Home Blog Page 170

On the directives of the Provincial Minister for Higher Education and Local Government, Meena Khan Afridi, the Higher Education Department of Khyber Pakhtunkhwa has constituted a Grievance Redressal Committee to ensure transparency in the recruitment of Visiting Lecturers.

On the directives of the Provincial Minister for Higher Education and Local Government, Meena Khan Afridi, the Higher Education Department of Khyber Pakhtunkhwa has constituted a Grievance Redressal Committee to ensure transparency in the recruitment of Visiting Lecturers.

According to an official notification, the committee has been formed to examine and resolve complaints submitted by candidates regarding the ongoing recruitment process being conducted on a semester and credit-hour basis. The initiative aims to promote merit, fairness, and accountability in temporary hiring across the province.

The Grievance Redressal Committee will be headed by the Special Secretary, Higher Education Department, and includes the Additional Secretary (Colleges), Director General Education, and other senior officers as members. The committee will scrutinize all complaints, verify facts, and submit its findings and recommendations to the competent authority for appropriate action.

Candidates who have grievances related to the recruitment process are advised to submit their written complaints on or before December 26, 2025. No complaints will be entertained after the stipulated deadline.

To facilitate applicants, complaints may be submitted through multiple channels, including email, WhatsApp, and telephone. The contact details provided are:
Phone: 091-9214110
Mobile/WhatsApp: 0318-9119778
Email: complain@hed.gkp.pk
Speaking on the occasion, Provincial Minister Meena Khan Afridi stated that zero tolerance will be exercised against favoritism, corruption, and nepotism in the recruitment of lecturers. He emphasized that ensuring transparency and merit-based appointments in the education sector remains a top priority of the provincial government.

خیبر پختونخوا میں خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے چار اہم کمیٹیاں قائم

خیبر پختونخوا کمیشن ان دے سٹیٹس آف وومن نے خواتین کے حقوق، بچوں کے تحفظ اور صنفی تشدد کی روک تھام کے لیے قوانین، پالیسیوں اور معاون نظام کو مضبوط بنانے کی غرض سے سال 2026 تا 2030 کے لیے چار اہم کمیٹیاں قائم کر دی ہیں۔چائلڈ میرج لیجسلیشن کمیٹی کم عمری کی شادی سے متعلق مجوزہ قانون کو حتمی شکل دینے کے لیے رہنمائی فراہم کرے گی۔ کمیٹی صوبائی اسمبلی سے قانون کی منظوری، اور پارلیمانی فورمز، سول سوسائٹی اور تکنیکی اداروں کے ساتھ مل کر آگاہی اور وکالت کی حکمتِ عملی تیار کرے گی۔”خواتین کی جائیداد اور وراثتی حقوق سے متعلق کمیٹی” خواتین کی جائیداد اور وراثت کے تحفظ کے لیے قانونی اور انتظامی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے قائم کی گئی ہے۔ یہ کمیٹی عملدرآمد میں درپیش مسائل کا جائزہ لے گی، ریونیو، رجسٹریشن اور عدالتی اداروں کے ساتھ بہتر رابطہ کاری کے لیے تجاویز دے گی اور خواتین کو وراثتی حقوق تک بہتر رسائی کے لیے آگاہی مہمات کی سفارشات مرتب کرے گی۔”خواتین بااختیاری پالیسی کی تکنیکی کمیٹی” صوبے کے لیے ایک جامع، حقائق پر مبنی اور قابلِ عمل خواتین بااختیاری پالیسی کی تیاری میں رہنمائی فراہم کرے گی۔ کمیٹی پالیسی مسودات کا جائزہ لے گی، مختلف موضوعات پر سفارشات کی توثیق کرے گی اور حکومتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور سول سوسائٹی کے ساتھ رابطہ کاری کو یقینی بنائے گی۔”صنفی تشدد سے متاثرہ افراد کے لیے مربوط صوبائی ہیلپ لائن کی تکنیکی کمیٹی” خواتین اور صنفی تشدد سے متاثرہ افراد کے لیے ایک مشترکہ اور صوبہ بھر میں فعال ہیلپ لائن کے قیام پر کام کرے گی۔ کمیٹی موجودہ ہیلپ لائنز کا جائزہ لے گی، مربوط نظام کی سفارش کرے گی، متاثرہ افراد کے لیے معیاری سہولیات, آسان ٹول فری نمبر جیسے اقدامات کے لئے سفارشات مرتب کرے گی اور خدمات کے انضمام کے لیے مرحلہ وار منصوبہ تیار کرے گی۔کے پی سی ایس ڈبلیو کی چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرہ شمس نے کہا کہ ان کمیٹیوں کا قیام خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ، قانونی نظام کو مضبوط بنانے، انصاف اور سہولیات تک رسائی بہتر بنانے اور صوبے میں صنفی مساوات کے فروغ کے لیے کمیشن کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کمیٹیوں میں مختلف شعبوں کے ماہرین، صوبائی اسمبلی کے اراکین اور متعلقہ محکموں کے نمائندے شامل کیے گئے ہیں، جو باقاعدگی سے اجلاس منعقد کر کے اپنی سفارشات تیار اور حتمی شکل دیں گے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ارشد ایوب خان منگل کے روز بڈبیر، پشاور گئے جہاں انہوں نے سابق گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان سے ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کی

