خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس جمعرات کو صوبائی اسمبلی کے سیکرٹیریٹ میں منعقد ہوا.اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اور رکن صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی نےکی. اجلاس میں کمیٹی کے اراکین و ممبران صوبائی اسمبلی صوبیہ شاہد, سریش کمار, اورنگزیب خان, عسکر پرویز, اعجاز خان, اکرام غازی, ریحانہ اسماعیل, شیر علی افریدی, حامد الرحمن, عدنان خان کے علاوہ سیکرٹری صحت سمیت محکمہ صحت کے اعلی حکام, ڈی سی اپر چترال, ڈی ایچ او اپر چترال, محکمہ قانون, خزانہ, پی ایچ ایس اے, کے ایم یو اور صوبائی اسمبلی کے افسران نے شرکت کی۔ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی محترمہ ثریا بی بی کے سوموٹو ایکشن کا کمیٹی نے جائزہ لیتے ہوئے الائیڈ سٹاف کی خالی اسامیوں کو پر نہ کرنے پر ایڈیشنل ڈی جی ہیلتھ اور ڈی ایچ او نے بتایا کہ ان خالی اسامیوں کو عنقریب پر کرلیا جایگا. کیٹگری سی ہسپتال بونی میںگاینا کالوجسٹ کی تقرری پر سپیشل سیکرٹری ہیلتھ نے بتایا ماہ دسمبر میں ہی گائنی ڈاکٹر کی تعیناتی کی جایگی۔کیٹگری سی ہسپتال بونی میں دوائیوں اور آلات کی دستیابی پر ڈی ایچ او اپر چترال نے کمیٹی کو بتایا کہ ہسپتال میں ضرورت کے مطابق آلات و ادویات دستیاب ہیں۔کیٹگری سی ہسپتال بونی کی اپگریڈیشن پر سپیشل سیکرٹری ہیلتھ نے اس معاملے کو سی پی او کے ساتھ اٹھانے اور رپورٹ کمیٹی کے اگلے اجلاس اور ڈپٹی سپیکر آفس جمع کرانے کا وعدہ کیا۔آر ایچ سی شاگرام کے حوالے سے سپیشل سیکرٹری ہیلتھ نے اگلے اجلاس میں حتمی رپورٹ جمع کرانے کا وعدہ کیا.
اپر چترال میں نرسنگ کالج کے قیام اور اس حوالے سے پیش رفت پر ڈی سی اپر چترال نے بتایا کہ وہ متعلقہ محکمہ, ایس ایم بی آر کے ساتھ فالو اپ کررہے ہیں۔نرسنگ کالح کے لیے کرایے کی عمارت کے حوالے سے ڈی جی پی ایچ ایس اے, سی پی او پیلتھ نے بتایا کہ عمارت کے جلد از جلد انتظام کے حوالے سے سی پی او آفس ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے. اور عنقریب اس معاملے کو نمٹا لیا جایگا۔ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی کے سوموٹو پر چئیرمین قائمہ کمیٹی مشتاق احمد غنی نے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کی کہ اگلے اجلاس میں تمام بیان شدہ نکات پر پیش رفت سے کمیٹی اور ڈپٹی سپیکر آفس کو آگاہ کریں تاکہ اپر چترال کے عوام کی اس حوالے سے تکلیفات کا ازالہ ہو اور انکے تحفظات دور ہوسکیں.. اجلاس میں سابقہ فاٹا اضلاع میں صحت کے ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ، پیرامیڈیکل اسٹاف کی خالی اسامیوں، اقلیتی کوٹہ اور مختلف توجہ دلاؤ نوٹسز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ محکمہ صحت نے وضاحت دی کہ پیرامیڈیکل اسٹاف کی خالی اسامیوں کو جلد ترقی دے کر پُر کیا جائے گا، جبکہ اقلیتی برادری کے لیے دو فیصد کوٹہ پہلے ہی صوبائی کابینہ سے منظور شدہ ہے۔اجلاس میں رکن اسمبلی اورنگزیب خان کے توجہ دلاؤ نوٹس پر
متعلقہ ڈی پی او کے خلاف انکوائری کا حکم دیا گیا اور موقف اختیار کیا گیا کہ ملک سے باہر موجود فرد کے خلاف بلاجواز ایف آئی آر درج کرنا ناانصافی ہے، جس پر ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی جو 15 دن میں رپورٹ پیش کرے گی۔ سیٹلائٹ ہسپتال نقی کے معطل ایم ایس کے معاملے پر سیکرٹری صحت نے بتایا کہ ان کا تبادلہ جلد کیا جائے گا اور محکمانہ انکوائری جاری ہے۔ ریحانہ اسماعیل کے توجہ دلاؤ نوٹس پر محکمہ صحت نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ الٹراساونڈ فی میل سپیشلسٹ کی کمی کی وجہ سے رات کو ڈیوٹی میں میل الٹراساؤنڈ سپیشلسٹ کام کر رہے ہیں اس بابت میں فی میل سپیشلسٹ کے لیے اشتہار شائع کیا گیاہے اور فی میل الٹراساؤنڈ سپیشلسٹ کے کمی کا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا-چیئرمین قائمہ کمیٹی نے محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی کہ تیمرگرا میڈیکل کالج کے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) سے الحاق کے مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کی جانب سے تین سال کے لیے الحاق پر عائد پابندی کے باعث سرکاری خزانے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، کیونکہ مذکورہ میڈیکل کالج کے تدریسی و انتظامی عملے کی تنخواہیں باقاعدگی سے ادا کی جا رہی ہیں جبکہ کالج الحاق سے محروم ہے۔