اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا نے سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال سیدوشریف سوات میں ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے غیرمعیاری میٹ ریس (فوم) فراہم کرنے والے ٹھیکیدار کے خلاف فوری اقدام کیا ہے۔ کارروائی کے دوران موقع پر 180 غیر معیاری میٹ ریس قبضہ میں لے لیے گئے جو پی سی ون کے معیار کے مطابق نہیں تھے۔یہ کارروائی شہری کی جانب سے ڈائریکٹوریٹ آف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ خیبرپختونخوا کو موصول ہونے والی شکایت پر عمل میں لائی گئی۔ شکایت میں الزام تھا کہ مذکورہ ٹھیکیدار نے پی سی ون کے مطابق میٹ ریس فراہم نہیں کیے بلکہ دیگر کمپنیوں کے غیرمعیاری میٹ ریس فراہم کیے جو کرپشن کے زمرے میں آتے ہیں۔شکایت پر انکوائری میں الزامات درست ثابت ہوئے اور یہ بات واضح ہوئی کہ ٹھیکیدار نے دانستہ طور پر قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔ٹھیکیدار کو ایک ہفتے کی مہلت دی گئی کہ وہ اپنی کوتاہی درست کرے اور ہسپتال کو پی سی ون کے مطابق معیاری 320 میٹ ریس فراہم کرے۔ واضح رہے کہ مقررہ مدت کے اندر اندر ٹھیکیدار نے معیار اور پی سی ون کے مطابق تمام میٹ ریس فراہم کر دیے۔
خیبر پختونخوا حکومت کا ماحول دوست اقدام
خیبر پختونخوا حکومت نے ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے ”کلائمیٹ ایکشن بورڈ (کیب) بل 2025ء” کی منظوری دے دی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے بتایا کہ یہ بل صوبے میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور مؤثر فریم ورک فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ کلائمیٹ ایکشن بورڈ ایک خودمختار مالیاتی ادارہ ہوگا جو نہ صرف تمام سرکاری محکموں کے درمیان ماحولیاتی حکمت عملی کی نگرانی اور ہم آہنگی کو یقینی بنائے گا بلکہ پالیسی سازی، تحقیق، اور کارکردگی کے جائزے جیسے اہم پہلوؤں پر بھی کام کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ بورڈ کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے بین الاقوامی اداروں، ماہرین اور نجی شعبے کے ساتھ اشتراک کرے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ بورڈ کے تحت ایک خصوصی ”کلائمیٹ ایکشن فنڈ” قائم کیا جائے گا، جو ماحولیاتی منصوبوں کی مالی معاونت کرے گا اور مقامی سطح پر ماحول دوست اقدامات کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی یہ کاوش بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے بعد دوسرا بڑا ماحولیاتی منصوبہ ہے، جس کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو کم کرنا اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلین ٹری پراجیکٹ کو بین الاقوامی ماحولیاتی اداروں کی جانب سے سراہا گیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا حکومت ماحولیاتی تحفظ کے میدان میں ایک مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔ بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ یہ بل نہ صرف پالیسی سازی میں شفافیت لائے گا بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف ایک مؤثر دفاعی نظام بھی قائم کرے گا۔ کلائمیٹ ایکشن بورڈ کی تشکیل سے صوبے میں ماحولیاتی شعور بیدار ہوگا اور عوامی سطح پر ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختون خوا حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے موثر اقدامات کررہی ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی موجودہ اور آنے والے وقت کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
صوبائی ہائی ویز پر اوورلوڈ گاڑیوں کی روک تھام کے لئے اقدامات بارے وزیر قانون خیبر پختونخوا ایڈوکیٹ آفتاب عالم کی زیر صدارت اہم اجلاس