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ارشد ایوب خان منگل کے روز بڈبیر، پشاور گئے جہاں انہوں نے سابق گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان سے ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کی۔اس موقع پر ارشد ایوب خان نے مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرحومہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس دکھ کی گھڑی میں وہ شاہ فرمان اور ان کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ارشد ایوب خان نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو یہ صدمہ صبر و حوصلے سے برداشت کرنے کی توفیق دے۔

خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی صوبہ بھر میں کارروائیاں، سینکڑوں کلوگرام غیر معیاری ومضر صحت کیچپ پکڑ کر تلف، جرمانے عائد

خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی ٹیموں نے مختلف اضلاع میں غیر معیاری اور مضر صحت خوراک کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے پشاور اور ہری پور میں بڑی مقدار میں ناقص اور ایکسپائر اشیاء ضبط کر کے تلف کر دیں۔کاروائیوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے ترجمان فوڈ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ پشاور میں فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی ٹاؤن-1 ٹیم نے ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ پھندو روڈ پر مشترکہ کارروائی کی اور ایک گودام پر چھاپہ مارا، جہاں سے 1500 کلوگرام مختلف اقسام کا غیر معیاری خوردنی سامان برآمد کیا گیا۔ برآمد شدہ اشیاء میں سب اسٹینڈرڈ کیچپ، ایکسپائر کیمیکلز اور دیگر مضر صحت خوراک شامل تھی۔ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔اسی طرح ہری پور میں فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے حطار انڈسٹریز اسٹیٹ میں واقع کیچپ تیار کرنے والی ایک فیکٹری کے خلاف کارروائی کی۔ کارروائی کے دوران 750 کلوگرام غیر معیاری و ایکسپائر کیچپ پلپ اور 80 کلوگرام غیر معیاری سرکہ برآمد کیا گیا، جو تیاری کے عمل میں استعمال ہونا تھا۔ فوڈ سیفٹی ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے غیر معیاری اشیاء کو موقع پر ہی تلف کر دیا جبکہ فیکٹری مالکان پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے کامیاب کاروائیوں پر ٹیموں کو سراہا اور کہا کہ عوام کو غیر معیاری اور مضر صحت خوراک فراہم کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ خوراک کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے فوڈ سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

