Home Blog Page 159

وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کی نگرانی میں کلپانی ندی میں لاپتہ نوجوان کی تلاش کیلئے ریسکیو آپریشن جاری

خیبرپختونخوا کے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے مسلسل دوسرے روز بھی ویلج کونسل غلہ ڈھیرمیں کلپانی ندی میں ڈوبنے والے نوجوان شعیب کی تلاش کے لیے جاری ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی کی۔وزیر خوراک موقع پر موجود رہ کر مختلف ریسکیو ٹیموں، غوطہ خوروں اور کشتیوں کے ذریعے جاری سرچ آپریشن کا باریک بینی سے جائزہ لیتے رہے۔ خانپور سے آئی خصوصی غوطہ خور ٹیم کے علاوہ مقامی غوطہ خور بھی بھرپور جذبے اور انتھک محنت کے ساتھ نوجوان کی تلاش میں مصروف ہیں۔اس موقع پر ظاہر شاہ طورو نے مردان و نوشہرہ انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور مقامی رضاکاروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پورے عزم، ہم آہنگی اور خلوص کے ساتھ یہ ریسکیو آپریشن جاری ہے، انہوں نے کہا کہ وہ خود اس افسوسناک واقعے پر دل گرفتہ ہیں اور نوجوان کی بازیابی تک ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی جاری رکھیں گے۔ظاہر شاہ طورو نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ نوجوان کی تلاش کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ متاثرہ خاندان کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ریسکیو 1122 کے ٹیم لیڈر نے وزیر خوراک کو اب تک کی پیش رفت سے تفصیلاً آگاہ کیا۔

بڑے فصلوں کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے ملک اور کسانوں کا 2800 ارب روپے کا اس سال نقصان ہوگا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

بڑے فصلوں کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے ملک اور کسانوں کا 2800 ارب روپے کا اس سال نقصان ہوگا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

وفاقی حکومت نے پی ایس ڈی پی میں صرف ایک ہزار ارب روپے رکھے ہیں جس میں خیبرپختونخوا کیلئے صرف 54 کروڑ روپے رکھے ہیں اور خیبرپختونخوا کیلئے کوئی ترقیاتی منصوبہ بھی نہیں ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

حکومت کے مطابق ترقی کی شرح اگلے سال 4.2 فیصد ہوجائے گی جبکہ مہنگائی 7.5 فیصد تک بڑھ جائے گی اسی طرح برامدات میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوگا جبکہ دارمدار بڑھ جائے گی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