وزیر قانون خیبر پختونخوا ایڈوکیٹ آفتاب عالم کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی ہائی ویز پر اوورلوڈ گاڑیوں کے تدارک اور ایکسِل لوڈ کنٹرول کے موثر نفاذ کے حوالے سے غور کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ کے معاونین خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات محمد سہیل آفریدی، معاون خصوصی صنعت عبد الکریم تورڈھیر، معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ حاجی رنگریز، سیکرٹری مواصلات و تعمیرات اور منیجنگ ڈائریکٹر پختونخوا ہائی وے اتھارٹی (PKHA) سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی.شرکاء نے اجلاس کے دوران اوورلوڈ گاڑیوں کے مسائل اور ان سے لاحق خطرات کے حوالے سے اپنی آرا پیش کیں۔معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ رنگریز نے تجویز دی کہ معدنیاتی علاقوں میں وزن چیک کرنے کے اسٹیشنز ذرائع پر ہی قائم کیے جائیں تاکہ ابتدا میں ہی کنٹرول ممکن ہو۔معاون خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات محمد سہیل آفریدی نے تجویز دی کہ نہ صرف بھاری گاڑیوں پر جرمانہ عائد کیا جائے بلکہ ان کا سامان بھی بھی ضبط کرکے نیلام کیا جائے تاکہ نظام میں حقیقی تبدیلی لائی جا سکے۔معاون خصوصی برائے صنعت عبدالقریم تورڈھیر نے کہا کہ اوورلوڈ گاڑیوں کے وزن چیک کرنے کا پورا نظام ڈیجیٹائز کیا جانا چاہیے تاکہ شفافیت اور کارکردگی میں بہتری آئے۔اجلاس کے آخر میں وزیر قانون ایڈوکیٹ آفتاب عالم نے تجویز دی کہ اوورلوڈ گاڑیوں پر موجودہ جرمانہ ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مواصلات، معدنیات اور ٹرانسپورٹ کے محکمے مل کر اوورلوڈنگ کے مسئلے پر مؤثر انداز میں قابو پا سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی گاڑیوں کے صرف جرمانے ہی نہیں بلکہ ان کے لائسنس بھی منسوخ کیے جائیں، اور 15 فیصد سے زائد اوورلوڈ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وزیر قانون نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد اپنی سفارشات اور عملی منصوبہ پیش کریں تاکہ صوبے کی سڑکوں کو نقصان سے بچایا جا سکے اور ٹریفک نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اینٹی کرپشن مصدق عباسی کی زیر صدارت اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا کی ماہانہ کھلی کچہری کا انعقاد
کھلی کچہری میں صوبے کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے سائلین نے اپنی شکایات پیش کیں۔
مشیر وزیراعلی مصدق عباسی نے کہا ہے کہ کرپشن ملک کا مجموعی مسئلہ ہے۔ پاکستان تحریک انصاف میرٹ و شفافیت پر یقین رکھتی ہے اور محکموں میں بدعنوانی کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھارہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی کے منتخب اراکین اسمبلی کے اختساب کے لیے انٹرنل اکاؤنٹبلٹی کمیٹی بنائی ہے۔ جس کی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ اینٹی کرپشن فورس بنانے کے لئے قانون سازی کررہے ہیں۔ جس سے ادارے کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا۔ ایک سال میں پانچ سے چھ ارب کی ریکوری کی ہے۔ بڑے کیسز کے لیے اسپشل انویسٹی گیشن ونگ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا کی ماہانہ کھلی کچہری کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ماہانہ کھلی کچہری میں سائلین نے محکمہ بلدیات، ریونیو، سماجی بہبود، صحت اور زکوٰۃ کے حوالے سے اپنی شکایات پیش کیں۔ ماہانہ کھلی کچہری کے سلسلے میں ڈائریکٹوریٹ آف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے علاؤہ ریجنل دفاتر میں بھی کھلی کچہریاں منعقدہ ہوئی۔ منعقدہ کچہریوں میں عوام نے مختلف محکموں کے حوالے سے شکایات پیش کیں۔ جن کو تفصیل سے سنا گیا اور ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔ کھلی کچہری میں مشیر وزیراعلی مصدق عباسی کا مزید کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا میں پچھلے دس سال میں اتنی ریکوری نہیں ہوئی جتنی ایک سال کے دوران ہوئی۔ محکمہ ریونیو میں بدعنوانی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر وزیراعلی مصدق عباسی کا کہنا تھا کہ لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کررہے ہیں جس سے بدعنوانی میں کمی آئی گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے حوالے سے اپنی شکایات اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا کے واٹس ایپ نمبر 03319988848، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے آن لائن پورٹل ”اختیار عوام کا” یا اپنی شکایات تحریری طور پراینٹی کرپشن خیبرپختونخوا میں جمع کرسکتے ہیں.