پشاور یونیورسٹی میں ماحولیاتی تحفظ میں نوجوانوں کے کردار پر دو روزہ سمپوزیم

یونیورسٹی آف پشاور میں دو روزہ سمپوزیم”یوتھ فار کلائمٹ ایکشن: ایمپاور، اینگیج، اینڈیور” کے موقع پر ماہرین نے نوجوانوں کو ماحولیاتی تحفظ میں قائدانہ کردار دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ سمپوزیم شعبہ کرمنالوجی نے کمیونٹی ورلڈ سروس ایشیا، پاکستان پارٹنرشپ انیشی ایٹو اور یونیورسٹی آف پشاور اسٹوڈنٹس سوسائٹیز کے اشتراک سے بزنس انکیوبیشن سینٹر، یونیورسٹی آف پشاور میں منعقد کیا۔سمپوزیم کے مہمانِ خصوصی وائس چانسلر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر جہانزیب خان تھے۔ انہوں نے نوجوانوں کے سماجی کردار، بے چینی، قوانین پر کمزور عملدرآمد اور شناخت کے بحران پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوامل نوجوانوں کی ماحولیاتی ذمہ داری میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر نعیم قاضی، پرو وائس چانسلر یونیورسٹی آف پشاور نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے فرد کی سطح پر ذمہ داری اپنانے پر زور دیا اور سالانہ شجرکاری مہمات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ڈائریکٹوریٹ آف اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز کے ایڈیشنل سیکرٹری سید عبداللہ شاہ نے ماحولیاتی تحفظ کو مذہبی اور سماجی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے بتایا کہ نظرثانی شدہ یوتھ پالیسی میں تعلیم، روزگار، شمولیت اور ماحولیات کو چار بنیادی ستونوں کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین ڈاکٹر انور عالم نے نوجوانوں میں موسمیاتی چیلنجز اور ماحولیاتی برداشت سے متعلق شعور پر گفتگو کی۔ماحولیاتی تبدیلی کے ماہر اور سابق ڈائریکٹر شعبہ? ماحولیاتی علوم ڈاکٹر حزب اللہ نے موسمیاتی تبدیلی، فضائی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسز کے درمیان تعلق پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ون بلین ٹریز سونامی، گرین کیریئر لانچ پیڈ اور گرین گروتھ انیشی ایٹو جیسے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تحقیق کی کمی اور موجودہ تحقیق کی عوام تک محدود رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ڈائریکٹر ماحولیاتی تحفظ ایجنسی خیبر پختونخوا حبیب جان نے کہا کہ مثبت رویوں میں تبدیلی کے لیے ذمہ داری اور احساسِ ملکیت ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کو پالیسی سازی میں مرکزی کردار دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ماحولیاتی مسائل کے حل، فنڈنگ کی ضرورت، گرین کاروبار، کچرے کے بہتر انتظام اور پانی کے تحفظ پر بھی بات کی۔سمپوزیم کے دوران پینل ڈسکشن کی نظامت ڈاکٹر مشتاق احمد جان، اسسٹنٹ پروفیسر، سینٹر فار پری پیئرڈنس اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ، یونیورسٹی آف پشاور نے کی، جس میں نوجوانوں کے موسمیاتی بحران سے نمٹنے میں کردار پر گفتگو کی گئی۔سینئر صحافی کاشف سید نے اپنے ذاتی تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنے آبائی علاقے میں 500 درخت لگائے اور یونیورسٹی آف پشاور میں بھی شجرکاری مہمات کی قیادت کی، اور عملی سطح پر انفرادی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔بزنس انکیوبیشن سینٹر کے فوکل پرسن ڈاکٹر شکیل خان نے نوجوانوں کو قومی ترقی کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آگاہی اور مؤثر نوجوانوں کی قیادت میں منصوبوں کے ذریعے انہیں متحرک کیا جانا چاہیے۔اختتامی کلمات میں شعبہ? کرمنالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر بشارت حسین نے مہمانوں، مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کا آغاز فرد کی اپنی ذمہ داری سے ہوتا ہے۔ آخر میں شیلڈ تقسیم کی گئی اور گروپ فوٹو کے ساتھ سمپوزیم اختتام پذیر ہوا۔

صوبائی حکومت اقلیتی برادری کے حقوق کے تحفظ، ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے تاریخی اقدامات اٹھا رہی ہے، شفیع جان

