خیبرپختونخوا حکومت نے بہار 2026 کے دوران احساس شجرکاری مہم کے تحت صوبے بھر میں 2 کروڑ 8 لاکھ (20.8 ملین) پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ اقدام سابق وزیرِاعظم عمران خان کے سرسبز پاکستان وژن کے تسلسل میں اٹھایا جا رہا ہے۔
محکمہ جنگلات کے مطابق مجموعی ہدف میں سے 55 لاکھ (5.5 ملین) پودے صوبے کے مختلف مقامات پر لگائے جائیں گے، جبکہ 1 کروڑ 53 لاکھ (15.3 ملین) پودے کسانوں، سول سوسائٹی، سرکاری و غیر سرکاری اداروں اور تعلیمی اداروں کو مفت فراہم کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ شجرکاری کو فروغ دیا جا سکے۔
رواں سال کی شجرکاری مہم کی ایک منفرد خصوصیت یومِ پاکستان، 23 مارچ 2026 کے موقع پر ایک دن میں 10 لاکھ سے زائد پودے لگانے کا ہدف ہے۔ اس دن محکمہ جنگلات کی جانب سے 9 لاکھ 82 ہزار 417 پودے جبکہ تعلیمی اداروں اور سرکاری تنظیموں کی جانب سے 92 ہزار 732 پودے لگائے جائیں گے۔
حکام کے مطابق شجرکاری مہم کو مؤثر بنانے کے لیے ایک خصوصی موبائل ایپ بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے ذریعے شہری اپنے لگائے گئے پودے کی تصویر اپ لوڈ کرکے اس مہم میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس قومی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، ایک پودا ضرور لگائیں اور اس کی تصویر ایپ کے ذریعے شیئر کرکے سرسبز و شاداب خیبرپختونخوا کے خواب کو حقیقت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
اس سلسلے میں ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے کی۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ج) اور محکمہ جنگلات کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی ہدایت پر یومِ پاکستان (23 مارچ) کے موقع پر صوبے میں ایک ہی دن میں دس لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی وژن کے تحت صوبے کے جنگلاتی رقبے میں نمایاں اور پائیدار اضافہ کیا جائے گا۔ سیکرٹری محکمہ جنگلات نے بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے کے تمام اضلاع کو سرکاری نرسریوں سے پودوں کی ترسیل مکمل ہو چکی ہے،صبح سے باضابطہ آغاز کرتے ہوئے آخری پودا لگانے تک شجر کاری مہم جاری رہے گی، ریکارڈ شجر کاری مہم کی نگرانی کے لیے خصوصی سافٹ ویئر اور مرکزی کنٹرول سینٹر قائم کیاگیا ہے،شجر کاری کے تمام مراحل موبائل تصاویر اور لائیو ویڈیو کے ذریعے مرکزی کنٹرول روم کے ڈیش بورڈ پر مانیٹر ہوں گے،تمام سرکاری ادارے، تعلیمی ادارے، کمیونٹیز، سول سوسائٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شجر کاری مہم میں شریک ہوں گے۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے عوام کے نام اپیل میں کہا کہ عوام بھی اپنے حصے کا پودا ضرور لگائیں، سر سبز خیبر پختونخوا اور مضبوط پاکستان کے عزم کے ساتھ یہ مہم شروع کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ و دہشت گردی کے ماحول میں بھی صوبہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے احساس شجرکاری کے ذریعے مثبت ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے، اس مہم کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو 14 اگست کوبھی 14 لاکھ پودے لگانے کے ہدف کے لیے پوری منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت کی۔
حساس شجرکاری مہم: خیبرپختونخوا میں 2 کروڑ 8 لاکھ پودے لگانے کا ہدف* عید کے تیسرے روز اور 23مارچ کی مناسبت سے دس لاکھ پودے لگائے جائیں گے، خصوصی انتظامات مکمل
دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہا ہے، معاون خصوصی برائے اطلاعات
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے صوبائی وزیر خزانہ مزمل اسلم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی حالات اور توانائی کے موجودہ بحران کے پیش نظر خیبر پختونخوا حکومت کفایت شعاری کے لیے مثالی اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے کے غریب خاندانوں کو ریلیف دینے کے لیے 13 ارب روپے کا رمضان پیکج دیا، جس پر انتہائی شفاف انداز میں عملدرآمد کیا گیا اور پیکج کی سو فیصد رقم مستحقین تک پہنچا دی گئی ہے۔ اس پیکج سے 10 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوئے۔