خیبر پختونخوا نے اپنے فنڈز سے ضم اضلاع کو 20 ارب روپے ترقیاتی اخراجات میں جبکہ تقریبا 40 ارب روپے جاری اخراجات میں دیے ہیں جو وفاق خیبرپختونخوا کو نہیں دے رہے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے خزانہ و بین الصوبائی رابطہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے مطابق 15 فیصد بڑے فصلوں کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے جس میں صرف 30 فیصد کپاس کی پیداوار میں کمی شامل ہے جس کی درامد پر پانچ ارب ڈالر اضافی خرچ ہوں گے اس طرح گندم کی پیداوار میں کمی کے باعث تین ارب ڈالر کی گندم کی درامدات پر خرچ ہونگیصرف زراعت میں کمی کی وجہ سے پاکستان کو 10 ارب ڈالر کی امپورٹ کرنی پڑے گی اور یہ 10 ارب ڈالر ملک اور کسانوں کا نقصان ہے جس کا مطلب ہے کہ ملک اور کسانوں کا 2800 ارب روپے کا اس سال نقصان ہوگا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ مہنگائی کے بارے میں حکومت دعوی کر رہی تھی کہ مہنگائی 4.5 فیصد یا 4.7 فیصد ہے اب حکومت خود کہہ رہی ہے کہ اگلے سال مہنگائی کی شرح 7.5 فیصد پر جائے گی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ پاکستانیوں کے لیے بری خبر یہ ہے کہ اس سال پاکستان کی جی ڈی پی ایک لاکھ 14 ہزار ارب تھی اور اگلے سال ایک لاکھ 29 ہزار ارب روپے ہو جائے گی جبکہ اس میں ترقیاتی اخراجات کیلئے صرف ایک ہزار ارب روپے رکھے گئے ہیں اور اس سال وفاقی حکومت کوئی نیا منصوبہ نہیں دے رہی جبکہ صوبوں کو بھی کوئی نیا منصوبہ نہیں دے رہے ہیں۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ اس ایک ہزار ترقیاتی اخراجات میں 120 ارب روپے جو پیٹرول میں ریلیف نہیں دیا گیا تھا جس سے بلوچستان میں سڑک بنا رہے ہیں شامل ہے جس کا مطلب ہے کہ اپ نے ایک سال میں صرف 880 ارب روپے کی پی ایس ڈی پی رکھی ہے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ اڑان پاکستان پروگرام میں سپورٹس پانی ماحولیات کے بارے میں بات ہوتی تھی اس میں بھی ہائیر ایجوکیشن کا بجٹ 65 ارب روپے مختص کیا گیا تھا جس کو کاٹ کر صرف 45 ارب روپے کر دیا گیا ہے جس پر صوبوں کے ساتھ کوئی مشاورت نہیں کی گئی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت نے کہا تھا کہ جن صوبوں کے منصوبے 75 فیصد سے زیادہ مکمل ہو جائیں گے ان کو ترجیح دی جائے گی اس میں ہماری صوبے کے دو سڑک جو تقریبا نویں فیصد مکمل ہوئے ہیں کے بعد ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے جو سراسر نا انصافی ہے جس کا میں نے حکومت کو اج کے اجلاس میں بتا بھی دیا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ جب حکومت خود کہہ رہی ہے کہ مہنگائی ایک فیصد پر لائے ہیں تو شرح سود 11 فیصد کیوں ہے اس سال سود کی ادائیگی میں دو سے دو ڈھائی ہزار ارب روپے کی بچت ہونی چاہیے جس کو اپ ترقیاتی منصوبوں پر خرچ نہیں کر رہے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی کے مطابق 118 ترقیاتی منصوبوں کو ختم کر دیا گیا ہے اور حکومت کہہ رہی ہے کہ ترقی کی شرح اگلے سال 4.2 فیصد ہوجائے گی جبکہ مہنگائی 7.5 فیصد ہو جائے گی اسی طرح برامدات میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوگا جبکہ دارمدار بڑھ جائے گی اور 39.5 ارب روپے ترسیلات زر کا تہمینہ رکھا گیا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ایک ہزار ارب روپے کی پی ایس ڈی پی میں خیبر پختونخوا کو صرف 54 کروڑ روپے ملیں گے جبکہ بلوچستان کو 120 ارب روپے کے علاوہ 20 ارب روپے دے رہے ہیں اس طرح سندھ کو 47.1 ارب روپے مختص کیے ہیں اسی طرح گلگت بلتستان اور کشمیر کے لیے 37 ارب روپے اور 45 ارب روپے رکھے ہیں جبکہ ضم اضلاع کے لیے صرف 70 ارب روپے رکھے ہیں اور رواں سال ضم اضلاع کو 70 ارب روپے میں سے صرف 34 ارب روپے ملے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اس سال پنجاب کا ترقیاتی بجٹ ہزار ارب روپے جبکہ سندھ کا 1100 روپے کا بتایا جا رہا ہے جبکہ خیبرپختونخوا کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 433 ارب روپے ہوگا وفاق خیبر پختونخواہ کو ضم اضلاع کا حصہ نہیں دے رہا جو ناانصافی ہے۔ خیبر پختونخوا نے اپنے فنڈز سے ضم اضلاع کو 20 ارب روپے ترقیاتی اخراجات میں جبکہ تقریبا 40 ارب روپے جاری اخراجات میں دیے ہیں جو وفاق خیبرپختونخوا کو نہیں دے رہے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ کہ رواں سال خیبر پختونخوا کو وفاق سے 300 ارب روپے کم ملیں گے صرف رواں سال 42 ارب روپے این ایف سی کے مد میں خیبر پختونخوا کو کم ملے ہیں وفاق نے ٹیکس کے مد میں مئی کے مہینے تک ایک ہزار ارب روپے کم جمع کیے ہیں جس میں خیبرپختونخوا کو اس سال 90 ارب روپے کم ملیں گے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت سابقہ فاٹا ضم اضلاع کے لیے این ایف سی کا ایوارڈ جاری کریں اور جو آبادی کے حساب سے حصہ بنتا ہے وہ فل الفور مہیا کریں اگر نہیں دے رہے تو جو بجٹ میں اعلان کرتے ہیں کم از کم وہ تو فراہم کیا کریں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور ضم اضلاع میں ان کی حکومت نہیں بنی ہے اس لیے ان کو فنڈز فراہم نہیں کرتے جو نا انصافی پر مبنی ہے جبکہ خیبرپختونخوا نے ائی ایم ایف شرائط بھی پورے کیے ہیں اور حکومت خود اس کا اعتراف بھی کر رہی ہے۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت گورننس امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت گورننس امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹریز سمیت دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو صوبے میں آٹے سمیت دیگرضروری اشیاء خوردونوش کی قیمتوں اور دستیابی کی صورت حال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں قومی سطح اور دیگر صوبوں میں اشیائے خوردونوش کا خیبرپختونخوا کے نرخوں کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ جہاں قیمتوں میں ریٹل پرائس اور سیل پرائس میں ذیادہ فرق ہو وہاں ضروری اقدامات اٹھائے جائیں. اجلاس کو صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لیے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کے نکاسی آب اور سیوریج کے نظام کی بہتری کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے جن 40 ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کو نوٹسز دئے ان میں سے 29 نے اپنے سیوریج اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر کیا ہے۔ جبکہ ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والے پانچ ہوٹلوں کو سیل کیا گیا ہے۔ اسی طرح کمراٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں 34 میں سے 8 ہوٹلوں نے اپنے نظام میں درستگی کی ہے۔ کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں 193 میں سے 14 نے سیوریج اور نکاسی آب کا نظام درست کیا جبکہ 3 یونٹس کو اب تک سیل کیا گیا۔کیلاش ویلی ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں 14 میں سے 6 نے اپنا نظام درست کیا ہے جبکہ اپر سوات میں 112 ہوٹلوں کو نوٹسز دئے گئے ہیں۔ نوٹس پیریڈ جوکہ 14 دن ہے مکمل ہونے کے بعد تمام ہوٹلوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کا مقصد ماحولیاتی تحفظ یقینی بناکر سیاحت کو فروغ دینا ہے جس سے مقامی معیشتیں پروان چڑھ سکیں۔ چیف سیکرٹری نے اس حوالے سے متعلقہ حکام کو مقامی شہریوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت جاری رکھنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں کا کہنا تھا کہ اتھارٹیز کے قیام کا مقصد ان علاقوں میں پائیدار سیاحت کا فروغ ہے۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری کو ای آفس منصوبے کے اجراء، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں، ماسٹر پلاننگ اور لینڈ یوز پلاننگ، انسداد پولیو اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی

افغان طلباء کی تعلیمی ترقی پاکستان کی خطے میں امن و استحکام کی خواہش کی مظہر ہے، سید قاسم علی شاہ

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے سماجی بہبود و ویمن ایمپاورمنٹ سید قاسم علی شاہ نے کہا ہے کہ ”275 افغان طلباء میں ٹیبلٹس کی تقسیم تعلیم کے فروغ اور علاقائی بھائی چارے کا عملی اظہار ہے۔” وہ آج یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET) پشاور میں منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس میں افغان طلباء میں ڈیجیٹل تعلیمی آلات تقسیم کیے گئے۔اس موقع پر وزیر موصوف نے کہا کہ یہ اقدام حکومت پاکستان، ہائر ایجوکیشن کمیشن، علامہ اقبال اسکالرشپ پروگرام اور یو این ایچ سی آر (UNHCR) کے باہمی تعاون سے ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے ان تمام اداروں کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغان مہاجرین کی تعلیمی ضروریات کو سنجیدگی سے لیتا ہے اور ان کے روشن مستقبل کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔سید قاسم علی شاہ نے مزید کہا،”پاکستان اور افغانستان صرف جغرافیائی ہمسایہ نہیں بلکہ تاریخ، ثقافت اور مذہب کے گہرے رشتوں سے بندھے ہوئے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تعلیم کی روشنی سرحدوں کی محتاج نہیں اور ہم افغان طلباء کے تعلیمی سفر کو ہر ممکن تعاون سے ہموار بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔”انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی نئی نسل کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ایک اہم کوشش ہے، جو نہ صرف تعلیم بلکہ بااختیار معاشروں کے قیام کی بنیاد بھی رکھتی ہے۔تقریب کے اختتام پر وزیر موصوف نے تمام متعلقہ اداروں، منتظمین، اساتذہ اور طلباء کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس بامقصد پروگرام کو کامیاب بنایا۔

نوتعینات ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن انصاراللہ خلجی نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا

سینئر افسران، صحافی حضرات، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور دیگر افراد نے نو تعینات ڈی جی کو مبارکباد دی

محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ کے نئے ڈائریکٹر جنرل انصاراللہ خلجی نے کل بروز پیر باضابطہ طور پر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔ چارج سنبھالنے کے موقع پر محکمہ اطلاعات کے افسران، عملے، صحافی برادری اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے نو تعینات ڈی جی کو مبارکباد پیش کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔اس موقع پر محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ کے دفتر میں ایک سادہ مگر پروقار تقریب منعقد کی گئی، جس میں سینئر افسران، صحافی حضرات، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے نو تعینات ڈائریکٹر جنرل کی صلاحیتوں، تجربے اور پیشہ ورانہ خدمات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں محکمہ اطلاعات مزید فعال، مؤثر اور عوامی رابطہ کاری کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کرے گا۔نو تعینات ڈی جی انفارمیشن نے کہا کہ وہ محکمہ کی بہتری، شفاف اطلاعات کی فراہمی اور صحافیوں کے ساتھ مثبت و تعمیری تعلقات کو اپنی اولین ترجیح بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے اور اس کے استحکام اور آزادی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ڈائریکٹر جنرل نے مزید کہا کہ محکمہ اطلاعات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا تاکہ عوام تک بروقت اور درست معلومات پہنچائی جا سکیں۔ انہوں نے تمام افسران و عملے پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض کو دیانتداری، محنت اور لگن کے ساتھ سرانجام دیں۔تقریب کے اختتام پر شرکاء نے نو تعینات ڈی جی کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق انڈس لفٹ ایریگیشن کنال کی فیزیبیلیٹی سٹڈی کی منظوری دیدی۔ صوبائی وزیر سجاد بارکوال