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اقلیتی برادری کے حقوق کے تحفظ، ان کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے تاریخ ساز اقدامات اٹھا رہی ہے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبے کی اقلیتی برادری کے لئے 86 کروڑ روپے کے ترقیاتی پیکیج کی منظوری دی ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے فوکل پرسن برائے اقلیتی امور وزیر زادہ کے ہمراہ ایک ویڈیو پیغام میں کیا ہے، معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت اقلیتوں کی تعلیم، روزگار کی فراہمی اور عبادت گاہوں کی بہتری کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے اس سلسلے میں وزیر اعلی نے 86 کروڑ روپے کے لاگت سے ترقیاتی پیکیج کی منظوری دی ہے، انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اقلیتی طلبہ کے لئے میٹرک سے پی ایچ ڈی تک سکالرشپس کی مد میں 8 کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے جبکہ اقلیتی نوجوانوں کے لئے سی ایس ایس اور پی ایم ایس جیسے مقابلے کے امتحانات کی تیاری اور سکلز ٹریننگ کے لئے 20 کروڑ روپے منظور کئے گئے ہیں،شفیع جان نے کہا کہ مذہبی ہم آہنگی، کمیونٹی ایکسچینج پروگرامز اور اقلیتوں کے مذہبی تہواروں کے انعقاد کے لئے 30 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں، اسی طرح ضم اضلاع میں عبادت گاہوں کی تزئین و آرائش کے لئے 10 کروڑ روپے جبکہ بندوبستی اضلاع میں عبادت گاہوں کی مرمت اور بہتری کے لیے 7 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ شمشان گھاٹ اور قبرستانوں کی مرمت و بحالی کے لیے 10 کروڑ روپے منظور کئے گئے ہیں، اقلیتی برادری کے لیے جاری دیگر منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے شفیع جان نے بتایا کہ عبادت گاہوں اور اقلیتی کالونیوں کی تعمیر و بحالی کے منصوبوں پر 41 کروڑ روپے کی لاگت سے کام جاری ہے، جو صوبائی حکومت کے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے پختہ عزم کا ثبوت ہے،معاون خصوصی نے کہا کہ تمام تعلیمی اداروں میں اقلیتی طلبہ کے لیے 2 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے جبکہ سرکاری محکموں میں اقلیتوں کے لیے 5 فیصد ملازمتوں کے کوٹے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہتر طرز حکمرانی میں خیبر پختونخوا دیگر صوبوں سے آگے ہے،اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے فوکل پرسن برائے اقلیتی امور وزیر زادہ نے اقلیتوں کے لئے ترقیاتی پیکج کی منظوری اور خطیر فنڈز مختص کرنے پر وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی اور صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان اقدامات سے صوبے کی اقلیتی برادری بھرپور انداز میں مستفید ہوگی۔

وزیر برائے اعلی تعلیم و بلدیات مینا خان افریدی کی ہدایت پر وزٹنگ لیکچررز بھرتی عمل میں شفافیت کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی

خیبرپختونخوا ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے عارضی بھرتیوں سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے کمیٹی قائم کر دی
سمسٹر / کریڈٹ آورز پر جاری بھرتیوں کے عمل پر امیدواروں کی شکایات سنی جائیں گی۔ اعلامیہ جاری
گریوینس ریڈریسل کمیٹی کی سربراہی اسپیشل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کریں گے۔ اعلامیہ
کمیٹی میں ایڈیشنل سیکرٹری کالجز، ڈی جی ایجوکیشن اور دیگر سینئر افسران شامل ہیں۔
امیدوار بھرتیوں سے متعلق تحریری شکایات 26 دسمبر 2025 تک جمع کرا سکیں گے۔ اعلامیہ
مقررہ تاریخ کے بعد کوئی شکایت قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ اعلامیہ
شکایات ای میل، واٹس ایپ اور فون کے ذریعے جمع کرانے کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے۔
کمیٹی شکایات کی جانچ کے بعد مجاز اتھارٹی کو سفارشات پیش کرے گی۔ اعلامیہ
شکایات کے لیے فون نمبر 0919214110، موبائل فون نمبر 03189119778 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
شکایت کنندہ ای میل complain@hed.gkp.pk پر بھی رابطہ کر سکتا ہے۔
لیکچررز بھرتی میں سفارش، کرپشن اور اقربا پروری کی روک تھام اولین ترجیح ہے۔ وزیر برائے اعلی تعلیم مینا خان افریدی

سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہداء کی گیارہویں برسی/ معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا شہداء کو خراج عقیدت

سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، شفیع جان

سانحے میں معصوم طلبہ، اساتذہ اور دیگر شہداء نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، شفیع جان

سانحہ آرمی پبلک سکول ہماری قومی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش اور المناک باب ہے، شفیع جان

گیارہ سال قبل آرمی پبلک سکول میں دہشتگردوں کی ظلم و بربریت کو آج بھی نہیں بھولے، شفیع جان

سانحہ آرمی پبلک سکول کے زخم آج بھی ہمارے سینوں میں تازہ ہیں، شفیع جان

صوبائی حکومت آج بھی شہداء کے لواحقین کے دکھ اور غم میں برابر کی شریک ہے، شفیع جان