اجلاس کے دوران قائمہ کمیٹی نے ڈاکٹر وردہ کے بہیمانہ قتل کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ڈاکٹر وردہ کے لواحقین کے لیے معقول اور مناسب مالی معاوضے (کمپنسیشن) کا اعلان کریں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس جمعرات کو صوبائی اسمبلی کے سیکرٹیریٹ میں منعقد ہوا
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت محکمہ اعلیٰ تعلیم کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں نوتعینات سیکرٹری اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر اسرار نے محکمہ کی کارکردگی، جاری منصوبوں اور آئندہ اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت محکمہ اعلیٰ تعلیم کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں نوتعینات سیکرٹری اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر اسرار نے محکمہ کی کارکردگی، جاری منصوبوں اور آئندہ اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ انصاف فیمیل و آرپن ایجوکیشن کارڈ کے تحت محکمہ خزانہ کی جانب سے اب تک 325 ملین روپے کے فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ اس پروگرام کے تحت اب تک 55 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات مستفید ہو چکے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایجوکیشن کارڈ کے ذریعے طلبہ کو فیس کی مد میں نمایاں ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔
سیکرٹری اعلیٰ تعلیم نے بتایا کہ ڈگری کالجز کے لیے 2110 اسامیوں پر بھرتیوں کا اشتہار جاری کیا جا چکا ہے، جس کے لیے مجموعی طور پر 36,585 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ اسی طرح جامعات کے لیے مجموعی طور پر 10 ارب روپے کا فنڈ مختص کیا گیا ہے، جس میں سے دو مراحل میں اب تک 6.5 ارب روپے جامعات کو جاری کیے جا چکے ہیں۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ محکمہ اعلیٰ تعلیم کی ہدایت پر صوبے بھر میں چار روزگار میلے منعقد کیے گئے، جن میں مختلف کمپنیوں نے ایک ہزار سے زائد طلبہ کے انٹرویوز کیے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھس (STEM) ایجوکیشن میں اساتذہ کی استعداد بڑھانے کے لیے 341.58 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ اس پروگرام کے تحت 2250 ماسٹر ٹرینرز کو تربیت فراہم کی جائے گی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے صوبے بھر میں قائم عوامی لائبریریز کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ 250 ملین روپے کی لاگت سے 18 عوامی لائبریریز کی تزئین و آرائش کی جائے گی تاکہ طلبہ اور عام شہریوں کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔وزیر اعلیٰ تعلیم نے ایڈورڈز کالج کے پرنسپل سے متعلق مسئلے کے حل کے لیے بورڈ آف گورنرز (BOG) کے اجلاس کے انعقاد کے لیے فوری طور پر درخواست دینے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات، شفافیت اور طلبہ کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور ان اقدامات کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے۔
A meeting of the Cabinet Committee on Livestock, chaired by the Provincial Minister for Irrigation, Riaz Khan was held at the Livestock Department’s office in Peshawar