آر ایف پی باقاعدہ طور پر مشتہر، کرک کے عوام کو مبارکباد دیتا ہوں – سجاد بارکوال

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے ضلع کرک کیلئے انڈس لفٹ ایریگیشن کنال کی فیزیبیلیٹی سٹڈی کی منظوری پر ضلع کرک کے عوام کومبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اظہار دلچسپی (آر ایف پی) کا اشتہار مشتہر ہوگیا۔ منصوبے کی منظوری بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے باقاعدہ طور پر دے دی ہے اور اس پر عملی طور پر کام کا آغاز اشتہار مشتہر ہونے سے ہوگیا ہے۔ اس منصوبہ سے ضلع کرک کی بنجر اراضی کو قابل کاشت بنایا جائے گاجبکہ نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع میسر ہونگے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار چئیرمن ڈیڈک ضلع بنوں، چئیرمن ڈیڈک لکی مروت، میئر کرک سٹی عظمت خٹک، صدر پاکستان تحریک انصاف کرک عاصم خٹک و دیگر کے ہمراہ مذکورہ منصوبے پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے انڈس آپ لفٹ ایریگیشن کنال کے منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ سے خیبرپختونخوا کے حصہ کا پانی ضائع ہو رہا ہے اس پانی کو قابل استعمال بنانے کے لیے انڈس آپ لفٹ ایریگیشن کنال منصوبے کو عملی شکل دے رہے ہیں جس سے جنوبی اضلاع کرک، بنوں اور لکی مروت کے علاقے مستفید ہوسکیں گے۔ ان اضلاع کی ہزاروں ایکڑ اراضی کو قابل کاشت بنائیں گے جس سے زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے منصوبے کی منظوری میں محکمہ پی اینڈ ڈی، آبپاشی، اراکین صوبائی اسمبلی اور حصوصا وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انکی کوششوں سے منصوبے کی فیزیبیلٹیی سٹڈی کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منصوبے کیلئے بہترین کنسلٹنٹ مقرر کریں گے تاکہ وہ منصوبے کی بہتر فیزیبیلٹیی سٹڈی کرسکیں تاکہ زیادہ سے زیادہ اراضی اس منصوبے سے مستفید ہوسکے۔

وزیراعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا ہے کہ

وزیراعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا ہے کہ ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) جیتنے کے باوجود مایوس، جبکہ تحریک انصاف ہار کر بھی مطمئن ہے،آر اوز کے دفاتر کے باہر ”عمران خان زندہ باد” کے نعرے گونج رہے تھے، جبکہ اندر نتائج میں تبدیلی کی جا رہی تھی.اپنے دفتر سے جاری بیان میں بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ شریف خاندان نے پرانی روش اختیار کرکے دھاندلی نہیں بلکہ کھلم کھلا ”دھاندلا” کیا ہے، جعلی حکومت کب تک انتخابی نتائج تبدیل کرتی رہے گی؟ سچ زیادہ دیر چھپ نہیں سکتا، انہوں نے کہا کہ جعلی حکومت اوچھے ہتھکنڈوں سے عمران خان کی مقبولیت کو ختم نہیں کرسکتی۔ انہوں نے مزید بتایا کی یہ انتخابی نتائج نہ صرف مریم نواز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں بلکہ ایک زناٹے دار طمانچہ بھی ہیں، مریم نواز کا ترقیاتی سفر صرف ٹک ٹاک ویڈیوز تک محدود ہے عوام نے انتخابات میں ٹک ٹاک منصوبوں کو منہ توڑ جواب دیا ہے، بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ جعلی حکومت نے سیالکوٹ انتخابات میں 8 فروری الیکشن کے ریکارڈ بھی توڑ ڈالے۔ ریٹرننگ افسران نے تاریخ کی بدترین دھاندلی کرکے ہارے ہوئے امیدوار کو جتوایا۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات جعلی حکومت کے خلاف ریفرنڈم تھا اس لئے رات کو نتائج تبدیل کردیئے۔ انہوں نے کہا کہ نتائج تبدیل کرنے سے عمران خان کی مقبولیت کم نہیں کی جاسکتی ہے عمران خان اب بھی عوام کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ دھونس دھاندلی سے عمران خان کی مقبولیت نہ کم کی جاسکتی ہے اور نہ ہی عوام کے دلوں سے نکال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر سے کراچی تک عوام عمران خان کے ساتھ ہیں شریف خاندان صرف دھاندلی سے انتخابات جیت سکتے ہیں ورنہ حقیقت میں وہ انتخابی مہم کے لئے بھی نہیں نکل سکتے ہیں کیونکہ عوام کارکردگی پر ووٹ دیتے ہیں اور انکے پلے کارکردگی نہیں ہے۔