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختونیار خان نے کہا ہے کہ
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختونیار خان نے کہا ہے کہ بنوں کے عوام کے مسائل کا حل میری اولین ترجیح ہے اور میں نے ہمیشہ ہر فورم پر بنوں کے عوام اور ان کے حقوق کی ترجمانی کی ہے یہ وقت کسی پر تنقید یا سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا نہیں بلکہ خالصتاً عوامی خدمت اور قومی یکجہتی کا ہے ہمیں ذاتی مفادات، رنگ، نسل اور سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر صرف قوم کی فلاح کیلئے کام کرنا ہوگااُنہوں نے کہا کہ امن و امان کا مسئلہ صرف خیبر پختونخوا یا بنوں کا نہیں بلکہ یہ ہم سب کا مشترکہ ہے ہمیں تنقید سے ہٹ کر مشترکہ جدوجہد کے ذریعے اپنے علاقے کو ترقی، خوشحالی اور امن کا گہوارہ بنانا ہوگا اُنہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ علی آمین خان گنڈا پور کی قیادت میں صوبے میں امن و امان کے قیام اور عوامی مسائل کے حل کیلئے پرعزم ہے،ہماری کوشش ہے کہ خیبر پختونخوا کو ایک پُرامن، خوشحال اور مثالی صوبہ بنایا جائے اور اس مقصد کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں اُنہوں نے مزید کہا کہ بنوں کے مشران پر انہیں مکمل اعتماد ہے اور وہ میرے دست و بازو بن کر علاقے کی ترقی اور عوامی حقوق کے تحفظ کیلئے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں اور رہیں گے اُنہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ کھینچا تانی، الزام تراشی اور نفرت پر مبنی سیاست سے دور رہ کر صرف اور صرف خدمت، اتحاد اور ترقی کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ ہمارے دفتر کے دروازے ہر وقت عوام اور پارٹی کارکنان کے لیے کھلے ہیں دفتر آنے والے شہریوں کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے اور اسی وژن کے تحت ان کے دفتر میں روزانہ کی بنیاد پر عوامی ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ شہریوں کی شکایات اور مسائل کو نہ صرف سنجیدگی سے سنا جا رہا ہے بلکہ ان کے حل کے لیے تمام دستیاب اور جائز وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے اپنے دفتر پشاور میں عوام اور پی ٹی آئی کارکنان سے ملاقاتوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا صوبائی وزیر فضل حکیم خان کا کہنا تھا کہ عوام اور پی ٹی آئی کارکنان ہماری اصل طاقت ہیں ہر شہری و کارکن کی عزت ہماری اولین ترجیح ہے اور ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں اور پارٹی کا منشور ہر سطح پر عوامی فلاح، شفاف حکمرانی اور مقامی ترقی کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکن صرف سیاسی نمائندے نہیں بلکہ عوام کے حقیقی خادم ہیں جو دن رات اپنے علاقوں کی ترقی، نوجوانوں کی بہتری، اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں۔ فضل حکیم خان نے واضح کیا کہ عوامی خدمت ان کی سیاست کا محور ہے اور وہ ہر لمحہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں ہیں انہوں نے کہا کہ ہم عوام کے خادم ہیں اور میرا جینا مرنا عوام کے ساتھ ہیں فضل حکیم خان نے مزید کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے جامع اقدامات اٹھا رہی ہے اور ترقیاتی منصوبوں کو شفافیت اور دیانتداری کے ساتھ مکمل کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی تعمیر و ترقی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور انشائاللہ عوام کی دعاؤں اور حمایت سے ہم اپنے وعدے پورے کریں گے۔
بجلی کے مسائل کے حل کے لئے صوابی کے عوامی نمائندوں کی پیسکو چیف سے ملاقات۔ پیسکو چیف کی جانب سے مسائل کے حل کی یقین دہانی
صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تور ڈھیر، ممبر قومی اسمبلی شہرام خان ترکئی اور ممبر صوبائی اسمبلی مرتضٰی خان ترکئی نے پیسکو چیف سے ملاقات کی اور ضلع صوابی کے بجلی مسائل بارے ا نھیں آگاہ کیا۔ وفد نے پیسکو چیف کو صوابی میں کم ولٹیج،ناروا لوڈ شیڈنگ اور ٹرانسفارمرز کی مرمت و دستیابی بشمول ضلع بھر میں پولز اور کیبلز کی سپلائی یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر اور خصوصاً صوابی میں عید کے دنوں میں لوڈ شیڈنگ پر قابو پایا جائے اور صوابی کے بجلی سے متعلق دیگر مسائل کے حل کے لئے بھی عملی اقدامات کئے جائیں۔ وفد نے جہانگیرہ، مانکی اورجلبئی فیڈرز، پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی، متھرا فیڈر اور محب بانڈہ ترکئی فیڈر،پرمولی فیڈر نارنجی فیڈر کو نواں کلے، کرنل شیر کلے کو فضل آباد گریڈ اسٹیشن کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت دی گئی۔ وفد نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ 132 کے وی لائن دو بیان گرڈ سٹیشن کو رشکئی اکنامک زون کے ساتھ منسلک کیا جائے اور انبار گریڈ اسٹیشن پر کام تیز کیا جائے تاکہ صوابی کے بجلی کے جملہ مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ وفد میں شامل عوامی نمائندوں کا کہنا تھا کہ بجلی کے ان مسائل پر قابو پا نے سے صوابی کی رہائشیوں کو بھی بلاتعطل بجلی میسر ہوگی اور عوام کو لو وولٹیج اور لوڈ شیڈنگ سے ریلیف مل سکے گا۔ پیسکو چیف نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کے مطالبات پوری کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور اس ضمن میں دستیاب تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
مشیر صحت احتشام علی کا پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا دورہ – مریضوں کی عیادت، سہولیات کا جائزہ اور ریجنل سیٹلائٹ سینٹرز کے قیام کی ہدایت
مشیر صحت خیبر پختونخوا جناب احتشام علی نے آج پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (PIC) کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے ادارے میں موجود مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا، داخل مریضوں کی عیادت کی اور علاج معالجے کی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔مشیر صحت نے PIC کے ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے سے ملاقات کی اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے مریضوں سے براہ راست گفتگو کرتے ہوئے ان کے مسائل سنے اور انہیں درپیش مشکلات کے فوری ازالے کی یقین دہانی کرائی۔مشیر صحت نے ادارے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے ریجن کے دل کے مریضوں کے لیے ایک مرکزِ امید ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاج معالجے کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔اس موقع پر مشیر صحت نے ایک اہم ہدایت جاری کرتے ہوئے محکمہ صحت کے متعلقہ حکام کو کہا کہ PIC جیسے جدید طبی ادارے کی سہولیات دیگر اضلاع کے عوام تک بھی پہنچائی جائیں۔ اس مقصد کے لیے صوبے کے مختلف اضلاع میں ریجنل سیٹلائٹ سینٹرز کے قیام کا عمل جلد از جلد شروع کیا جائے تاکہ دور دراز علاقوں کے مریضوں کو بھی بروقت علاج میسر آ سکے۔دورے کے دوران انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور دیگر سینئر افسران نے مشیر صحت کو ادارے کی کارکردگی، درپیش مسائل اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔اختتام پر مشیر صحت نے بتایا کہ“ان کی ترجیح عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ دل کے امراض سے بچاؤ اور بروقت علاج کے لیے پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی جیسے اداروں کا کردار نہایت اہم ہے۔ ہم اسے مزید مضبوط بنائیں گے اور اس کے دائرہ کار کو پورے صوبے تک وسعت دیں گے۔
وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کی نگرانی میں کلپانی ندی میں لاپتہ نوجوان کی تلاش کیلئے ریسکیو آپریشن جاری