سانحہ اے پی ایس نے قوم کو یکجا کیا اور دہشتگردی کے خلاف قومی عزم کو مزید مضبوط بنایا، شفیع جان

بندوق کے مقابلے میں قلم کی طاقت پر یقین ہمارا قومی عزم ہے، شفیع جان

دہشتگردی کے خاتمے کے لیے حکومت اور قوم متحد ہیں، شفیع جان

صوبائی حکومت قیام امن کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے، شفیع جان

وزیر اعلیٰ سہیل افریدی نے صوبے میں قیام امن کے لئے “خیبر پختونخوا امن جرگہ” منعقد کیا، شفیع جان

امن جرگہ میں تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز نے 15 نکاتی اعلامیہ منظور کیا،شفیع جان

امن کا قیام صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے، شفیع جان

معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان سے وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے فوکل پرسن برائے اقلیتی امور وزیرزادہ کی اقلیتی برادری وفد کے ہمراہ ملاقات

اقلیتوں کی تعلیم، روزگار اور عبادت گاہوں کی بہتری کے لیے تاریخ ساز اقدامات کیے جا رہے ہیں،شفیع جان

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اقلیتی برادری کے لئے 86 کروڑ روپے کے خطیر فنڈز کی منظوری دیدی،شفیع جان

اقلیتی طلبہ کے لیے میٹرک سے پی ایچ ڈی تک اسکالرشپس کی مد میں 8 کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے، شفیع جان

اقلیتی نوجوانوں کےمقابلے کے امتحانات کی تیاری اور اسکلز ٹریننگ کے لیے 20 کروڑ روپے منظور کیے گئے، شفیع جان

مذہبی ہم آہنگی،کمیونٹی ایکسچینج پروگرامز، مذہبی تہواروں کے لیے 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے، شفیع جان

ضم شدہ اضلاع میں عبادت گاہوں کی تزئین و آرائش کے لیے 10 کروڑ روپے جاری کیے گئے،شفیع جان

بندوبستی اضلاع میں عبادت گاہوں کی مرمت و بہتری کے لیے 7 کروڑ روپے مختص کیے گئے، شفیع جان

شمشان گھاٹ اور قبرستانوں کی مرمت و بحالی کے لیے 10 کروڑ روپے منظور کیے گئے، شفیع جان

عبادت گاہوں اور اقلیتی کالونیوں کی تعمیر و بحالی کے منصوبوں پر 41 کروڑ روپے کی لاگت سے کام جاری ہے، شفیع جان

تمام تعلیمی اداروں میں اقلیتی برادری کے طلبہ کے لیے 2 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے، شفیع جان

سرکاری محکموں میں اقلیتوں کے لیے 5 فیصد ملازمتوں کے کوٹے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے، شفیع جان

بہتر طرز حکمرانی میں خیبر پختونخوا دیگر صوبوں سے آگے ہیں، شفیع جان

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا ملک گیر ٹرانسپورٹ ہڑتال سے متعلق اہم بیان

 متعدد کاروباری افراد نے رابطہ اور نشاندہی کی کہ کنٹینر ٹرانسپورٹ ہڑتال پر ہے۔ مزمل اسلم

آج ٹرانسپورٹ ہڑتال کا ساتواں دن ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

تمام بندرگاہ بشمول ڈرائی پورٹس اور ان تک نقل و حرکت مکمل طور پر بند ہے۔ مزمل اسلم

ملکی تجارت اور صنعت مفلوج ہو چکی ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

سرحد پار تجارت طورخم گزشتہ دو ماہ سے زائد عرصے سے رکی ہوئی ہے۔ مزمل اسلم

اندرونِ ملک سامان کی ترسیل بھی بند ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

اسلام آباد میں معیشت کے حوالے سے کسی قسم کی سنجیدگی محسوس نہیں کی جا رہی۔ مزمل اسلم

بے روزگاری اور معاشی خرابی کا دائرہ مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

آئینی ترامیم سے آگے سوچنے کی ضرورت ہے!! مزمل اسلم

انور خان خٹک اسسٹنٹ ڈائریکٹر/ پی آر او ٹو مشیر خزانہ خیبرپختونخوا