔طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ تعلیم کو صرف روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے شعوری بیداری، سماجی ذمہ داری اور فکری بالیدگی کا وسیلہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی تعلیم وہی ہے جو انسان کے اندر سوچنے، سمجھنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت پیدا کرے۔انہوں نے طلبہ کو یاد دلایا کہ ان کی اصل کامیابی صرف ذاتی مفادات کے حصول میں نہیں بلکہ دوسروں کی خدمت اور معاشرے کی بہتری میں مضمر ہے۔اپنے خطاب کے اختتام پر بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اقلیتی حقوق اور تعلیمی خودمختاری کے حوالے سے پی ٹی آئی کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت، عمران خان کی قیادت، رہنمائی اور وژن کے تحت، پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق اور وقار کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ محض مادی خواہشات کے پیچھے نہ بھاگیں بلکہ اپنی زندگیوں کو اعلیٰ اخلاقی اور سماجی مقاصد کے لیے وقف کریں۔ انہوں نے کہا کہ محنت، اخلاص اور انسانیت کی خدمت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