خیبرپختونخوا کے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے مسلسل دوسرے روز بھی ویلج کونسل غلہ ڈھیرمیں کلپانی ندی میں ڈوبنے والے نوجوان شعیب کی تلاش کے لیے جاری ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی کی۔وزیر خوراک موقع پر موجود رہ کر مختلف ریسکیو ٹیموں، غوطہ خوروں اور کشتیوں کے ذریعے جاری سرچ آپریشن کا باریک بینی سے جائزہ لیتے رہے۔ خانپور سے آئی خصوصی غوطہ خور ٹیم کے علاوہ مقامی غوطہ خور بھی بھرپور جذبے اور انتھک محنت کے ساتھ نوجوان کی تلاش میں مصروف ہیں۔اس موقع پر ظاہر شاہ طورو نے مردان و نوشہرہ انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور مقامی رضاکاروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پورے عزم، ہم آہنگی اور خلوص کے ساتھ یہ ریسکیو آپریشن جاری ہے، انہوں نے کہا کہ وہ خود اس افسوسناک واقعے پر دل گرفتہ ہیں اور نوجوان کی بازیابی تک ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی جاری رکھیں گے۔ظاہر شاہ طورو نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ نوجوان کی تلاش کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ متاثرہ خاندان کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ریسکیو 1122 کے ٹیم لیڈر نے وزیر خوراک کو اب تک کی پیش رفت سے تفصیلاً آگاہ کیا۔
بڑے فصلوں کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے ملک اور کسانوں کا 2800 ارب روپے کا اس سال نقصان ہوگا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
بڑے فصلوں کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے ملک اور کسانوں کا 2800 ارب روپے کا اس سال نقصان ہوگا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
وفاقی حکومت نے پی ایس ڈی پی میں صرف ایک ہزار ارب روپے رکھے ہیں جس میں خیبرپختونخوا کیلئے صرف 54 کروڑ روپے رکھے ہیں اور خیبرپختونخوا کیلئے کوئی ترقیاتی منصوبہ بھی نہیں ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
حکومت کے مطابق ترقی کی شرح اگلے سال 4.2 فیصد ہوجائے گی جبکہ مہنگائی 7.5 فیصد تک بڑھ جائے گی اسی طرح برامدات میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوگا جبکہ دارمدار بڑھ جائے گی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
خیبر پختونخوا نے اپنے فنڈز سے ضم اضلاع کو 20 ارب روپے ترقیاتی اخراجات میں جبکہ تقریبا 40 ارب روپے جاری اخراجات میں دیے ہیں جو وفاق خیبرپختونخوا کو نہیں دے رہے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے خزانہ و بین الصوبائی رابطہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے مطابق 15 فیصد بڑے فصلوں کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے جس میں صرف 30 فیصد کپاس کی پیداوار میں کمی شامل ہے جس کی درامد پر پانچ ارب ڈالر اضافی خرچ ہوں گے اس طرح گندم کی پیداوار میں کمی کے باعث تین ارب ڈالر کی گندم کی درامدات پر خرچ ہونگیصرف زراعت میں کمی کی وجہ سے پاکستان کو 10 ارب ڈالر کی امپورٹ کرنی پڑے گی اور یہ 10 ارب ڈالر ملک اور کسانوں کا نقصان ہے جس کا مطلب ہے کہ ملک اور کسانوں کا 2800 ارب روپے کا اس سال نقصان ہوگا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ مہنگائی کے بارے میں حکومت دعوی کر رہی تھی کہ مہنگائی 4.5 فیصد یا 4.7 فیصد ہے اب حکومت خود کہہ رہی ہے کہ اگلے سال مہنگائی کی شرح 7.5 فیصد پر جائے گی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ پاکستانیوں کے لیے بری خبر یہ ہے کہ اس سال پاکستان کی جی ڈی پی ایک لاکھ 14 ہزار ارب تھی اور اگلے سال ایک لاکھ 29 ہزار ارب روپے ہو جائے گی جبکہ اس میں ترقیاتی اخراجات کیلئے صرف ایک ہزار ارب روپے رکھے گئے ہیں اور اس سال وفاقی حکومت