A meeting of the Cabinet Committee on Livestock, chaired by the Provincial Minister for Irrigation, Riaz Khan was held at the Livestock Department’s office in Peshawar. The meeting was attended by Secretary Livestock, Fisheries and Cooperatives Zarif Almani, Director General Livestock Extension Dr. Asal Khan and other senior officers. During the meeting, the proposed development initiatives of the Livestock Department were discussed in detail. On this occasion, Secretary Zarif Almani gave a comprehensive briefing to Provincial Minister Riaz Khan on the portfolio of the livestock sector. It is pertinent to mention that in the 40th Cabinet Committee meeting, two projects of the Livestock Department were referred to the Cabinet Committee on Livestock for further deliberation. Accordingly, Director General Livestock Dr. Asal Khan presented a detailed briefing on both projects which were thoroughly discussed by the committee members. Various aspects of the projects, including their objectives and expected benefits, were reviewed in depth. The members of the Cabinet Committee appreciated the initiatives taken by the Livestock Department; however they suggested certain procedural amendments to the proposed course of action, which were agreed to be incorporated into the PC-I. Addressing the meeting Provincial Minister for Irrigation Riaz Khan stated that under the leadership of the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa Muhammad Sohail Afridi the provincial government is taking serious and practical measures for the development of the livestock sector, the welfare of farmers and livestock breeders, and the overall economic strengthening of the province. He emphasized that all development projects must be completed in accordance with transparency, efficiency, and prescribed rules so that their benefits can reach the public directly.
KP Agriculture Department and FACE Sign MoU to Promote Agricultural Research, Modern Technology and Farmers’ Capacity Building
The Khyber Pakhtunkhwa Agriculture Department and the Food Security and Agriculture Center of Excellence (FACE) have signed a Memorandum of Understanding to promote agricultural research, the adoption of modern technology and the enhancement of farmers’ capacity. The MoU was signed by Secretary Agriculture Dr. Anbar Ali Khan on behalf of the Department of Agriculture and by COO Hasan Akram on behalf of FACE
Under the MoU, joint initiatives will be undertaken in Khyber Pakhtunkhwa to promote olive cultivation, improve olive model farms, address climate change impacts on agriculture and introduce modern agricultural practices. This collaboration will help align the province’s agricultural sector with contemporary requirements.
According to the agreement, the Research Wing of the Department of Agriculture will be transformed into a farmer-friendly, ICT-based agricultural system.
Agricultural training and farmer services will be digitized and it was agreed to further enhance service delivery based on evidence and evaluation.
It was also agreed that FACE will provide technical assistance for the training of departmental officers and field staff, the provision of modern agricultural technologies and equipment, the promotion of climate-smart agriculture, and improvements in data collection and capacity building.
Officials stated that the primary objective of this collaboration is to increase per-acre productivity of small and medium-scale farmers, improve farmers’ incomes, and promote sustainable, modern, and profitable agriculture in Khyber Pakhtunkhwa.