کردار کی پختگی اور خود کی پہچان کرنے والا انسان ہی دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیراعلی کی قیادت میں عوام دوست منصوبے شروع کیے ہیں، صوبائی حکومت تشہیر کی بجائے عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔ مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ کامیابی کے لیے کردار کی پختگی اور اپنی پہچان ضروری ہے۔ اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنا اور اپنے وقت کا صحیح استعمال کرنا بھی انسان کو زندگی میں آگے لے جاتا ہے۔ صوبائی حکومت نے بیواؤں اور یتیم بچوں کے لیے سہارا اور روشن مستقبل منصوبہ متعارف کرایا ہے اور پیچیدہ بیماریوں کا مہنگا علاج صحت کارڈ میں شامل کرایا ہے۔ صوبائی حکومت تشہیر کی بجائے عملی اقدامات اٹھانے پر یقین رکھتی ہے۔ صوبائی مشیر اطلاعات نے ان خیالات کا اظہار پختونخوا ریڈیو ایبٹ آباد کی خصوصی ٹرانسمشن کے پروگرام ” صحت زندگی” میں براہِ راست بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ پختونخوا ریڈیو اور ریجنل انفارمیشن آفس آمد کے موقع پر ریجنل انفارمیشن آفیسر اکرام اللہ سعید نے انہیں خوش آمدید کہا اور پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔ مشیر اطلاعات نے اس موقع پر صحت کے مسائل سے متعلق پروگرام ”صحت زندگی” کا افتتاح بھی کیا۔ لائیو پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے اور پھر ان صلاحیتوں کو اپنے پختہ کردار کی بدولت مزید نکھارنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان نسل اپنا وقت اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے، علم حاصل کرنے” معاشرے کے درد زدہ لوگوں کے کام آنے کے لیے صرف کریں تو کامیابی ان کا مقدر ٹھہرے گی۔ صوبائی مشیر اطلاعات نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت وزیراعلی سردار علی امین گنڈاپور کی قیادت میں حقیقی عوام دوست اقدامات اٹھا رہی ہے۔ یتیم بچوں کے روشن مستقبل اور بیواؤں کے لیے سہارا کارڈ منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ اسی طرح صحت کارڈ میں پیچیدہ بیماریوں کے مہنگے علاج بھی شامل کیے گئے ہیں۔ بون میرو ٹرانسپلانٹ جو کہ تھیلیسیمیا کا شکار بچوں کا مہنگا ترین علاج ہے کو بھی صحت کارڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح کڈنی ٹرانسپلانٹ، لیور ٹرانسپلانٹ اور پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے لیے کوکلیئر امپلانٹ کو صحت کارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنی تشہیر یا نمائش کے بجائے عوام کا پیسہ عوام پر ہی خرچ کرنے اور عملی اقدامات اٹھانے پر یقین رکھتی ہے۔ دریں اثنا مشیر اطلاعات نے پختونخوا ریڈیو ایبٹ آباد کو عوامی امنگوں پر مبنی مزید پروگرامز نشریات کا حصہ بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے درپیش مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔

اقلیتی نوجوان ہماری قومی شناخت کا فخر ہیں: مشیر اطلاعات

اقلیتی نوجوان ہماری قومی شناخت کا فخر ہیں: مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف
محکمہ اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام ”مائنارٹی یوتھ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام 2025” کی رنگا رنگ اختتامی تقریب پشاور میں منعقد ہوئی۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔دو روزہ پروگرام میں صوبہ بھر کے 600 سے زائد اقلیتی نوجوانوں (مرد و خواتین) نے شرکت کی، جن کے درمیان اردو و پشتو گائیکی، مضمون نویسی، تقریری مقابلے، پینٹنگ اور آرٹ سمیت دس مختلف شعبوں میں مقابلے کرائے گئے۔مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”اقلیت” اور ”اکثریت” جیسے الفاظ ہمیں تقسیم کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم سب انسان اور پاکستانی ہیں۔ ہماری اصل پہچان کردار، اخلاق اور انسانیت سے ہونی چاہیے، نہ کہ مذہب، نسل،رنگ یا زبان سے۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام مذاہب، بشمول اسلام، ہندو مذہب، مسیحیت اور سکھ مذہب، انسان دوستی، عدل، محبت اور اخلاقیات کی تعلیم دیتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم کو صرف نوکری یا ڈگری کے لیے نہیں بلکہ شعور، آگہی اور خدمتِ انسانیت کے لیے حاصل کریں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے زور دیا کہ اقلیتوں کو برابر کے حقوق دینا نہ صرف آئینی ذمہ داری بلکہ سنتِ نبویؐ اور حکمِ الٰہی بھی ہے۔ ہماری حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی کہ اقلیتی نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے اور ان کے خوابوں کو عملی تعبیر دی جا سکے۔ ان کا کہنا تھاکہ دولت اور ملازمتیں انسان کے لیے ہیں، انسان ان کے لیے نہیں۔ تقریب میں اردو مضمون نویسی میں ساجد اقبال (کیلاش) نے پہلی اور سوریندر سنگھ (بونیر) نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ انگلش مضمون نویسی، پینٹنگ، تھیمیٹک آرٹ، اردو، انگلش تقریری مقابلوں اور گائیکی میں بھی نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے والے نوجوانوں کو انعامات دیے گئے۔پشتو گائیکی میں کرن ذوالفقار (پشاور) اور اشبام تنویر (پشاور) نمایاں رہیں۔ ریپ کیٹیگری میں جنید کیلاش کو خصوصی انعام دیا گیا جبکہ کم عمر گلوکار آئیزک جاوید المعروف ”چھوٹا استاد” اور مہک جاوید کو 20، 20 ہزار روپے کے انعامات سے نوازا گیا۔ تقریب کے ججز معروف گلوکارہ ستارہ یونس، اداکار سید رحمان شینو، پروفیسرز، نیشنل اسمبلی کے افسران اور دیگر شامل تھے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اس موقع پر اعلان کیا کہ محکمہ اطلاعات کے تحت ریڈیو پختونخوا اور دیگر پلیٹ فارمز پر اقلیتی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے خصوصی سلاٹس دیے جائیں گے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ یہ نوجوان صرف مقامی سطح تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کی آواز پورے پاکستان میں سنی جائے۔تقریب کے اختتام پر محکمہ اقلیتی امور کے ڈپٹی سیکریٹری حبیب خان آفریدی نے مہمان خصوصی بیرسٹر ڈاکٹر سیف کو یادگاری شیلڈ پیش کی جبکہ مشہور فوٹوگرافر و مصور انکل ٹونی نے اپنی پینٹنگز تحفے میں دیں۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان نے اپنی رہائش گاہ

مینگورہ میں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے وفود، پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان، عہدیداران اور معززین علاقہ سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد عوامی مسائل کا براہ راست جائزہ لینا اور ان کے فوری حل کے لیے اقدامات کرنا تھا۔ وفود نے صوبائی وزیر کو مسائل سے آگاہ کیا، صوبائی وزیر نے عوامی مسائل کو غور سے سنا کئی مسائل کے حل کے لیے موقع پر ہی متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کیں، جبکہ بعض معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کے لیے متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کر دیے گئے۔ فضل حکیم خان نے اس موقع پر کہا کہ ہم عوامی خدمت کو عبادت سمجھتے ہیں اور ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ صوبائی حکومت کا وژن ہے کہ ہر شہری کو اس کا جائز حق ملے اور اس مقصد کے حصول کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی مسائل کا بروقت اور منصفانہ حل ہماری اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول میں کوئی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ہم عوام سے براہ راست رابطے کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں تاکہ ان کے مسائل کا فوری ادراک اور حل ممکن بنایا جا سکے۔ صوبائی وزیر نے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پارٹی کارکنان ہماری طاقت ہیں اور ان کی محنت اور قربانیاں قابل تحسین ہیں ہم ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کی ہر ممکن مدد کریں گے۔ ان ملاقاتوں کے دوران عوامی نمائندوں اور کارکنان نے صوبائی وزیر کی عوامی خدمت کے جذبے کو سراہا اور ان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا۔