کوئی نیا منصوبہ نہیں دے رہی جبکہ صوبوں کو بھی کوئی نیا منصوبہ نہیں دے رہے ہیں۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ اس ایک ہزار ترقیاتی اخراجات میں 120 ارب روپے جو پیٹرول میں ریلیف نہیں دیا گیا تھا جس سے بلوچستان میں سڑک بنا رہے ہیں شامل ہے جس کا مطلب ہے کہ اپ نے ایک سال میں صرف 880 ارب روپے کی پی ایس ڈی پی رکھی ہے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ اڑان پاکستان پروگرام میں سپورٹس پانی ماحولیات کے بارے میں بات ہوتی تھی اس میں بھی ہائیر ایجوکیشن کا بجٹ 65 ارب روپے مختص کیا گیا تھا جس کو کاٹ کر صرف 45 ارب روپے کر دیا گیا ہے جس پر صوبوں کے ساتھ کوئی مشاورت نہیں کی گئی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت نے کہا تھا کہ جن صوبوں کے منصوبے 75 فیصد سے زیادہ مکمل ہو جائیں گے ان کو ترجیح دی جائے گی اس میں ہماری صوبے کے دو سڑک جو تقریبا نویں فیصد مکمل ہوئے ہیں کے بعد ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے جو سراسر نا انصافی ہے جس کا میں نے حکومت کو اج کے اجلاس میں بتا بھی دیا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ جب حکومت خود کہہ رہی ہے کہ مہنگائی ایک فیصد پر لائے ہیں تو شرح سود 11 فیصد کیوں ہے اس سال سود کی ادائیگی میں دو سے دو ڈھائی ہزار ارب روپے کی بچت ہونی چاہیے جس کو اپ ترقیاتی منصوبوں پر خرچ نہیں کر رہے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی کے مطابق 118 ترقیاتی منصوبوں کو ختم کر دیا گیا ہے اور حکومت کہہ رہی ہے کہ ترقی کی شرح اگلے سال 4.2 فیصد ہوجائے گی جبکہ مہنگائی 7.5 فیصد ہو جائے گی اسی طرح برامدات میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوگا جبکہ دارمدار بڑھ جائے گی اور 39.5 ارب روپے ترسیلات زر کا تہمینہ رکھا گیا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ایک ہزار ارب روپے کی پی ایس ڈی پی میں خیبر پختونخوا کو صرف 54 کروڑ روپے ملیں گے جبکہ بلوچستان کو 120 ارب روپے کے علاوہ 20 ارب روپے دے رہے ہیں اس طرح سندھ کو 47.1 ارب روپے مختص کیے ہیں اسی طرح گلگت بلتستان اور کشمیر کے لیے 37 ارب روپے اور 45 ارب روپے رکھے ہیں جبکہ ضم اضلاع کے لیے صرف 70 ارب روپے رکھے ہیں اور رواں سال ضم اضلاع کو 70 ارب روپے میں سے صرف 34 ارب روپے ملے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اس سال پنجاب کا ترقیاتی بجٹ ہزار ارب روپے جبکہ سندھ کا 1100 روپے کا بتایا جا رہا ہے جبکہ خیبرپختونخوا کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 433 ارب روپے ہوگا وفاق خیبر پختونخواہ کو ضم اضلاع کا حصہ نہیں دے رہا جو ناانصافی ہے۔ خیبر پختونخوا نے اپنے فنڈز سے ضم اضلاع کو 20 ارب روپے ترقیاتی اخراجات میں جبکہ تقریبا 40 ارب روپے جاری اخراجات میں دیے ہیں جو وفاق خیبرپختونخوا کو نہیں دے رہے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ کہ رواں سال خیبر پختونخوا کو وفاق سے 300 ارب روپے کم ملیں گے صرف رواں سال 42 ارب روپے این ایف سی کے مد میں خیبر پختونخوا کو کم ملے ہیں وفاق نے ٹیکس کے مد میں مئی کے مہینے تک ایک ہزار ارب روپے کم جمع کیے ہیں جس میں خیبرپختونخوا کو اس سال 90 ارب روپے کم ملیں گے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت سابقہ فاٹا ضم اضلاع کے لیے این ایف سی کا ایوارڈ جاری کریں اور جو آبادی کے حساب سے حصہ بنتا ہے وہ فل الفور مہیا کریں اگر نہیں دے رہے تو جو بجٹ میں اعلان کرتے ہیں کم از کم وہ تو فراہم کیا کریں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور ضم اضلاع میں ان کی حکومت نہیں بنی ہے اس لیے ان کو فنڈز فراہم نہیں کرتے جو نا انصافی پر مبنی ہے جبکہ خیبرپختونخوا نے ائی ایم ایف شرائط بھی پورے کیے ہیں اور حکومت خود اس کا اعتراف بھی کر رہی ہے۔