خیبرپختونخوا توانائی کے شعبے میں تیزی سے خود کفالت کی جانب گامزن ہے ، شفیع جان
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا توانائی کے شعبے میں تیزی سے خود کفالت کی جانب گامزن ہے صوبائی حکومت نے پیڈو کے ذریعے اپنے وسائل سے رواں سال 63 میگاواٹ کے حامل پن بجلی کے تین منصوبے مکمل کئے جن سے سالانہ صوبائی حکومت کو 4.4 ارب روپے آمدن ہوگی اپنے دفتر سے جاری بیان میں معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ وزیر اعلی سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت گورننس اور ترقیاتی کاموں میں دیگر صوبوں سے آگے ہے۔ بانی چیئرمین عمران خان کے ویژن کے مطابق توانائی کے شعبے میں تاریخی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ، صوبائی حکومت نے رواں سال63میگاواٹ کے تین اہم پن بجلی منصوبے 40.8میگاواٹ کوٹودیر،11.8میگاواٹ کروڑہ شانگلہ اور10.2میگاواٹ جبوڑی مانسہرہ کامیابی کے ساتھ مکمل کرلئے ، جبکہ مقامی لوگوں کو سستی اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی کے لئے چھوٹے چھوٹے پن بجلی منصوبوں پر بھی کام جاری ہے ، انھوں نے دیگر صوبوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دیگر صوبے صرف اعلانات تک کام کر رہے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ توانائی کے شعبے میں صوبائی حکومت نے انقلابی اقدامات کئے ہیں۔ صوبائی حکومت کا مٹلتان تا مدین تک 40 کلومیٹر ٹرانسمشن لائن بچھانے پر بھی کام جاری ہے جس سے صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کی جائے گی ۔ شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کی منتخب اور جمہوری حکومت قائم ہے،اگر وفاق گورنر راج لگانے کا شوق رکھتا ہے تو شوق سے لگا لے مگر اسے یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ خیبر پختونخوا میں عوامی مینڈیٹ کے تحت حکومت چل رہی ہے، وفاق اور پنجاب حکومت کی جانب سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو بانی چیئرمین عمران خان سے جیل میں بلاجواز ملاقات سے روکا جا رہا ہے، وزیر اعلیٰ کے وفاق کے ساتھ اتنے ہی ورکنگ ریلیشنز ہیں جتنے آئینی طور پر ہونے چا ہئے،انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی عدالتی احکامات کے تحت بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کے لیے دس مرتبہ اڈیالہ جیل گئے مگر ہر بار انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی بدقسمتی سے پنجاب حکومت اور اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ آئین، قانون اور واضح عدالتی احکامات کو تسلیم نہیں کر رہے،شفیع جان نے کہا کہ پنجاب حکومت کا یہ غیر جمہوری رویہ سیاسی انتقام اور کھلی فسطائیت کی عکاسی کرتا ہے۔ بانی چیئرمین عمران خان کو سیاسی انتقام کے تحت ناجائز طور پر قید میں رکھا گیا ہے، جبکہ اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان کی بہنوں، وکلا اور پارٹی قیادت پر واٹر کینن کا استعمال بھی کھلی فسطائیت کا ثبوت ہے،انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف کو طاقت کے زور پر دبانا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے دھاندلی کے ذریعے عوام کے ووٹ کے حق پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ دھاندلی، بدعنوانی اور بدترین طرز حکمرانی کے باعث مسلم لیگ (ن) اپنی عوامی مقبولیت کھو چکی ہے،
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس جمعرات کے روزصوبائی اسمبلی کے سیکرٹیریٹ میں منعقد ہوا