شفیع جان نے کہا کہ بدقسمتی سے اپوزیشن حسبِ معمول عوامی ریلیف اقدامات پر سیاست کر رہی ہے۔ اگر کسی کے پاس رمضان پیکج میں بے ضابطگی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو وہ سامنے لائے جائیں۔ حکومت ہر قسم کا جواب دینے کے لیے تیار ہے کیونکہ شفاف طرزِ حکمرانی ہماری اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے ”احساس دسترخوان” سمیت دیگر ریلیف اقدامات بھی کیے، جن سے غرباء، مساکین اور مسافر بھرپور مستفید ہوئے۔ پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں ذاتی تشہیر کے لیے شروع کیا گیا رمضان دسترخوان پروگرام آخری عشرے میں بند کر دیا گیا۔
توانائی بحران پر گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ اس بحران نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے، تاہم وفاقی حکومت نے تیل کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ کر کے اس کا بوجھ عوام پر ڈال دیا، جس سے عوام مزید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاق اور دیگر صوبوں کے برعکس وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے 16 لاکھ رجسٹرڈ موٹر سائیکل مالکان کے لیے 2200 روپے امداد کا اعلان کیا۔ اسی طرح تھریشنگ سیزن میں کسانوں کو ریلیف دینے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور اس سلسلے میں کسانوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود بی آر ٹی کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا گیا تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے، جبکہ بی آر ٹی فلیٹ میں مزید بسیں شامل کی جا رہی ہیں، جن میں خواتین کے لیے پنک بسیں بھی شامل ہیں۔ اس کے برعکس پنجاب حکومت نے میٹرو کے کرایوں میں اضافہ کر کے عوام پر بوجھ بڑھایا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں قومی کفایت شعاری مہم کو نظرانداز کیا گیا اور حکمرانوں نے 11 ارب روپے کا جہاز خریدا، جبکہ وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے حکمران عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے سیر و سیاحت میں مصروف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جہاز کے ویانا جانے کا معاملہ سب کے سامنے ہے، اگر یہ بے بنیاد ہے تو متعلقہ صحافی کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟
معاون خصوصی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت گڈ گورننس میں دیگر صوبوں سے آگے ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صوبہ فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہا ہے اور دیگر صوبوں کے لیے ایک شیلڈ کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی بدولت دیگر صوبے محفوظ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے سی ٹی ڈی اور سپیشل برانچ کو مستحکم بنانے کے لیے 31 ارب روپے کا پیکج دیا ہے۔ ان اقدامات سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
خیبرپختونخوا ایک قدیم تہذیبی و ثقافتی ورثے کا امین صوبہ ہے، شفیع جان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان سے بدھ کے روز ان کے دفتر سول سیکرٹریٹ میں ڈائریکٹر آرکیالوجی ڈاکٹر عبدالصمد نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران صوبے میں آثار قدیمہ کے تحفظ، تاریخی مقامات کی بحالی، تزئین و آرائش، مذہبی سیاحت کے فروغ اور کوہاٹ میں میوزیم کے قیام سمیت دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈائریکٹر آرکیالوجی ڈاکٹر عبدالصمد نے معاون خصوصی کو کوہاٹ میں میوزیم کے قیام، صوبے میں تاریخی و مذہبی اہمیت کے حامل مقامات کے تحفظ اور ترقی کے حوالے سے بریفنگ دی۔اس موقع پر معاون خصوصی شفیع جان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا ایک قدیم تہذیبی و ثقافتی ورثے کا امین صوبہ ہے جہاں گندھارا تہذیب کے آثار سمیت تاریخ کے بیش بہا خزانے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان آثار قدیمہ کی حفاظت اور بحالی نہ صرف ہماری ذمہ داری ہے بلکہ یہ سیاحت کے فروغ اور معیشت کی بہتری کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔مذہبی سیاحت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بدھ مت اور سکھ مت کے ماننے والوں کے لیے متعدد مقدس مقامات موجود ہیں، جنہیں عالمی سطح پر اجاگر کرنے سے بین الاقوامی سیاحوں کی بڑی تعداد کو متوجہ کیا جا سکتا ہے ،شفیع جان نے کہا کہ کوہاٹ میں میوزیم کا قیام علاقے کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ طلبہ، محققین اور سیاحوں کے لیے ایک علمی و تحقیقی مرکز ثابت ہوگا۔ اس میوزیم میں مقامی تاریخ، نوادرات، ثقافتی ورثے اور آثار قدیمہ سے متعلق اشیاء کو محفوظ کیا جائے گا، جس سے نئی نسل کو اپنی تاریخ سے آگاہی حاصل ہوگی،انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت سیاحت کے فروغ کو اپنی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے اور مذہبی سیاحت کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور تاریخی سیاحت کے فروغ کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سیاحتی مقامات تک رسائی کو آسان بنانے، بنیادی سہولیات کی فراہمی، اور بین الاقوامی معیار کے مطابق انفراسٹرکچر کی بہتری پرخصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔معاون خصوصی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت اپنے تاریخی ورثے کے تحفظ، آثار قدیمہ کی بحالی اور مذہبی سیاحت کے فروغ کے ذریعے نہ صرف صوبے کی مثبت شناخت کو اجاگر کرے گی بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گی اور معیشت کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
خیبرپختونخوا کے وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے صوبے کے تمام بورڈز چیئرمین کو خصوصی ہدایت کی ہے کہ وہ 31 مارچ سے شروع ہونے والے میٹرک کے امتحان میں صوبے کے بچوں کو تمام تر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات اٹھائیں
خیبر پختونخوا کے وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے صوبے کے تمام بورڈز چیئرمین کو خصوصی ہدایت کی ہے کہ وہ 31 مارچ سے شروع ہونے والے میٹرک کے امتحان میں صوبے کے بچوں کو تمام تر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات اٹھائیں اور ہر ایک بورڈ اپنے اپنے اضلاع میں عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ایک پورٹل قائم کرے جس کے تحت امتحان کے حوالے سے بچوں کو درپیش مسائل اور شکایات کا حل کم وقت میں ممکن بنایا جاسکے اور اسی طرح سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم کے دفتر میں بھی ایک کنٹرول روم بنایا جائے۔یہ ہدایات انہوں نے بدھ کے روز پشاور میں آنے والے میٹرک کے امتحانات کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں اس موقع پر سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد خالد، سپیشل سیکرٹری افتخار علی خان جبکہ صوبے کے تمام اضلاع کے بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے چیئر مینوں نے آن لائن اجلاس میں شرکت کی اس موقع پر تمام اضلاح کے تعلیمی بورڈز کے چیئرمینوں نے اپنے اپنے اضلاع میں میٹرک کے امتحانات کی تیاری کے حوالے سے اقدامات کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں میٹرک کے امتحانات 100 فیصد شفاف نظام کے تحت ہوں گے اور ای پیپر اور ای مارکنگ کے لیے جدید سافٹ ویئر استعمال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ حساس امتحانی حالوں میں سکیورٹی کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔علاوہ ازیں جہاں پر طلبہ کو امتحانی حالوں تک جانے میں دشواری درپیش ہو تو بورڈز ان کے لیے ٹرانسپورٹ کا بندوبست بھی کریں گے۔اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ میٹرک کے امتحانی حالوں میں کیمرے لگائے جائیں گے اور انہیں نیٹ کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم نے تمام چیئرمین بورڈز کو ہدایت کی کہ میٹرک کے امتحان کا انعقاد کرنا ان کی ذمہ داری ہے اس لیے میٹرک کے امتحان کے عمل کو شفاف بنانے اور نقل کی روک تھام کرنے کے لیے بھر پوراقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ میٹرک کے امتحان میں موبائل فون کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی۔اور تمام بورڈز میں معائنہ ٹیم بنائی جائے تاکہ وہ اچھے طریقے سے امتحانات کی نگرانی کرے انہوں نے مزید کہا کہ میٹرک کے امتحان میں فل پروف نظام کے ذریعے انتظامات کیے جائیں جس سے بچوں کا قیمتی تعلیمی سال ضائع نہ ہو اور حکومت کی جانب سے سٹینڈرڈ اپریٹنگ پروسیجر کے گائیڈ لائن کے تحت امتحان صاف اور شفاف انداز میں لیا جائے۔
پشاور شہر میں محکمہ ایکسائز کی منشیات کے خلاف تازہ کاروائی