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس جمعرات کے روزصوبائی اسمبلی کے سیکرٹیریٹ میں منعقد ہوا.اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اور رکن صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین و ممبران صوبائی اسمبلی صوبیہ شاہد, سریش کمار, اورنگزیب خان, عسکر پرویز, اعجاز خان, اکرام غازی, ریحانہ اسماعیل, شیر علی افریدی, حامد الرحمن, عدنان خان کے علاوہ سیکرٹری صحت سمیت محکمہ صحت کے اعلی حکام, ڈی سی اپر چترال, ڈی ایچ او اپر چترال, محکمہ قانون, خزانہ, پی ایچ ایس اے, کے ایم یو اور صوبائی اسمبلی کے افسران نے شرکت کی۔ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی ثریا بی بی کے سوموٹو ایکشن کا کمیٹی نے جائزہ لیتے ہوئے الائیڈ سٹاف کی خالی اسامیوں کو پر نہ کرنے پر ایڈیشنل ڈی جی ہیلتھ اور ڈی ایچ او نے بتایا کہ ان خالی اسامیوں کو عنقریب پر کرلیا جایگا. کیٹگری سی ہسپتال بونی میں گائیناکالوجسٹ کی تقرری پر سپیشل سیکرٹری ہیلتھ نے بتایا کہ 22 دسمبر کو گائنی ڈاکٹر کی تعیناتی کی جائے گی کیٹگری سی ہسپتال بونی میں دوائیوں اور آلات کی دستیابی پر ڈی ایچ او اپر چترال نے کمیٹی کو بتایا کہ ہسپتال میں ضرورت کے مطابق آلات و ادویات دستیاب ہیں.کیٹگری سی ہسپتال بونی کی اپگریڈیشن پر سپیشل سیکرٹری ہیلتھ نے اس معاملے کو سی پی او کے ساتھ اٹھانے اور رپورٹ کمیٹی کے اگلے اجلاس اور ڈپٹی سپیکر آفس جمع کرانے کا وعدہ کیا۔آر ایچ سی شاگرام کے حوالے سے سپیشل سیکرٹری ہیلتھ نے اگلے اجلاس میں حتمی رپورٹ جمع کرانے کا وعدہ کیا۔اپر چترال میں نرسنگ کالج کے قیام اور اس حوالے سے پیش رفت پر ڈی سی اپر چترال نے بتایا کہ وہ متعلقہ محکمہ, ایس ایم بی آر کے ساتھ فالو اپ کررہے ہیں۔نرسنگ کالح کے لیے کرائے کی عمارت کے حوالے سے ڈی جی پی ایچ ایس اے, سی پی او ہیلتھ نے بتایا کہ عمارت کے جلد از جلد انتظام کے حوالے سے سی پی او آفس ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے. اور عنقریب اس معاملے کو نمٹا لیا جایگا۔ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی کے سوموٹو پر چئیرمین قائمہ کمیٹی مشتاق احمد غنی نے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کیں کہ اگلے اجلاس میں تمام بیان شدہ نکات پر پیش رفت سے کمیٹی اور ڈپٹی سپیکر آفس کو آگاہ کریں تاکہ اپر چترال کے عوام کی اس حوالے سے تکلیفات کا ازالہ ہو اور انکے تحفظات دور ہوسکیں.. اجلاس میں سابقہ فاٹا اضلاع میں صحت کے ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ، پیرامیڈیکل اسٹاف کی خالی اسامیوں، اقلیتی کوٹہ اور مختلف توجہ دلاؤ نوٹسز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ محکمہ صحت نے وضاحت کی کہ پیرامیڈیکل اسٹاف کی خالی اسامیوں کو جلد ترقی دے کر پُر کیا جائے گا، جبکہ اقلیتی برادری کے لیے دو فیصد کوٹہ پہلے ہی صوبائی کابینہ سے منظور شدہ ہے۔اجلاس میں رکن اسمبلی اورنگزیب خان کے توجہ دلاؤ نوٹس پر متعلقہ ڈی پی او کے خلاف انکوائری کا حکم دیا گیا اور موقف اختیار کیا گیا کہ ملک سے باہر موجود فرد کے خلاف بلاجواز ایف آئی آر درج کرنا ناانصافی ہے، جس پر ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی جو 15 دن میں رپورٹ پیش کرے گی۔ سیٹلائٹ ہسپتال نقی کے معطل ایم ایس کے معاملے پر سیکرٹری صحت نے بتایا کہ ان کا تبادلہ جلد کیا جائے گا اور محکمانہ انکوائری جاری ہے۔ ریحانہ اسماعیل کے توجہ دلاؤ نوٹس پر محکمہ صحت نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ الٹراساونڈ فی میل سپیشلسٹ کی کمی کی وجہ سے رات کو ڈیوٹی میں میل الٹراساؤنڈ سپیشلسٹ کام کر رہے ہیں اس بابت میں فی میل سپیشلسٹ کے لیے اشتہار شائع کیا گیاہے اور فی میل الٹراساؤنڈ سپیشلسٹ کے کمی کا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا-
Provincial Minister for Health, Mr. Khaliq Ur Rehman, chaired an important meeting of Directors, Medical Superintendents (MSs) and Heads of Departments (HoDs)
Provincial Minister for Health, Mr. Khaliq Ur Rehman, chaired an important meeting of Directors, Medical Superintendents (MSs) and Heads of Departments (HoDs) of all major hospitals across Khyber Pakhtunkhwa to review healthcare services and discuss measures for further improvement in the public health sector.
During the meeting, the Health Minister issued clear and firm directions to all concerned heads, stating that officers who fail to perform their duties with commitment and responsibility will be relieved of their positions. He emphasized that public service is a sacred trust and must not be taken for granted. “We are all accountable to the people and it is our collective responsibility to serve them with honesty, dedication and integrity,” he added.
Mr. Khaliq Ur Rehman stated that the Health Department and the Provincial Government are continuously addressing challenges faced by hospitals by providing adequate funds, human resources and essential medical equipment. However, he stressed that without sincerity, dedication and professional ethics, meaningful progress and positive change cannot be achieved.
The Health Minister directed hospital heads to ensure strict transparency and establish strong monitoring mechanisms in their respective institutions so that there remains no room for corruption, negligence or mismanagement. He particularly emphasized that emergency units must be closely supervised and monitored round the clock, especially during night hours, to ensure uninterrupted and quality healthcare services for patients.
Highlighting the importance of professional conduct, the Minister said that the attitude and behavior of doctors and hospital administration play a vital role in patient care. He instructed all officials to ensure polite, respectful and compassionate behavior with patients, visitors and attendants, noting that soft behavior can significantly improve public trust and satisfaction.
Mr. Khaliq Ur Rehman also directed the concerned heads to maintain cleanliness and discipline in their hospitals, stating that a hygienic environment is an essential component of quality healthcare. He described hospital heads as the “eyes and ears” of the Health Department and said that active, vigilant and responsible administration can bring about substantial improvements in service delivery.
The Health Minister assured all participants of full financial, moral and administrative support from the Provincial Government in their efforts to elevate healthcare services to a level of excellence and public admiration. He also appreciated the positive changes and improvements observed in various hospitals since assuming office as Health Minister, while acknowledging that further efforts are required to bridge existing gaps and achieve optimal standards.
KP Accelerates Environmental Reforms, Eyes Climate Change Authority
Peshawar (PR): The Annual Development Program (ADP) schemes of the Khyber Pakhtunkhwa Environmental Protection Agency (KP EPA) came under review during a review meeting chaired by Mr. Junaid Khan, Secretary Climate Change, Forest, Environment & Wildlife Department, Khyber Pakhtunkhwa. The session focused on progress, challenges, and future direction of key environmental initiatives. Mr. Iqbal Hussain, Director General KP EPA, briefed the meeting on the status of various ADP schemes, while the Additional Secretary of the Department and senior EPA officers were also in attendance.
During the briefing, the Director General highlighted the successful introduction of Zig-Zag technology in the construction and operation of brick kilns across the province. He informed the meeting that 14 brick kilns have already been converted to the cleaner Zig-Zag system, with plans underway to further expand the initiative. He added that operating conditions have been reviewed and revised to make them more facilitative, encouraging kiln owners to voluntarily shift to environmentally friendly practices. Additionally, he shared that four environmental laboratories have been proposed at Hattar, Mardan, Swat, and Karak under the Strengthening and Capacity Building of EPA scheme.
Chairing the meeting, Secretary Environment Junaid Khan assured the KP EPA of the Department’s commitment towards the establishment of a KP Climate Change Authority. He directed the Director General to immediately initiate work on the feasibility study, along with drafting the roles and regulatory framework of the proposed authority, for submission to the Provincial Government. He noted that similar authorities are already operational in other provinces and emphasized that the Climate Change Authority would serve as a cornerstone institution for implementing the province’s Climate Change Policy and Action Plan, primarily through the regulatory arm of the Department, KP EPA.
Reaffirming institutional support, the Secretary pledged full backing to KP EPA in its mission to confront emerging environmental and climate challenges, stressing timely and decisive action to safeguard the province’s ecological future.
خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت پشاور میں حلقہ پی کے 25 بونیر میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا
خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت پشاور میں حلقہ پی کے 25 بونیر میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایکسین ایریگیشن بونیر، ایس ڈی او ایریگیشن بونیر، محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ بونیر اور محکمہ سی اینڈ ڈبلیو بونیر کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران متعلقہ افسران نے حلقہ پی کے 25 بونیر میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ مختلف سکیموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جبکہ درپیش مسائل اور ان کے ممکنہ حل پر بھی جامع تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت حلقہ پی کے 25 بونیر سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں آبپاشی کے نظام کی بہتری، مختلف محکموں میں ترقیاتی منصوبوں کے مؤثر نفاذ اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ حلقہ پی کے 25 بونیر میں محکمہ ایریگیشن بونیر، محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ بونیر اور محکمہ سی اینڈ ڈبلیو بونیر کے تحت جاری تمام منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے اور تعمیراتی معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات کے مطابق شفافیت، بروقت تکمیل اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے کہا کہ ضلع بونیر میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کی خواہشات اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر علاقے میں ترقیاتی منصوبے عوام کی دہلیز تک پہنچائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کا مقصد عوام کو ان کے اپنے علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے تاکہ لوگوں کو درپیش مسائل کا بروقت اور مؤثر حل ممکن بنایا جا سکے۔
وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور خیبر پختونخوا آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت پشاور میں جمعرات کے روز کابینہ کی کمیٹیوں کے اجلاس منعقد ہوئے
وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور خیبر پختونخوا آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت پشاور میں جمعرات کے روز کابینہ کی کمیٹیوں کے اجلاس منعقد ہوئے جس میں وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان,مشیر خزانہ مزمل اسلم نے شرکت کی جبکہ وزیر بلدیات و اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے زوم کے ذریعے شریک ہوئے، اس کے علاوہ کمیٹی اجلاسوں میں سیکرٹری محکمہ اسٹیبلشمنٹ سید ذوالفقار علی شاہ ، سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک ، محکمہ پی اینڈ ڈی،محکمہ داخلہ،کے پی ایچ اے، اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے بھی شرکت کی ۔اجلاس میں صوبے کے انتظامی ڈھانچے کی بہتری اور عوامی فلاح و بہبود کے حوالے سے اہم تجاویز زیر غور آئیں۔ اجلاس میں ضم اضلاع کے فاٹا دور کے ملازمین کی ریگولرائزیشن اور پروونشل پلاننگ سروسز کے امور زیر بحث آئے اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلوں کے تناظر میں مختلف تجاویز پر غور کیا گیا ۔ علاوہ ازیں، وزیر قانون کی صدارت میں منعقدہ کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں مردان رنگ روڈ (ای ڈبلیو این بائی پاس) کے لیے زمین کے حصول سے متعلق کیسز میں عدالتی ڈگری کی رقم کی فراہمی کے لیے لائحہ عمل طے کیا گیا تاکہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کے ذریعے عوامی منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔ اسی طرح، تعلیمی سال 2025-26 کے لیے میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں ضم اضلاع کے طلبہ کے لیے مختص کوٹہ پالیسی پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ وزیر قانون نے واضح کیا کہ ضم اضلاع کے باصلاحیت نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے اور اس حوالے سے کوٹہ پالیسی کو شفافیت اور زمینی حقائق کی بنیاد پر حتمی شکل دے کر منظوری کے لیے صوبائی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔کابینہ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے ایک اور اہم اجلاس میں “خیبر پختونخوا پوسٹنگ اور ٹرانسفر پالیسی 2025” کا جائزہ لیا گیا، جو گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت وضع کی گئی ہے۔ نئی پالیسی میں تعیناتی کی مدت، اپیلوں کے طریقہ کار اور روٹیشن پالیسی سمیت دیگر انتظامی امور سے متعلق اقدامات شامل ہیں، جس پر وزیر قانون نے اسے خود مختار اداروں میں بھی نافذ کرنے اور جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت جاری کی۔