محکمہ ایکسائز وٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا نے پشاور شہر میں منشیات اسمگلنگ کی ایک بڑی کوشش ناکام بناتے ہوئے 76 ہزار 800 گرام چرس برآمد کر کے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی تھانہ ایکسائز پشاور ریجن کی ٹیم نے خفیہ اطلاع پر کرتے ہوئے منشیات لیجانے والی گاڑی کو تحویل میں لے لیا۔محکمہ ایکسائز سے موصولہ تفصیلات کے مطابق مذکورہ کاروائی تھانہ ایکسائز پشاور ریجن کی ٹیم نے ایچ گول چوک سے اسلام آباد جانے والی شاہراہ پر کی جسکی نگرانی ماجد خان ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر (کاؤنٹر نارکوٹکس آپریشنز) اور حمیداللہ سرکل آفیسر نے کی۔ ایس ایچ او تھانہ ایکسائز پشاور ریجن عماد خان کی سربراہی میں کی گئی کارروائی کے دوران گاڑی نمبر LEC-6325 کی تلاشی لینے پر 76 ہزار 800 گرام چرس برآمد کر لی گئی جبکہ دو ملزمان اجمل عباس ولد محمد امیر اور محمد سہیل ولد محمد علی ساکنان کبیر والا ضلع خانیوال کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔ ملزمان کے خلاف تھانہ ایکسائز پشاور ریجن میں مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
The Directorate General of Information & Public Relations urges all citizens to refrain from the dangerous practice of aerial firing.
What goes up, must come down. A bullet fired in the air can travel at lethal speeds and can kill or maim an innocent person when it lands. It is not a celebration; it is a criminal act that leads to tragic accidents.
Legal Action: Aerial firing is a serious offense. Violators will face strict legal consequences.
Let us protect our families, our children, and our communities. Spread happiness, not fear.
پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے ریڈیو پاکستان پشاور کا دوسرا اجلاس پیر کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا
پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے ریڈیو پاکستان پشاور کا دوسرا اجلاس پیر کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت رکن صوبائی اسمبلی ملک عدیل اقبال نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے ممبران اور اراکین صوبائی اسمبلی سمیع اللہ، طارق سعید، اصف مسعود، راشد خان اور احمد کنڈی نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ ایڈووکیٹ جنرل، محکمہ داخلہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام سمیت صوبائی اسمبلی کے متعلقہ افسران بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔یہ خصوصی کمیٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی ہدایت پر قائم کی گئی ہے۔ کمیٹی کے قیام کا مقصد ریڈیو پاکستان پشاور کے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانا اور اس سے متعلق حقائق کو منظر عام پر لانا ہے۔اجلاس کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے کمیٹی کو واقعے سے متعلق اہم پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی طور پر اس واقعے میں مجموعی طور پر 86 افراد کو ملوث قرار دیا گیا تھا، تاہم موجودہ مرحلے پر تحقیقات کا دائرہ محدود کرتے ہوئے صرف چھ افراد پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک عدالت میں پیش کی جانے والی ویڈیو فوٹیج مبینہ واقعے سے مکمل مطابقت نہیں رکھتیں، جس کے باعث شواہد کے حوالے سے مزید باریک بینی سے جانچ کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ایڈووکیٹ جنرل نے مزید بتایا کہ کیس کی پیش رفت کے لیے مستند ریکارڈ اور درست شناختی معلومات کا حصول ناگزیر ہے۔ اسی سلسلے میں عدالت نے ہدایت جاری کی ہے کہ معاملے میں مزید پیش رفت نادرا کے تعاون سے کی جائے گی تاکہ ملزمان کی درست شناخت اور دیگر متعلقہ تفصیلات کی تصدیق ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت تک ضروری معلومات اور ریکارڈ فراہم کیے جائیں تاکہ تحقیقات کو شفاف اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔اجلاس کے دوران کمیٹی کے اراکین نے واقعے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جبکہ دستیاب شواہد، رپورٹس اور متعلقہ دستاویزات پر بھی غور کیا گیا تاکہ واقعے کی مکمل تصویر واضح کی جا سکے۔ کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کی درست نشاندہی کی جائے گی اور مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اور قابلِ عمل سفارشات مرتب کی جائیں گی۔اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا تاکہ سرکاری املاک اور ریاستی اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جامع حکمت عملی وضع کی جا سکے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تحقیقات کا بنیادی مقصد حقائق تک رسائی حاصل کرنا ہے تاکہ اس واقعے میں ملوث اصل عناصر کی درست نشاندہی کی جا سکے اور کسی بھی بے گناہ شخص کو اس معاملے میں بلاوجہ شامل نہ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے کمیٹی ایک غیر جانبدار اور شفاف فیکٹ فائنڈنگ عمل کے تحت تمام دستیاب شواہد اور معلومات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ حقائق کی بنیاد پر نتائج اخذ کیے جا سکیں۔
بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقاتوں پر غیر اعلانیہ پابندی عائد ہے، شفیع جان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ وفاقی اور پنجاب حکومت نے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے فیملی، وکلا اور سیاسی قیادت کی ملاقاتوں پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود کسی کو بھی عمران خان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ یہاں سے جاری ایک بیان میں شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے پاس اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات موجود ہیں جن کے تحت ان کی بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات طے ہے تاہم بدقسمتی سے اڈیالہ جیل کا سپرنٹنڈنٹ اتنا بااختیار بن چکا ہے کہ نہ وہ آئین کو مانتا ہے نہ قانون کو اور نہ ہی عدالتی احکامات کو۔ انہوں نے کہا کہ جب اس معاملے پر سپرنٹنڈنٹ کے خلاف عدالت میں توہین عدالت کی پٹیشن دائر کی گئی تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ پٹیشن بھی سماعت کے لیے مقرر نہیں کی جا رہی۔انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل پنجاب حکومت کے زیر انتظام ہے اور اس کا سپرنٹنڈنٹ پنجاب حکومت کا ماتحت ملازم ہے، یہی وجہ ہے کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز سیاسی انتقام میں اندھی ہو چکی ہیں اور عمران خان سے ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔معاون خصوصی نے وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کے ساتھ روا رکھے گئے نامناسب رویے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاق نے عوام کے ووٹ سے منتخب خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور این ایف سی شیئرز میں بھی غیر مناسب اور امتیازی سلوک روا رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں خیبرپختونخوا کے لیے صرف 55 کروڑ روپے مختص کیے گئے جبکہ این ایف سی کی مد میں 4758 ارب روپے بھی صوبے کو فراہم نہیں کیے جا رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جانب ایک رپورٹ کے مطابق وفاق نے پنجاب حکومت کو ایک موٹروے کی تعمیر کے لیے 465 ارب روپے کے فنڈز فراہم کیے ہیں۔ پنجاب کے لیے خزانے کا منہ کھولنا اور خیبرپختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنا انتہائی افسوسناک ہے۔شفیع جان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی ترجیحات میں ملک کی ترقی نہیں بلکہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر ذاتی خواہشات کی تکمیل شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے 11 ارب روپے مالیت کا جہاز خرید کر اپنا شوق پورا کیا جبکہ وفاق میں کرپشن کا یہ عالم ہے کہ آئی ایم ایف نے بھی اپنی رپورٹ میں وفاق پر مسلط کرپٹ ٹولے کی 5300 ارب روپے کی کرپشن کی نشاندہی کی ہے جو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے لیے باعثِ شرمندگی ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر تنقید کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ وفاقی حکومت نے عوام پر پٹرول بم گرایا ہے اور عوام کی جیب پر 55 روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وفاقی وزراء کے مطابق ملک میں 28 دن کا پٹرول اسٹاک موجود ہے تو پھر عوام پر 55 روپے کا اضافی بوجھ کیوں ڈالا گیا؟انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا یہ اقدام غریب عوام پر ظلم کے مترادف ہے جسے پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت یکسر مسترد کرتی ہے۔
خیبرپختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمان نے آج خیبر میڈیکل کالج میں انصاف ڈاکٹرز فورم کے زیر اہتمام منعقدہ افطار ڈنر کی تقریب میں شرکت کی
خیبرپختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمان نے آج خیبر میڈیکل کالج میں انصاف ڈاکٹرز فورم کے زیر اہتمام منعقدہ افطار ڈنر کی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں رکن قومی اسمبلی خرم ذیشان، رکن صوبائی اسمبلی ملک لیاقت، بڑے تدریسی ہسپتالوں کے بورڈ آف گورنرز کے اراکین، میڈیکل سپرنٹنڈنٹس، ہسپتال ڈائریکٹرز اور انصاف ڈاکٹرز فورم سے وابستہ ڈاکٹرز کی بڑی تعداد نےبھی شرکت کی۔ افطار ڈنر کا مقصد ڈاکٹر برادری اور حکومت کے درمیان روابط اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ اس موقع پر خواتین ڈاکٹرز کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔
تقریب کے اختتام پر ایک مختصر مگر باوقار خطاب سیشن منعقد ہوا جس میں ڈاکٹرز اور پارلیمنٹرینز نے شرکاء سے خطاب کیا۔ انصاف ڈاکٹرز فورم کے صدر ڈاکٹر نبی جان نے اپنے خطاب میں ڈاکٹرز برادری کے بعض مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ انصاف ڈاکٹرز فورم نے ہر مشکل وقت میں صوبائی حکومت کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور نوجوان ڈاکٹرز نے صحت کی خدمات کی فراہمی میں بے مثال جذبہ اور لگن کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دیگر صوبوں کی طرح ڈاکٹرز کی تنخواہوں میں اضافہ اور مراعات فراہم کی جائیں تاکہ وہ مزید بہتر انداز میں عوام کی خدمت کر سکیں۔صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے اپنے خطاب میں ڈاکٹرز برادری کو یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت ڈاکٹرز کے تمام جائز حقوق کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور آئندہ بھی ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کا پیشہ نہایت مقدس اور ذمہ داری سے بھرپور ہے، لہٰذا ڈاکٹرز کو چاہیے کہ وہ مریضوں کے ساتھ ہمدردی، شائستگی اور حسنِ سلوک کا مظاہرہ کریں کیونکہ مریض تکلیف کی حالت میں ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔وزیر صحت نے مزید کہا کہ صحت کے شعبے میں اصلاحات کے لیے حکومت جامع اصلاحاتی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے جس میں خاص طور پر بنیادی اور ثانوی سطح کی صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر کو مؤثر بنایا جائے تو بڑے ہسپتالوں پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے اور اس کے عوامی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ صحت سہولت پروگرام کے تحت عوام کو معیاری علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جو کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا عوام کے لیے ایک بڑا تحفہ اور بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر صحت نے تمام ڈاکٹرز کا شکریہ ادا کیا، انصاف ڈاکٹرز فورم کی حکومت کے ساتھ تعاون کو سراہا اور عمران خان کی صحت و سلامتی کے لیے دعا بھی کی۔
Good Governance Agenda: Key Decisions to Improve Public Services
An important meeting was held under the chairmanship of Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah, to review progress on the good governance reform agenda aimed at improving public service delivery. Several key decisions were taken during the meeting.
The meeting was informed that, on the directives of the Chief Minister, all departments are actively implementing the good governance agenda in an effective manner.
To promote tourism and improve the communication network, work on Swat Motorway Phase-II has formally commenced, and its inauguration is expected soon.
Meanwhile, master planning for major tourist destinations including Galiyat, Kumrat, Kalam, and Kalash is underway. Officials stated that this planning will ensure environmental protection, promote sustainable tourism, and help prevent unplanned construction in these areas.
The meeting was also informed that the New General Bus Stand project in Peshawar is in its final stages of completion. Upon completion, all bus terminals in the city will be shifted to the new facility, which will significantly help ease traffic congestion.
In the health sector, recruitment of medical officers has been initiated in districts facing a shortage of doctors. A total of 2,400 medical officers are being hired to ensure uninterrupted provision of healthcare services to the public.
The Chief Secretary directed the concerned authorities to further expedite the pace of implementation on all projects and ensure timely completion of public welfare initiatives.
